بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 525 hadith
۳۵۔ باب غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ
35. The Ghazwa of Al-Hudaibiya
حسن بن خلف (واسطی) نے ہم سے بیان کیا، انہوں نے کہا: اسحاق بن یوسف نے ہمیں بتایا، انہوں نے ابوبشر ورقاء (بن عمر یشکری) سے، ابوبشر نے (عبداللہ) بن ابی نجیح سے، ابن ابی نجیح نے مجاہد سے روایت کی، انہوں نے کہا: عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے مجھے بتایا کہ حضرت کعب بن عجرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو دیکھا کہ ان کے سر کی جوئیں اُن کے منہ پر گر رہی تھیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ کیا تمہیں یہ جوئیں تکلیف دے رہی ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سر منڈوا لیں اور وہ اس وقت حدیبیہ میں تھے۔ آپؐ نے ان کو کھول کر نہیں بتایا تھا کہ وہ حدیبیہ ہی میں احرام کی حالت سے آزاد ہو جائیں گے اور ان کی خواہش تھی کہ مکہ میں داخل ہوں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فدیہ کا حکم نازل کیا۔ اس لئے رسول اللہ ﷺ نے حضرت کعبؓ سے فرمایا کہ وہ ایک فرق اناج چھ مسکینوں کو کھانے کے لئے دیں یا ایک بکری کی قربانی کریں یا تین روزے رکھیں۔
اسماعیل بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے زید بن اسلم سے، زید نے اپنے باپ سے روایت کی، کہتے تھے: میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ بازار گیا۔ حضرت عمرؓ سے ایک جوان عورت پیچھے سے آ ملی اور کہنے لگی: امیر المومنین! میرا خاوند فوت ہو گیا ہے اور چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ گیا ہے، اللہ کی قسم! بکری کے پائے بھی انہیں نصیب نہیں، نہ ان کی کوئی کھیتی ہے اور نہ دودھیل جانور اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں ان کو لگڑ بگڑ (یعنی قحط سالی) نہ کھا جائے اور میں خفاف بن ایماء غفاریؓ کی بیٹی ہوں اور میرے باپ حدیبیہ میں نبی ﷺ کے ساتھ موجود تھے۔ حضرت عمرؓ یہ سن کر ٹھہر گئے اور آگے نہیں چلے، کہا: واہ واہ بہت نزدیک کا تعلق ہے۔ اس کے بعد حضرت عمرؓ نے واپس جا کر ایک مضبوط اونٹ لیا جو گھر میں بندھا تھا اور دو بوریاں اناج سے بھریں اور ان پر لادیں اور ان کے درمیان (سال بھر کے) خرچ کے لئے مال اور کپڑے بھی۔ پھر اس اونٹ کی نکیل اس عورت کے ہاتھ میں دے دی اور کہا: اسے لے جاؤ، یہ ختم نہیں ہوگا کہ اللہ تمہیں اور دے گا۔ ایک شخص کہنے لگا: امیر المومنین! آپؓ نے اس کو بہت دے دیا ہے۔ حضرت عمرؓ نے کہا: تیری ماں تجھے کھوئے! اللہ کی قسم! میں تو اس کے باپ اور اس کے بھائی کو اَب بھی دیکھ رہا ہوں کہ انہوں نے عرصہ تک ایک قلعہ کا محاصرہ کئے رکھا ہے جسے انہوں نے آخر فتح کر لیا۔ پھر اس کے بعد صبح کو ہم ان دونوں کے حصے اپنے درمیان تقسیم کرنے لگے۔ (یعنی وہ قلعہ ان دونوں نے فتح کیا تھا جس کی غنیمت کل مسلمانوں کو ملی، گویا ہم نے ان کے حصہ میں سے بانٹا۔)
اسماعیل بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے زید بن اسلم سے، زید نے اپنے باپ سے روایت کی، کہتے تھے: میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ بازار گیا۔ حضرت عمرؓ سے ایک جوان عورت پیچھے سے آ ملی اور کہنے لگی: امیر المومنین! میرا خاوند فوت ہوگیا ہے اور چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ گیا ہے، اللہ کی قسم! بکری کے پائے بھی انہیں نصیب نہیں، نہ ان کی کوئی کھیتی ہے اور نہ دودھیل جانور اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں ان کو لگڑ بگڑ (یعنی قحط سالی) نہ کھا جائے اور میں خفاف بن ایماء غف غفاریؓ کی بیٹی ہوں اور میرے باپ حدیبیہ میں نبی ﷺ کے ساتھ موجود تھے۔ حضرت عمرؓ یہ سن کر ٹھہر گئے اور آگے نہیں چلے، کہا: واہ واہ بہت نزدیک کا تعلق ہے۔ اس کے بعد حضرت عمرؓ نے واپس جا کر ایک مضبوط اونٹ لیا جو گھر میں بندھا تھا اور دو بوریاں اناج سے بھریں اور ان پر لادیں اور ان کے درمیان (سال بھر کے) خرچ کے لئے مال اور کپڑے بھی۔ پھر اس اونٹ کی نکیل اس عورت کے ہاتھ میں دے دی اور کہا: اسے لے جاؤ، یہ ختم نہیں ہوگا کہ اللہ تمہیں اور دے گا۔ ایک شخص کہنے لگا: امیر المومنین! آپؓ نے اس کو بہت دے دیا ہے۔ حضرت عمرؓ نے کہا: تیری ماں تجھے کھوئے! اللہ کی قسم! میں تو اس کے باپ اور اس کے بھائی کو اَب بھی دیکھ رہا ہوں کہ انہوں نے عرصہ تک ایک قلعہ کا محاصرہ کئے رکھا ہے جسے انہوں نے آخر فتح کر لیا۔ پھر اس کے بعد صبح کو ہم ان دونوں کے حصے اپنے درمیان تقسیم کرنے لگے۔ (یعنی وہ قلعہ ان دونوں نے فتح کیا تھا جس کی غنیمت کل مسلمانوں کو ملی، گویا ہم نے ان کے حصہ میں سے بانٹا۔)
محمد بن رافع نے ہمیں بتایا کہ شبابہ بن سوار ابوعمرو فزاری نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے سعید بن مسیب سے، سعید نے اپنے باپؓ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے وہ درخت دیکھا تھا (جس کے نیچے بیعت رضوان لی تھی۔) پھر کچھ مدت بعد وہاں گیا تو میں اسے پہچان نہ سکا۔ محمود (بن غیلان) نے (اپنی روایت میں) یوں کہا ہے: کچھ مدت بعد میں وہ درخت بھول گیا۔
محمود (بن غیلان) نے ہم سے بیان کیا کہ عبیداللہ (بن موسیٰ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسرائیل (بن یونس) سے، اسرائیل نے طارق بن عبدالرحمٰن سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں حج کے لئے روانہ ہوگیا اور راستے میں بعض لوگوں کے پاس سے گزرا جو نماز پڑھ رہے تھے، میں نے پوچھا: یہ مسجد کیسی ہے؟ کہنے لگے: یہ اس درخت کی جگہ ہے جس کے نیچے رسول اللہ ﷺ نے بیعت رضوان لی تھی۔ یہ سن کر میں سعید بن مسیب کے پاس آیا اور ان سے بیان کیا، سعید نے کہا: میرے باپؓ نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ وہ بھی ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے اس درخت کے نیچے رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی تھی، کہتے تھے: جب ہم اگلے سال نکلے تو ہم وہ جگہ بھول گئے اور پہچان نہ سکے۔ سعید کہتے تھے: حضرت محمد ﷺ کے صحابہ تو اسے پہچان نہ سکے اور تم نے اس کو پہچان لیا (اور اس جگہ پر مسجد بنا لی) تم تو پھر زیادہ جاننے والے ہو۔
موسیٰ (بن اسماعیل) نے ہمیں بتایا کہ ابوعوانہ نے ہم سے بیان کیا کہ طارق (بن عبدالرحمٰن) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعید بن مسیب سے، سعید نے اپنے باپؓ سے روایت کی کہ وہ بھی ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی۔ ہم دوسرے سال دیکھنے کے لئے گئے تو وہ ہمیں نظر نہ آیا۔
آدم بن ابی ایاس نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا کہ عمرو بن مرہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیؓ سے سنا، وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے اس درخت کے نیچے آنحضرت ﷺ کی بیعت کی تھی، کہتے تھے: نبی ﷺ کے پاس جب لوگ کچھ صدقہ لاتے تو آپؐ یوں دعا کرتے: اے اللہ! ان کو اپنی خاص رحمت سے نواز۔ چنانچہ میرے باپ اپنا صدقہ لے کر آنحضرت ﷺ کے پاس آئے تو آپؐ نے دعا کی: اے اللہ! ابواوفیٰ کی اولاد کو رحمت خاصہ سے نواز۔
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے بھائی (عبدالحمید) سے، انہوں نے سلیمان (بن بلال) سے، سلیمان نے عمرو بن یحيٰ (مازنی) سے، عمرو نے عباد بن تمیم سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب حرہ کا واقعہ ہوا اور لوگ عبداللہ بن حنظلہ کی بیعت کر رہے تھے تو حضرت (عبداللہ) بن زید (انصاری مازنیؓ) نے پوچھا: ابن حنظلہ لوگوں سے کس بات پر بیعت لے رہے ہیں؟ انہیں بتایا گیا: موت پر۔ وہ کہنے لگے: میں رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی سے بھی اس بات پر بیعت نہیں کروں گا اور وہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ حدیبیہ میں شریک تھے۔
یحيٰ بن یعلیٰ محاربی نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میرے باپ نے مجھے بتایا کہ ایاس بن سلمہ بن اکوع نے ہم سے بیان کیا، کہتے تھے: میرے والد نے مجھ سے بیان کیا اور وہ اُن لوگوں میں سے تھے جنہوں نے درخت کے نیچے آنحضرت ﷺ کی بیعت کی تھی، کہتے تھے: ہم نبی ﷺ کے ساتھ جمعہ پڑھا کرتے تھے۔ پھر ایسے وقت لوٹ جاتے جب دیواروں کا سایہ ایسا نہ ہوتا کہ ان کے سایہ سے ہم فائدہ اُٹھاتے۔