بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 34 hadith
عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک بن انس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زید بن اسلم سے، زید نے ابوصالح سمان سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: گھوڑے کسی شخص کے لئے ثواب کا موجب ہیں اور کسی شخص کیلئے باعث حفاظت ہیں اور کسی شخص کے لئے عذاب۔ جس کے لئے وہ ثواب ہیں، وہ وہ شخص ہے جس نے انہیں اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے پالا اور انہیں کسی مرغزار یا باغ میں لمبی رسی کر کے کھلا چھوڑ دیا تو وہ اپنی رسی کی لمبان میں جو کچھ بھی اس مرغزار یا باغ سے چریں گے تو وہ اس کے لئے نیکیاں ہوں گی اور اگر اُن کی رسی ٹوٹ جائے اور وہ کلیلیں کرتے ہوئے میل دو میل تک نکل جائیں تو اُن کے قدموں کے نشان اور اُن کی لید بھی اس کیلئے نیکیاں ہوں گی اور اگر وہ کسی دریا پر سے گزریں اور اس سے پئیں ؛ درآں حالیکہ ان گھوڑوں کا مالک انہیں پلانا نہیں چاہتا تو پھر بھی اس کے لئے نیکیاں شمار ہوں گی۔ سو یہ گھوڑے ایسے شخص کے لئے ثواب ہیں اور ایک وہ ہے جس نے دولت حاصل کرنے اور محتاجی سے بچنے کیلئے گھوڑے پالے اور وہ اللہ کا حق (زکوٰۃ اور صدقات) بھی نہیں بھولا جو اُن کی گردنوں اور پیٹھوں میں ہے تو یہ گھوڑے ایسے شخص کے لئے موجب حفاظت ہیں اور ایک وہ شخص ہے کہ جس نے ان گھوڑوں کو ریاء اور فخر کے لئے اور مسلمانوں سے دشمنی کی وجہ سے رکھا تو یہ گھوڑے اُس کے لئے وبال ہوں گے اور رسول اللہ ﷺ سے گدھوں کی نسبت پوچھا گیا تو آپؐ نے فرمایا: ان کے بارے میں مجھ پر کوئی وحی نہیں اُتری؛ سوائے اس جامع آیت کے جو سب پر حاوی ہے: جو ذرہ بھر بھلائی کرے گا، وہ اس کو دیکھ لے گا اور جو ذرہ بھر برائی کرے گا، وہ اسے دیکھ لے گا۔
اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمن سے، ربیعہ نے منبعث کے آزاد کردہ غلام یزید سے، یزید نے حضرت زید بن خالد جُہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور اُس نے آپؐ سے گری پڑی چیزوں کی نسبت پوچھا۔ آپؐ نے فرمایا: اس کی تھیلی اور اس کا بند پہچان رکھو۔ پھر ایک برس تک اس کا اعلان کرتے رہو۔ اگر اس کا مالک آجائے تو خیر؛ ورنہ جس طرح چاہو، کام میں لائو۔ اس نے کہا: بھولی بھٹکی بکری (کے متعلق حضورؐ کا کیا ارشاد ہے؟) آپؐ نے فرمایا: وہ تمہارے لیے یا تمہارے بھائی کے لئے ہے یا کسی بھیڑئیے کے لئے۔ اس نے کہا: اور بھولا بھٹکا اونٹ؟ آپؐ نے فرمایا: تجھے اس سے کیا واسطہ! اس کے ساتھ اس کا مشکیزہ بھی ہے اور اُس کا موزہ (یعنی پائوں) بھی۔ پانی پی لیتا ہے اور درختوں سے کھاتا ہے؛ یہاں تک کہ اس کا مالک اس کو پالیتا ہے۔
(تشریح)معلیٰ بن اسد نے ہم سے بیان کیا کہ وہیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے، حضرت زبیرؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایک رسی لے اور لکڑیوں کا گٹھا لا کر بیچے اور اللہ اس طرح اس کی آبرو بچائے رکھے تو یہ بہتر ہے؛ اس بات سے کہ وہ لوگوں سے مانگے۔ اس کو ملے یا نہ ملے۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کے آزاد کردہ غلام ابوعبید سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی لکڑیوں کا گٹھا اپنی پیٹھ پر اُٹھا کر لائے۔ اس کے لئے بہتر ہے، اس سے کہ کسی سے مانگے اور وہ اس کو دے یا نہ دے۔
ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام نے ہمیں خبر دی کہ ابن جریج نے ان سے بیان کیا۔ وہ کہتے تھے: ابن شہاب نے مجھے بتایا کہ انہوں نے علی بن حسینؓ بن علیؓ سے، انہوں نے اپنے باپ حضرت حسین بن علیؓ سے، حضرت حسینؓ نے اپنے باپ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے بدر کی جنگ میں غنیمت کے مال سے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حصے میں ایک جوان اونٹنی پائی۔ انہوں نے کہا: اور رسول اللہ ﷺ نے ایک اور جوان اونٹنی مجھے دی۔ میں نے ان دونوں اونٹنیوں کو ایک انصاری کے دروازہ پر بٹھا دیا اور میرا ارادہ تھا کہ میں اذخر گھاس ان پر لاد کر بیچنے کے لیے لایا کروں گا اور میرے ساتھ بنی قینقاع کا ایک سنار بھی تھا۔ (میرا ارادہ تھا) کہ اس طرح میں فاطمہؓ کے ولیمہ کا سامان مہیا کرلوں گا۔ اس وقت حمزہؓ بن عبدالمطلب اسی گھر میں شراب پی رہے تھے۔ ان کے ساتھ ایک گانے والی بھی تھی۔ اس نے (یہ مصرعہ) گایا: ارے حمزہ اٹھو؛ ان موٹی تازی جوان اونٹنیوں کی طرف بڑھو یہ سن کر حمزہؓ جوش میں آئے اور تلوار لے کر ان کی طرف لپکے اور ان کے کوہان کاٹ ڈالے۔ ان کے پیٹ پھاڑ دیے اور پھر ان کی کلیجیاں نکال لیں۔ میں نے ابن شہاب سے پوچھا: اور کوہان بھی؟ انہوں نے کہا: ان کے کوہان کاٹ ڈالے اور انہیں لے گئے۔ ابن شہاب نے کہا: حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے تھے: یہ ایک ایسا نظارہ تھا جس نے مجھے گھبرا دیا۔ میں نبی اللہ ﷺ کے پاس آیا۔ اس وقت آپؐ کے پاس زید بن حارثہؓ تھے۔ میں نے یہ ماجرا آپؐ سے بیان کیا۔ آپؐ نکلے اور زیدؓ بھی آپؐ کے ساتھ تھے۔ میں بھی آپؐ کے ساتھ چل پڑا۔ آپؐ حمزہؓ کے پاس اندر گئے۔ آپؐ ان پر خفا ہوئے۔ حمزہؓ نے آنکھ اٹھائی اور کہا: تم کون میرے باپ دادوں کے غلام ہی تو ہو۔ رسول اللہ ﷺ پچھلے پاؤں لوٹے اور چلے گئے۔ یہ واقعہ شراب کے حرام ہونے سے پہلے کا ہے۔
(تشریح)سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ بن سعید سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انسؓ سے سنا۔ کہتے تھے: رسول اللہؐ نے (انصار کو) بحرین میں جاگیریں دینے کا ارادہ فرمایا تو انصار نے کہا: ہم تو جب لیں گے کہ آپؐ ہمارے بھائی مہاجرین کو بھی جاگیریں دیں ؛ ویسی ہی جاگیریں جو آپؐ ہمیں دے رہے ہیں۔ تو آپؐ نے فرمایا: میرے بعد تم خود غرضی کو دیکھو گے۔ (یعنی تم پر لوگ مقدم کئے جائیں گے) تو تم صبر کرنا؛ یہاں تک کہ مجھ سے ملو۔
(تشریح)اور لیث نے یحيٰ بن سعید سے بروایت حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کیا کہ نبی ﷺ نے انصار کو بلایا۔ اس لئے کہ ان کو بحرین میں جاگیریں دیں تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! اگر آپؐ ہمیں دیتے ہیں تو ہمارے بھائی قریشیوں کو بھی ویسی ہی جاگیریں دیجئے۔ مگر اس وقت آپؐ کے پاس اور نہیں تھیں۔ آپؐ نے فرمایا: تم میرے بعد عنقریب دیکھو گے کہ تم پر دوسرے مقدم کئے جائیں گے۔ اس وقت تم صبر کرنا؛ یہاں تک کہ مجھ سے ملو۔
(تشریح)ابراہیم بن منذر نے ہمیں بتایا کہ محمد بن فلیح نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے باپ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ہلال بن علی سے، ہلال نے عبدالرحمن بن ابی عمرہ سے، عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: اونٹنیوں کا حق ہے کہ ان کو پانی کے پاس لے جاکر دوہا جائے۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہمیں بتایا۔ لیث نے ہم سے بیان کیا کہ ابن شہاب نے مجھے بتایا۔ انہوں نے سالم بن عبداللہ سے، سالم نے اپنے باپ (حضرت عبداللہ)ؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: جو شخص پیوند لگائے جانے کے بعد کھجور کے درخت خریدے تو یاد رکھے کہ ان کا پھل بیچنے والے کے لئے ہوگا؛ سوائے اس کے کہ خریدنے والا شرط کر لے اور جو شخص کوئی غلام خریدے اور اس (غلام) کا مال ہو تو اس کا مال بھی اس شخص کے لئے ہوگا جس نے اس کو فروخت کیا۔ مگر یہ کہ خریدار شرط کر لے۔ اور یہ حدیث مالک سے بھی مروی ہے۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے، حضرت ابن عمرؓ نے حضرت عمرؓ سے۔ ان کی یہ حدیث صرف غلام سے متعلق ہی ہے۔
محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ بن سعید (انصاری) سے، یحيٰ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے، حضرت ابن عمرؓ نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہم سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے اجازت دی کہ عرایا کی خام کھجوروں کا اندازہ کرکے ان کے بدلے میں اتنی ہی پختہ اور عمدہ کھجوریں دے دی جائیں۔