بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 187 hadith
محمد (بن سلام) نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدہ (بن سلیمان) نے ہمیں خبر دی۔ عبیداللہ بن عمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مونچھوں کو بالکل صاف کرو اور داڑھی کو بڑھنے دو۔
معلّی بن اسد نے ہم سے بیان کیا کہ وہیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب (سختیانی) سے، ایوب نے محمد بن سیرین سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انسؓ سے پوچھا: کیا نبی ﷺ نے خضاب لگایا؟ انہوں نے کہا: آپؐ کے بال سفید نہیں ہوئے مگر تھوڑے سے۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ثابت سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت انسؓ سے نبی ﷺ کے خضاب لگوانے کے متعلق پوچھا گیا۔ انہوں نے کہا: یہاں تک نوبت نہیں پہنچی تھی کہ خضاب لگواتے۔ اگر میں چاہتا تو آپؐ کے وہ چند سفید بال جو آپؐ کی داڑھی میں تھے گن لیتا۔
مالک بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ اسرائیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عثمان بن عبداللہ بن موہب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: مجھے میرے گھر والوں نے حضرت اُم سلمہؓ کی طرف پانی کا ایک پیالہ دے کر بھیجا اور اسرائیل راوی نے تین انگلیاں بند کر لیں۔ اس پیالی میں نبی ﷺ کے بالوں میں سے کچھ بال تھے اور جب کسی انسان کو نظر لگ جاتی یا کچھ ہو جاتا تو وہ پانی کا برتن حضرت اُم سلمہؓ کے پاس بھیج دیتا۔ عثمان کہتے تھے کہ میں نے اس پیالی میں جھانک کر دیکھا تو میں نے اس میں کچھ سرخ بال دیکھے۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ سَلّام (بن ابی مطیع) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عثمان بن عبداللہ بن موہب سے روایت کی انہوں نے کہا: میں حضرت اُم سلمہؓ کے پاس گیا تو وہ نبی ﷺ کے بالوں میں سے کچھ بال ہمارے پاس نکال کر لائیں جو خضاب سے رنگے ہوئے تھے۔
(عبداللہ بن زبیر) حمیدی نے ہمیں بتایا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہم سے بیان کیا کہ زہری نے ہمیں بتایا، زہری نے ابوسلمہ اور سلیمان بن یسار سے ان دونوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: یہود و نصاریٰ خضاب نہیں لگاتے تم ان کے خلاف کرو۔
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک بن انس نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے، ربیعہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے ان سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نہ تو بہت لمبے تھے اور نہ ہی بہت چھوٹے اور نہ ہی بہت زیادہ سفید تھے اور نہ ہی گندم گوں تھے اور نہ آپؐ کے بال بہت ہی کنڈلی دار گنگھریالے تھے اور نہ ہی بالکل سیدھے۔ اللہ نے آپؐ کو چالیس برس ختم ہونے پر مبعوث فرمایا اور آپؐ مکہ میں دس سال رہے اور مدینہ میں بھی دس سال رہے اور اللہ نے آپؐ کو ساٹھ برس کے ختم ہونے پر وفات دی اور اس وقت آپؐ کے سر اور آپؐ کی داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہ تھے۔
مالک بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ اسرائیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے کہا میں نے حضرت براءؓ سے سنا وہ کہتے تھے۔ میں نے کسی کو سرخ جوڑے میں نبی ﷺ سے بڑھ کر خوبصورت نہ دیکھا۔ (امام بخاریؒ نے کہا:) میرے بعض ساتھیوں نے مالک (بن اسماعیل) سے یوں نقل کیا ہے کہ آپؐ کے بال کندھوں کے قریب تک پہنچتے تھے۔ ابواسحاق نے کہا: میں نے حضرت براءؓ کو یہ حدیث کئی بار بیان کرتے سنا جب بھی وہ اس حدیث کو بیان کرتے تو وہ ضرور ہنستے۔ (ابواسحاق کی طرح) شعبہ نے بھی یہی روایت کیا کہ آپؐ کے بال آپؐ کے کانوں کی لَو تک پہنچتے تھے۔
عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آج رات میں نے اپنے آپؐ کو (خواب میں) کعبہ کے پاس دیکھا تو میں نے (وہاں) ایک گندم گوں شخص دیکھا ایسا خوبصورت کہ جیسے تم گندم گوں مردوں میں سے نہایت خوبصورت انسان کو دیکھتے ہو۔ اس کے بال ایسے عمدہ تھے کہ جو تم عمدہ سے عمدہ بال دیکھتے ہو۔ اس نے ان کو کنگھی کی ہوئی تھی اور ان سے پانی ٹپک رہا تھا۔ وہ دو آدمیوں کا سہارا لیے ہوئے تھا یا (کہا) دو آدمیوں کے کندھوں پر سہارا لئے تھا بیت اللہ کا طواف کر رہا ہے۔ میں نے پوچھا: کون ہے ؟ تو کسی نے کہا: مسیح ابن مریم ہے۔ اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک اور شخص ہے جس کے بال سخت گھنگھریالے ہیں داہنی آنکھ سے کانا ہے ایسے جیسے پھولا ہوا انگور۔ میں نے پوچھا: کون ہے؟ تو کسی نے کہا: مسیح دجال ہے۔