بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 25 hadith
محمد بن یوسف بیکندی نے ہم سے بیان کیا کہ جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مغیرہ سے، مغیرہ نے شعبی سے، شعبی نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ وہ کہتے تھے: میں نبی ﷺ کے ساتھ جنگ کے لئے نکلا۔ آپؐ نے فرمایا: اپنے اونٹ کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ کیا تم (میرے پاس) اِسے بیچو گے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ چنانچہ میں نے آپؐ کے پاس وہ (اُونٹ) بیچ دیا۔ جب آپؐ مدینہ میں آئے تو میں صبح اس اُونٹ کو لے کر آپؐ کے پاس گیا اور آپؐ نے مجھے اُس کی قیمت دے دی۔
معلی بن اسد نے ہمیں بتایا کہ عبدالواحد (بن زیاد) نے ہم سے بیان کیا کہ اعمش نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: ہم نے ابراہیم (نخعی) کے سامنے قرض میں گرو رکھنے کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: اسود (بن یزید) نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ نبی ﷺ نے ایک یہودی سے مقررہ میعاد پر غلہ خریدا اور اُس کے پاس (اپنی) لوہے کی زرہ گرو رکھ دی۔
(تشریح)عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے ہم سے بیان کیا کہ سلیمان بن بلال نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ثور بن زید سے، ثور نے ابوالغیث سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جو شخص لوگوں کے مال اِس نیت سے لے کہ اَدا کروں گا تو اللہ تعالیٰ اُس کو اَدا کرنے کی توفیق دے گا اور جو اِس نیت سے لے کہ اُن (اموال) کو برباد کروں گا تو اللہ اُسے بھی برباد کر دے گا۔
(تشریح)احمد بن یونس نے مجھ سے بیان کیا کہ ابو شہاب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے زید بن وہب سے، زید نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: میں نبی ﷺ کے ساتھ تھا۔ جب آپؐ نے اُحد پہاڑ کو دیکھا تو آپؐ نے فرمایا: یہ (پہاڑ) میرے لئے سونا بنا دیا جائے تو بھی مجھے پسند نہیں کہ اس میں سے ایک دینار میرے پاس تین دن سے زیادہ رہے، بجز اُس دینار کے جو قرضہ ادا کرنے کے لئے رکھوں۔ پھر آپؐ نے فرمایا: جتنا زیادہ کوئی دولت مند ہے اُتنا ہی زیادہ وہ محتاج ہے، سوائے اُس شخص کے جو مال اس اس طرح خرچ کرے اور ابو شہاب نے اپنے سامنے اور اپنے دائیں اور اپنے بائیں اشارہ کیا اور ایسے بہت تھوڑے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: یہیں ٹھہرو اور خود تھوڑی دُور آگے گئے۔ میں نے کچھ آواز سنی اور چاہا کہ میں بھی آپؐ کے پاس جائوں۔ میں نے پھر آپؐ کی یہ بات یاد کی کہ یہیں ٹھہرو! یہاں تک کہ میں تمہارے پاس آ جائوں۔ جب آپؐ آئے، میں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ میں نے جو سنا یا کہا: وہ آواز جو میں نے سنی (وہ کیا تھی؟) آپؐ نے فرمایا کیا تم نے (وہ آواز) سنی تھی؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے تھے اور انہوں نے کہا: جو شخص تیری امت میں سے ایسی حالت میں مر جائے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے کہا: خواہ وہ ایسے ایسے کام بھی کرے۔ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔
احمد بن شبیب بن سعید نے مجھ سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے روایت کی کہ ابن شہاب نے کہا: عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ نے مجھ سے بیان کیا۔ کہتے تھے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر میرے پاس اُحد پہاڑ جتنا بھی سونا ہو تو مجھے ہرگز خوشی نہ ہو گی کہ تین دن گذر جائیں اور اُس میں سے میرے پاس کچھ باقی رہے۔ البتہ قرض اَدا کرنے کے لیے کچھ رکھ چھوڑوں۔ یہ (حدیث) صالح اور عُقَیل نے بھی زہری سے روایت کی ہے۔
(تشریح)ابوالولید نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا کہ سلمہ بن کہیل نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے کہا: میں نے اپنے گھر میں ابوسلمہ کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ روایت بیان کرتے ہوئے سنا کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے تقاضا کیا اور آپؐ سے سخت کلامی کی۔ اِس پر آپؐ کے صحابہ اُسے مارنے کو لپکے۔ آپؐ نے فرمایا: جانے دو کیونکہ حق دار کہتا ہی ہے اور اِس کے لئے ایک اونٹ خریدو اور اِسے دے دو۔ تو انہوں نے کہا: اس کے اُونٹ کی عمر سے بڑھ کر ہمیں ملتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: وہی خرید لو اور وہی اس کو دے دو کیونکہ تم میں اچھے وہی لوگ ہیں جو تم میں سے قرض کو اچھی طرح اَدا کریں۔
(تشریح)مسلم نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالملک سے، عبدالملک نے ربعی (بن حراش) سے، ربعی نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: ایک شخص مر گیا اور اُس سے پوچھا گیا: تم کیا کرتے تھے؟ اُس نے کہا: میں لوگوں سے بیوپار کیا کرتا تھا اور مالدار کو مہلت دیتا اور تنگ دست سے درگزر کرتا تھا۔ اِس لئے اُس کی مغفرت کی گئی۔ حضرت ابومسعودؓ نے کہا: میں نے بھی یہ (حدیث) نبی ﷺ سے سنی۔
مسدد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ (قطان) سے، یحيٰ نے سفیان (ثوری) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: سلمہ بن کہیل نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپؐ سے اُونٹ کا تقاضا کرنے لگا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے دے دو۔ صحابہؓ نے کہا: ہمیں اس (کے اُونٹ) سے زیادہ عمر والے (اُونٹ) ملتے ہیں۔ وہ شخص بولا: آپؐ نے مجھے بڑھ چڑھ کر دیا ہے۔ اللہ بھی آپؐ کو بڑھ چڑھ کر دے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے (وہی اُونٹ) دے دو، کیونکہ اچھے وہی لوگ ہیں جو قرض کو اچھی طرح اَدا کرتے ہیں۔
ابونعیم (فضل بن دکین) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سلمہ (بن کہیل) سے، سلمہ نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ کے ذمے ایک شخص کا چند سال کی عمر کا اُونٹ تھا۔ وہ آپؐ کے پاس آیا، تقاضا کرنے لگا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: اسے دے دو۔ تو انہوں نے اس عمر کا (اُونٹ) تلاش کیا تو انہیں نہ ملا مگر اُس سے بڑی عمر کا ملا۔ آپؐ نے فرمایا: یہی دے دو۔ تو اُس شخص نے کہا: آپؐ نے مجھے بڑھ چڑھ کر دیا ہے، اللہ بھی آپؐ کو بڑھ چڑھ کر دے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اچھے وہی لوگ ہیں جو اَدا کرنے میں اچھے ہیں۔
خلّاد (بن یحيٰ) نے ہم سے بیان کیا کہ مِسعر نے ہمیں بتایا۔ محارب بن دثار نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نبی ﷺ کے پاس آیا۔ اُس وقت آپؐ مسجد میں تھے۔ مِسعر نے کہا: میں سمجھتا ہوں (محارب نے) کہا: چاشت کا وقت تھا۔ آپؐ نے فرمایا: دو رکعتیں نماز پڑھ لو اور میرا آپؐ کے ذمے کچھ قرض تھا اور آپؐ نے مجھے اَدا کیا اور زیادہ دیا۔
(تشریح)