بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 161 hadith
محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے سالم (بن ابی الجعد) سے، سالم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے، حضرت جابرؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: میرے نام پر نام رکھو مگر میری کنیت پر کنیت نہ رکھو۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے ابن سیرین سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا: میرے نام پر نام رکھو مگر میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھو۔
اسحاق بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ فضل بن موسیٰ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے جُعَید بن عبدالرحمٰن سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) میں نے حضرت سائب بن یزیدؓ کو چورانوے برس کی عمر میں دیکھا، اچھی مضبوط جسمانی حالت میں۔ حضرت سائبؓ کہتے تھے: میں جانتا ہوں کہ جو میرے حواس، کان اور آنکھ اب تک کام دیتے ہیں، یہ رسول اللہ ﷺ کی دعا کی برکت سے ہے۔ میری خالہ مجھ کو آپؐ کے پاس لے جاکر کہنے لگی: یا رسول اللہ! یہ میرا بھانجا بیمار ہے اس کے لئے دعا کیجیے؛ تو آپ ﷺ نے میرے لئے دعا کی۔
محمد بن عبیداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حاتم (بن اسماعیل) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے جُعَید بن عبدالرحمٰن سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت سائب بن یزیدؓ سے سنا۔ انہوں نے کہا: میری خالہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے گئی اور (آپؐ سے) کہا: یا رسول اللہ! میری بہن کا بیٹا بیمار ہے۔ آپؐ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لئے برکت کی دعا کی اور آپؐ نے وضو کیا تو میں نے آپؐ کے وضو کے (بچے ہوئے) پانی سے پیا۔ پھر میں آپؐ کی پیٹھ کے پیچھے کھڑا ہوا تو میں نے آپؐ کے دونوں مونڈھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی۔ عبیداللہ کے بیٹے نے کہا: حُجَل گھوڑے کی دونوں آنکھوں کے درمیان پیشانی پر سفیدی کو بھی کہتے ہیں جس سے لفظ حُجْلَہ ہے۔ ابراہیم بن حمزہ نے کہا: (مہر نبوت) چھپر کھٹ کی گھنڈی کی مانند تھی۔ (یا چکور کے انڈے کے برابر تھی)۔
ابوعاصم نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے عمر بن سعید بن ابی حصین سے، عمر نے ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے حضرت عقبہ بن حارثؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عصر کی نماز پڑھائی۔ پھر باہر گئے پیدل چلنے لگے تو انہوں نے حضرت حسنؓ کو بچوں کے ساتھ کھیلتے دیکھا۔ انہوں نے ان کو اپنے کندھے پر اُٹھا لیا اور کہنے لگے: میرا باپ آپؓ پر قربان! آپؓ نبی ﷺ کے مشابہ ہیں، علیؓ کے مشابہ نہیں۔ اور حضرت علیؓ ہنس رہے تھے۔
احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ زُہیر نے ہمیں بتایا کہ اسماعیل (بن ابی خالد) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: میں نے نبی ﷺ کو دیکھا اور حضرت حسنؓ آپؐ کے مشابہ تھے۔
عمرو بن علی (فلاس) نے ہم سے بیان کیا کہ (محمد) بن فضیل نے ہمیں بتایا کہ اسماعیل بن ابی خالد نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے نبی ﷺ کو دیکھا اور حضرت حسن بن علی علیہما السلام آپؐ کے مشابہ تھے۔ (اسماعیل کہتے تھے:) میں نے حضرت ابوجحیفہؓ سے کہا: آپؓ مجھ سے آنحضرت ﷺ کا حلیہ بیان کریں۔ تو انہوں نے کہا: آپؐ سفید رنگ تھے۔ آپؐ کے بال کچھ سفید ہوگئے تھے۔ اور نبی ﷺ نے تیرہ اونٹ ہمیں دینے کے لئے فرمایا۔ کہتے تھے: تو نبی ﷺ وفات پا گئے پیشتر اس کے کہ ہم یہ اونٹ لیتے۔
عبداللہ بن رجاء نے ہم سے بیان کیا کہ اسرائیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے حضرت وہب (بن عبداللہ) ابوجحیفہ سوائیؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ کو دیکھا اور میں نے آپؐ کے ریش بچہ میں کچھ سفیدی دیکھی۔
عصام بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ حریز بن عثمان نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن بُسرؓ سے جو کہ نبی ﷺ کے صحابی تھے، کہا کہ کیا آپؓ نے نبی ﷺ کو دیکھا تھا، آپؐ بوڑھے تھے؟ انہوں نے کہا کہ آپؐ کے ریش بچہ میں کچھ بال سفید تھے۔
ابن بُکَیر نے ہم سے بیان کیا، کہا: لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے خالد (بن یزید) سے، خالد نے سعید بن ابی ہلال سے، سعید نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالکؓ سے سنا۔ وہ نبی ﷺ کا حلیہ بیان کرتے تھے۔ انہوں نے کہا: آپؐ میانہ قد و قامت کے تھے۔ نہ بہت لمبے اور نہ بہت چھوٹے، سفید رنگ کے، نہ بالکل سفید نہ گندمی، نہ آپؐ بہت گھنگریالے بال والے تھے جو مڑے ہوئے ہوتے ہیں اور نہ ہی بالکل سیدھے بالوں والے۔ آپؐ پر اس وقت وحی نازل کی گئی کہ جب آپؐ چالیس برس کے تھے۔ آپؐ مکہ میں دس سال رہے، اس وقت بھی آپؐ پر وحی نازل ہوتی رہی اور مدینہ میں بھی دس سال رہے۔ آپؐ کی وفات ہوئی اور آپؐ کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہ تھے۔ ربیعہ (بن ابی عبدالرحمٰن) نے کہا: میں نے آپؐ کے بالوں میں سے کچھ بال دیکھے تو کیا دیکھا کہ وہ سرخ ہیں۔ میں نے پوچھا تو مجھ سے کہا گیا: خوشبو لگانے کی وجہ سے سرخ ہوگئے تھے۔