بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 43 hadith
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ زہری سے روایت ہے۔ (انہوں نے کہا:) عروہ نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: ہند بنت عتبہ بن ربیعہ آئیں۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ابوسفیان بہت بخیل آدمی ہے۔ تو کیا مجھ پر کوئی گناہ ہے اگر میں اُس کے مال سے اپنے بچوں کو کھلائوں؟ آپؐ نے فرمایا: یہ تم پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم انہیں دستور کے مطابق کھلائو۔
عبداللہ بن یوسف نے ہمیں بتایا کہ لیث نے ہم سے بیان کیا، کہا: یزید نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابوالخیر سے، ابوالخیر نے عقبہ بن عامر سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: ہم نے نبی ﷺ سے کہا: آپؐ ہمیں باہر بھیجتے ہیں اور ہم ایسے لوگوں کے پاس اترتے ہیں جو ہماری ضیافت نہیں کرتے۔ آپؐ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ آپؐ نے فرمایا: اگر تم کسی قوم کے پاس اُترو۔ پھر جو مہمان کیلئے چاہیے، اُتنا تمہارے لئے کردیں تو تم قبول کرو اور اگر نہ کریں تو پھر اُن سے مہمان کا حق لو۔
یحيٰ بن سلیمان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: ابن وہب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہتے تھے: مالک نے مجھے بتایا۔ اور یونس نے مجھے خبر دی۔ (ان دونوں نے) ابن شہاب سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے مجھے بتایا کہ حضرت ابن عباسؓ نے انہیں خبر دی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: جب اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو وفات دی تو انصار سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوئے۔ میں نے حضرت ابوبکرؓ سے کہا: ہمارے ساتھ چلیں اور ہم اُن کے پاس سقیفہ بنی ساعدہ میں گئے۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی پڑوسی اپنے پڑوسی کو اپنی دِیوار میں لکڑیاں گاڑنے سے نہ روکے۔ اس کے بعد حضرت ابوہریرہؓ کہتے تھے: مجھے کیا ہے کہ میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم اس بات سے منہ پھیرتے ہو۔ اللہ کی قسم! میں ضرور اس حدیث کو تمہارے کندھوں کے درمیان پھینکتا رہوں گا۔
محمد بن عبدالرحیم ابو يحيٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ عفان نے ہمیں خبر دی۔ حماد بن زید نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ میں ابو طلحہؓ کے گھر (ایک مجلس میں) لوگوں کا ساقی تھا اور ان دنوں ان کی شراب کھجور سے تیار ہوتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک مُنادی کو حکم دیا کہ وہ اعلان کرے۔ توجہ سے سنو! شراب حرام کی گئی ہے۔ (حضرت انسؓ) کہتے تھے: اس پر مجھے ابو طلحہؓ نے کہا: باہر نکلو اور اسے اُنڈیل دو۔ میں باہر گیا اور وہ اُنڈیل دی اور وہ مدینہ کی گلیوں میں بہنے لگی۔ بعض لوگ کہنے لگے: ایسے لوگ بھی قتل کئے گئے ہیں جن کے پیٹوں میں شراب تھی۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور صالح عمل بجا لائے ہیں جو وہ کھا پی چکے ہیں اس کی وجہ سے ان پر کوئی گناہ نہیں۔
معاذ بن فضالہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعمر حفص بن میسرہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زید بن اسلم سے، زید نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوسعیدؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: دیکھنا راستوں پر نہ بیٹھنا۔ صحابہؓ نے کہا: ہمیں تو اس سے چارہ ہی نہیں۔ وہی ہمارے بیٹھنے کی جگہیں ہیں جہاں ہم آپس میں بات چیت کرتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: اگر انہیں بیٹھکیں ہی بنانا ہے تو پھر راستے کو جو اس کا حق ہے، دو۔ انہوں نے پوچھا: راستے کا حق کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: نگاہ نیچے رکھنا اور تکلیف دِہ شئے دور کرنا اور سلام کا جواب دینا، بھلی بات کا حکم دینا اور ناپسندیدہ بات سے روکنا۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے حضرت ابوبکرؓ کے آزاد کردہ غلام سُمَی سے، سُمَی نے ابوصالح سمان سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ایک بار ایک شخص راستہ میں جا رہا تھا کہ اسے سخت پیاس لگی۔ اس نے ایک کنواں پایا۔ اس میں اترا اور پانی پیا۔ پھر باہر نکلا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک کتا ہے جو ہانپ رہا اور پیاس کی وجہ سے کیچڑ چاٹ رہا ہے۔ اس شخص نے خیال کیا کہ اس کتے کو بھی پیاس سے وہی تکلیف ہے جو مجھے پہنچی تھی۔ وہ کنوئیں میں اُترا اور اپنا موزہ پانی سے بھرا اور اس کتے کو پانی پلایا۔ اللہ نے اس کی اس نیکی کی قدر کی اور اس کے گناہوں کی پردہ پوشی فرماتے ہوئے اس سے درگزر کیا۔ صحابہؓ نے کہا: یا رسول اللہ! اور ہمیں ان بے زبان چوپایوں کی وجہ سے بھی ثواب ملے گا؟ آپؐ نے فرمایا: ہر تازہ جگر (جاندار مخلوق) کی وجہ سے ثواب ہوگا۔
عبداللہ بن محمد نے مجھ سے بیان کیا کہ ابن عیینہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے عروہ سے، عروہ نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ مدینہ کے بلند مکانوں میں سے ایک مکان پر چڑھے اور نیچے دیکھا اور فرمایا: کیا تم بھی (اپنے گھروں میں فتنوں کے واقع ہونے کی جگہوں کو) دیکھ رہے ہو جو میں دیکھ رہا ہوں، میں تمہارے گھروں میں فتنوں کو قطراتِ بارش کی مانند گرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: عبید اللہ بن عبداللہ بن ابی ثور نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: مجھے ہمیشہ یہ خواہش رہی ہے کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھوں کہ نبی ﷺ کی ازواج میں سے وہ دو عورتیں کون ہیں جنہیں اللہ نے کہا: اگر تم دونوں اللہ کی طرف رجوع کرو اور اس سے اپنی غلطی کی معافی مانگو تو تمہارے دل تو اس طرف پہلے ہی سے مائل ہیں۔ (پھر ایسا ہوا کہ) میں اُن کے ساتھ حج کے لئے گیا۔ وہ راستہ چھوڑ کر ایک طرف گئے اور میں بھی چھاگل لے کر ان کے ساتھ ہی گیا۔ انہوں نے الگ جا کر قضاء حاجت کی۔ جب آئے تو میں نے ان کے ہاتھوں پر اس چھاگل سے پانی ڈالا اور انہوں نے وضو کیا۔ میں نے کہا: امیر المومنین! نبی ﷺ کی ازواج میں سے وہ دو عورتیں کون ہیں جن سے اللہ عزوجل نے فرمایا تھا: اگر تم اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے اپنی غلطی کی معافی مانگو تو تمہارے دل تو اس طرف پہلے ہی سے مائل ہیں۔ انہوں نے کہا: ابن عباسؓ! تم پر بڑا ہی تعجب۔ عائشہؓ اور حفصہؓ ہی ہیں۔ پھر حضرت عمرؓ اصل بات شروع سے بیان کرنے لگے۔ انہوں نے کہا: میں اور میرا ایک انصاری ہمسایہ بنی امیہ بن زید کی بستی میں رہتے تھے اور یہ بستی مدینہ کی ان بستیوں میں سے تھی جو بلندی پر واقع ہیں اور ہم باری باری نبی ﷺ کے پاس جایا کرتے تھے۔ ایک دن وہ جاتا اور ایک دن میں۔ جب میں جاتا تو اس دن کی خبر وحی وغیرہ اپنے اس ہمسائے کو سنا دیتا اور جب وہ جاتا تو وہ بھی ایسا ہی کرتا۔ اور ہم قریش لوگ عورتوں پر غالب رہتے تھے۔ جب ہم (مدینہ) انصار کے پاس آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کی عورتیں ان پر غالب رہتی ہیں۔ (یہ دیکھ کر) ہماری عورتیں بھی انصاری عورتوں کا وطیرہ اختیار کرنے لگیں۔ میں نے اپنی عورت کو ڈانٹا تو اس نے مجھے جواب دیا۔ میں نے برا منایا کہ وہ اس طرح مجھے جواب دے۔ کہنے لگی: میرے جواب دینے کو آپ کیوں برا مانتے ہیں۔ خدا کی قسم! نبی ﷺ کی ازواج بھی آپؐ کو جواب دیتی ہیں اور ان میں سے ایک تو آپؐ سے سارا دن رات تک الگ رہتی ہے۔ اس بات نے مجھے گھبرا دیا۔ میں نے کہا: بہت ہی نامراد ہے وہ جو ایسا کرتی ہے۔ اس کے بعد میں نے اپنے کپڑے جلدی سے پہنے اور حفصہؓ کے پاس گیا۔ میں نے کہا: اری حفصہؓ! تم میں سے کوئی (بیوی) رسول اللہ ﷺ کو دِن رات ناراض رکھتی ہے۔ اس نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: نامراد رہے وہ برباد ہو۔ کیا وہ اللہ کی ناراضگی سے بچ رہے گی جو اُس کے رسول ﷺ کو ناراض کرتی ہے۔ تم رسول اللہ ﷺ سے بہت فرمائشیں نہ کیا کرو، ورنہ ہلاک ہو جاؤ گی اور نہ کسی بات میں آپؐ کو جواب دیا کرو اور نہ ان سے علیحدگی اختیار کیا کرو اور تمہیں جو کوئی ضرورت پیش آئے مجھ سے کہا کرو اور تمہیں یہ بات دھوکہ نہ دے کہ تیری ہمجولی تجھ سے زیادہ خوبصورت ہے اور رسول اللہ ﷺ کو زیادہ پیاری ہے۔ اُن کی مراد حضرت عائشہؓ سے تھی۔ (حضرت عمرؓ نے کہا:) اور (ان دنوں) یہ باتیں بھی ہو رہی تھیں کہ غسان ہم سے لڑنے کے لئے گھوڑوں کی نعل بندی کر رہے ہیں۔ پس میرا ساتھی اپنی باری کے دن نیچے گیا اور عشاء کے وقت واپس آیا اور میرے دروازے کو زور سے کھٹکھٹایا اور کہا: کیا وہ سو یا ہوا ہے؟ میں گھبرا کر اُس کے پاس باہر آیا اور اُس نے کہا: بہت ہی بڑا حادثہ ہوا ہے۔ میں نے پوچھا: وہ کیا؟ کیا غسان آپہنچے؟ اس نے کہا: نہیں بلکہ اُس سے بھی بہت بڑا اور بہت لمبا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے۔ حضرت عمرؓ نے کہا: حفصہؓ سچ مچ نامراد ہی ہوئی اور برباد ہو گئی۔ میں بھی سمجھتا تھا کہ عنقریب ہی ایسا ہونے کو ہے۔ میں نے اپنے کپڑے جلدی سے پہنے اور صبح کی نماز نبی ﷺ کے ساتھ پڑھی۔ آپؐ اپنے ایک بالا خانہ میں چلے گئے تھے اور وہاں اکیلے بیٹھ رہے۔ میں حفصہؓ کے پاس اندر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ رو رہی ہے۔ میں نے پوچھا: تمہیں کون سی بات رلا رہی ہے؟ کیا میں نے تمہیں آگاہ نہیں کیا تھا؟ کیا رسول اللہ ﷺ نے تمہیں طلاق دے دی ہے؟ وہ کہنے لگی: مجھے پتہ نہیں۔ آپؐ اس بالا خانے میں ہیں۔ میں باہر نکل کر منبر کے پاس آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس کے آس پاس کچھ لوگ ہیں۔ بعض ان میں سے رو رہے ہیں۔ میں ان کے پاس کچھ دیر بیٹھا پھر مجھ پر رنج کا غلبہ ہوا تو میں اس بالا خانہ کے پاس پہنچا جہاں نبی کریم ﷺ تھے۔ میں نے آپؐ کے ایک غلام سے جو سیاہ فام تھا، کہا: عمرؓ کے لئے اجازت مانگو۔ وہ اندر گیا اور نبی ﷺ سے بات کی اور پھر چلا آیا۔ اس نے کہا: میں نے نبی کریم ﷺ سے آپؓ کا ذکر کیا۔ تو آپؐ خاموش رہے۔ (حضرت عمرؓ کہتے تھے:) میں لوٹ آیا اور ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ گیا جو منبر کے پاس تھے۔ اس رنج نے جو میں محسوس کر رہا تھا، مجھے نڈھال کر دیا اور میں پھر (بالا خانہ کے پاس) گیا۔ {اور غلام کے ذریعہ اجازت چاہی۔} اس نے پھر ویسے ہی بیان کیا۔ اس پر میں ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ گیا جو منبر کے پاس تھے۔ پھر مجھے اس رنج نے جو میں اپنے اندر محسوس کر رہا تھا، اتنا بے قرار کیا کہ مجھ سے نہ رہا گیا۔ میں اس غلام کے پاس آیا اور میں نے کہا: عمرؓ کے لئے اجازت مانگو اور اس نے پھر ویسے ہی بیان کیا۔ جب میں پیٹھ موڑ کر واپس ہونے لگا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی غلام مجھے بلا رہا ہے۔ اس نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے آپؓ کو اجازت دی ہے۔ چنانچہ میں آپؐ کے پاس اندر گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ آپؐ ایک بوریا پر لیٹے ہوئے ہیں۔ آپؐ کے اور بوریا کے درمیان کوئی بچھونا نہیں۔ اس لیے بوریئے نے آپؐ کے پہلو پر نشان ڈالے ہوئے ہیں۔ ایک چمڑے کے تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے ہیں جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی ہے۔ میں نے آپؐ کو سلام کیا۔ پھر میں نے پوچھا اور میں کھڑا ہی تھا: آپؐ نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے؟ آپؐ نے میری طرف اپنی نگاہ اُٹھائی اور فرمایا: نہیں۔ تو پھر میں نے کہا اور میں کھڑا ہی تھا۔ میرے دل کی گھبراہٹ دور ہو رہی تھی۔ یا رسول اللہ! آپؐ دیکھیں کہ ہم قریش لوگ عورتوں سے زبردست تھے۔ انہیں قابو میں رکھتے۔ جب ایسی قوم کے پاس آئے جن کی عورتیں ان سے زبردست ہیں۔ یہ کہہ کر حضرت عمرؓ نے سارا واقعہ بیان کیا۔ نبی ﷺ مسکرائے۔ پھر میں نے کہا: (یا رسول اللہ!) دیکھیں میں حفصہؓ کے پاس گیا۔ میں نے کہا: تمہیں یہ بات دھوکہ نہ دے کہ تمہاری یہ ہمجولی تم سے زیادہ خوبصورت ہے اور نبی ﷺ کو زیادہ پیاری ہے۔ اُن کی مراد حضرت عائشہؓ سے تھی۔ آپؐ پھر مسکرائے۔ جب میں نے دیکھا کہ آپؐ مسکرائے ہیں تو میں بیٹھ گیا۔ اِس کے بعد میں نے آپؐ کے گھر کی طرف آنکھ اُٹھا کر دیکھا تو اللہ کی قسم! تین کچی کھالوں کے سوا وہاں کوئی شئے نہیں تھی جو مجھے نظر آئی ہو۔ میں نے (آپؐ سے) کہا: اللہ سے دعا کریں کہ وہ آپؐ کی امت کو کشائش دے کیونکہ فارس اور روم کو بہت دولت دی گئی ہے اور انہیں دنیا ملی ہے حالانکہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے۔ آپؐ تکیہ لگائے بیٹھے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: خطاب کے بیٹے! کیا ابھی تک تم شک میں ہو؟ وہ ایسے لوگ ہیں جن کو جلدی سے اس دنیا کی زندگی ہی میں ان کے جو مزے کی چیزیں تھیں دی گئی ہیں۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! میرے لئے مغفرت کی دعا کریں۔ اور نبی ﷺ اپنی ازواج سے اس بات کی وجہ سے الگ ہوئے تھے جس کو حفصہؓ نے عائشہؓ سے بیان کر دیا تھا اور آپؐ یہ فرما چکے تھے کہ میں ان عورتوں کے پاس ایک مہینہ تک نہیں جاؤں گا اور یہ اس سخت ناراضگی کی وجہ سے تھا جو آپؐ کو ان پر اُس وقت ہوئی جب اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو تنبیہ کی۔ جب اُنتیس دن گزرے آپؐ حضرت عائشہؓ کے پاس آئے اور ان سے باری شروع کی۔ حضرت عائشہؓ نے آپؐ سے کہا: آپؐ نے تو قسم کھائی تھی کہ آپؐ ہمارے پاس ایک مہینہ تک نہیں آئیں گے اور آج ہمیں اُنتیسویں رات ہے۔ میں انہیں گنتی رہی ہوں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: مہینہ اُنتیس دن کا بھی ہوتا ہے اور وہ مہینہ اُنتیس دن کا ہی تھا۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: وہ آیت نازل ہوئی جس میں ہمیں اختیار دیا گیا تھا (کہ خواہ ہم دنیا لے لیں یا رسول اللہ ﷺ کے پاس رہیں) میں پہلی عورت تھی جس سے نبی کریم ﷺ نے پوچھنا شروع کیا۔ آپؐ نے فرمایا: میں تم سے ایک بات بیان کرنے لگا ہوں اور تم پر کوئی حرج نہیں کہ تم اس کا جلدی سے جواب نہ دو؛ جب تک کہ اپنے ماں باپ سے مشورہ نہ کر لو۔ کہتی تھیں: آپؐ خوب جانتے تھے کہ میرے ماں باپ ایسے نہیں کہ مجھے آپؐ سے جدا ہونے کا مشورہ دیں۔ پھر آپؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے نبی! اپنی بیویوں سے کہو کہ اگر تم دنیا اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ دنیوی سامان دے دیتا ہوں اور تم کو نیک طریق سے رخصت کر دیتا ہوں۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور اخروی زندگی کے گھر کو چاہتی ہو تو اللہ نے تم میں سے پوری طرح اسلام پر قائم رہنے والیوں کے لیے بہت بڑا انعام تجویز کر رکھا ہے۔ میں نے کہا: کیا میں اس کے متعلق اپنے ماں باپ سے مشورہ لوں؟ میں تو اللہ اور اُس کے رسول اور دار آخرت کو چاہتی ہوں۔ اس کے بعد پھر آپؐ نے اپنی دوسری عورتوں کو بھی اختیار دیا اور انہوں نے بھی وہی کہا جو حضرت عائشہؓ نے کہا تھا۔
(محمد) بن سلام (بیکندی) نے مجھ سے بیان کیا کہ (مروان بن معاویہ) فزاری نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حمید طویل سے، حمید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج کے پاس ایک ماہ تک نہ جانے کی قسم کھائی اور آپؐ کے پائوں میں موچ آگئی تھی اور آپؐ اپنے ایک بالا خانہ میں رہے۔ حضرت عمرؓ آئے اور انہوں نے پوچھا: کیا آپؐ نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں، بلکہ میں نے ایک ماہ تک ان کے پاس نہ جانے کی قسم کھائی ہے۔ آپؐ اُنتیس دن بالا خانہ میں ٹھہرے۔ اس کے بعد اُترے اور اپنی ازواج کے پاس گئے۔