بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 161 hadith
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک بن انس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے، ربیعہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے ان سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نہ تو بہت لمبے تھے اور نہ ہی بہت چھوٹے اور نہ ہی بالکل سفید تھے اور نہ ہی گندمی اور نہ سخت گھنگریالے بال والے جو بالکل مڑے ہوتے ہیں اور نہ ہی بالکل سیدھے بالوں والے۔ اللہ نے آپؐ کو چالیس برس کے اخیر میں مبعوث فرمایا اور آپؐ مکہ میں دس سال رہے اور مدینہ میں بھی دس سال رہے۔ پھر اللہ نے آپؐ کو وفات دی اور اس وقت آپؐ کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہ تھے۔
احمد بن سعید ابو عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ اسحاق بن منصور نے ہمیں بتایا کہ ابراہیم بن یوسف نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے ابو اسحاق سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت براءؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ چہرے کی بناوٹ میں سب لوگوں سے زیادہ خوبصورت تھے اور اخلاق میں بھی سب سے زیادہ اچھے تھے۔ نہ ہی بہت لمبے اور نہ ہی بہت چھوٹے۔
ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انسؓ سے پوچھا: کیا نبی ﷺ نے خضاب لگایا؟ تو انہوں نے کہا: نہیں آپؐ کی دونوں کنپٹیوں میں تھوڑی سی تو سفیدی تھی۔
حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ میانہ قد تھے، آپؐ کے دونوں مونڈھوں میں بہت فاصلہ تھا۔ آپؐ کے بال آپؐ کے دونوں کانوں کی لَو تک پہنچتے تھے۔ میں نے آپؐ کو سرخ جوڑا پہنے ہوئے دیکھا۔ آپؐ سے بڑھ کر خوبصورت میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔ نیز یوسف بن ابی اسحاق نے بھی اپنے باپ سے یہ حدیث نقل کی۔ انہوں نے یوں کہا: آپؐ کے (بال) مونڈھوں تک پہنچتے تھے۔
ابونُعَیم نے ہم سے بیان کیا کہ زُہیر نے ہمیں بتایا کہ ابواسحاق سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: حضرت براء ؓ سے پوچھا گیا: کیا نبی ﷺ کا چہرہ مبارک تلوار کی طرح (لمبا) تھا۔ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ چاند کی طرح (گول اور چمکدار۔)
حسن بن منصور ابوعلی نے ہم سے بیان کیا کہ حجاج بن محمد اعور نے مصیصہ (شہر) میں ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ حکم سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوجحیفہؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ دوپہر کے وقت (سخت گرمی میں) بطحاء کی طرف نکلے۔ آپؐ نے وضو کیا پھر ظہر کی دو رکعتیں پڑھیں اور عصر کی دو رکعتیں پڑھیں اور آپؐ کے سامنے برچھی (سُترہ کے طور پر) گڑی ہوئی تھی۔ شعبہ نے کہا: اور عون نے اپنے والد حضرت ابوجحیفہؓ سے اس میں یہ زائد بیان کیا کہ اس برچھی کے ورے عورت بھی گذرتی تھی۔ لوگ کھڑے تھے اور آپؐ کے ہاتھوں کو پکڑتے اور (برکت کے لئے) اپنے چہروں پر ہاتھ پھیرتے۔ حضرت ابوجحیفہؓ کہتے تھے: میں نے آپؐ کا ہاتھ پکڑا اور میں نے اس کو اپنے چہرے پر رکھا تو یوں محسوس ہوا کہ وہ برف سے بھی زیادہ ٹھنڈا اور مشک سے زیادہ خوشبودار تھا۔
عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا کہ یونس نے زُہری سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: عبیداللہ بن عبداللہ نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور بہت سخاوت جو آپؐ کرتے تو رمضان میں کرتے جب جبرئیل آپؐ سے ملتے۔ جبرئیل علیہ السلام رمضان میں ہر رات کو آپؐ سے ملا کرتے اور آپؐ کے ساتھ قرآن کا دَور کرتے۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ بھلائی پہنچانے میں تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہوتے۔
یحيٰ بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا کہ ابن جریج نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ابن شہاب نے مجھے خبر دی۔ انہوں نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس خوشی خوشی آئے۔ آپؐ کے چہرہ کے خدوخال چمک رہے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: تم نے سنا نہیں کہ مدلجی نے زیدؓ اور اسامہؓ کے متعلق کیا کہا ہے! اس نے ان دونوں کے قدم دیکھے اور کہا: یہ پاؤں تو ایک جیسے ہیں۔
یحيٰ بن بُکَیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب سے روایت کی کہ عبداللہ بن کعب نے کہا: میں نے حضرت کعب بن مالکؓ سے سنا۔ وہ اس وقت کا واقعہ بیان کرتے تھے جب غزوۂ تبوک سے وہ پیچھے رہ گئے تھے، کہتے تھے: جب میں نے رسول اللہ ﷺ کو السلام علیکم کہا تو اس وقت آپؐ کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا اور رسول اللہ ﷺ جب خوش ہوتے تھے تو آپؐ کا چہرہ چمکتا تھا، ایسا کہ گویا وہ چاند کا ایک ٹکڑا ہے اور ہم اس سے آپؐ کی خوشی پہچان لیتے تھے۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ یعقوب بن عبدالرحمٰن نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن ابی عمرو) سے، عمرو نے سعید مقبری سے، سعید نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے بنی آدم کی بہترین صدیوں میں نسلاً بعد نسلٍ مبعوث کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ میں اس صدی میں ہوں جس میں کہ مَیں نے ہونا تھا۔