بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 34 hadith
عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبر دی کہ معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے، زُہری نے عروہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت زبیرؓ سے ایک انصاری مرد نے جھگڑا کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا: زبیر! تم (اپنے درختوں کو) سیراب کر لو اور پھر پانی کو چھوڑ دو۔ انصاری نے کہا: آپؐ نے یہ فیصلہ محض اس لئے کیا ہے کہ وہ آپؐ کی پھوپھی کا بیٹا جو ہوا تو آنحضرت ﷺ نے پھر فرمایا: زبیر! (اپنے درختوں کو) پانی پلائو۔ پھر جب پانی منڈیروں تک پہنچ جائے تو اس کے بعد پانی دینا بند کر دو (اور آگے جانے دو) حضرت زبیرؓ نے کہا: میرا خیال ہے کہ یہ آیت اسی واقعہ کے متعلق اُتری تھی۔ یعنی تیرے ربّ کی قسم ہے، وہ ہرگز مومن نہیں ہوں گے جب تک وہ تجھے ان امور میں حکم نہ بنائیں جو اُن کے درمیان اختلافی صورت اختیار کرتے ہیں۔
محمد (بن سلام) نے ہم سے بیان کیا کہ مخلد بن یزید حرانی نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے کہا: ابن جریج نے مجھے بتایا، کہا: ابن شہاب نے عروہ بن زبیر سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ انہوں نے ان سے بیان کیا۔ ایک انصاری شخص نے حضرت زبیرؓ سے حرّہ کی اس ندی کے بارے میں جھگڑا کیا جس سے وہ کھجوروں کو پانی دیا کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: زبیر! اپنے درختوں کو پانی دو اور آپؐ نے انصاری کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا مشورہ دیا اور (فرمایا:) اپنے ہمسایہ کے لئے بھی پانی چھوڑ دو۔ انصاری نے کہا: آپؐ نے یہ فیصلہ اس لئے کیا ہے کہ وہ آپؐ کی پھوپھی کا بیٹا جو ہوا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ کا چہرہ متغیر ہوگیا اور آپؐ نے (حضرت زبیرؓ سے) فرمایا: (اپنے درختوں کو) پانی دو؛ یہاں تک کہ وہ (کھیت کی) منڈیروں تک پہنچ جائے اور آپؐ نے (حضرت زبیرؓ کا) جو حق تھا، وہ ان کو دے دیا۔ حضرت زبیرؓ نے کہا: بخدا! یہ آیت تو اسی واقعہ سے متعلق ہی نازل ہوئی تھی۔ یعنی تیرے ربّ کی قسم ہے، وہ ہرگز مومن نہیں ہوں گے جب تک وہ تجھے ان امور میں حکم نہ بنائیں جو اُن کے درمیان اختلافی صورت اختیار کرتے ہیں۔ ابن شہاب نے مجھ سے کہا: انصار اور دوسرے لوگوں نے نبی ﷺ کے اس ارشاد کا کہ پانی دو پھر اس کو روکے رکھو جب تک کہ منڈیروں تک نہ آجائے؛ یہ اندازہ کیا کہ اس سے مراد یہ ہے: ٹخنوں تک پانی کھیت میں ہو جائے۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سُمَی سے، سُمَی نے ابوصالح سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک بار ایک شخص (راستے میں) چلا جا رہا تھا کہ اسے سخت پیاس لگی اور وہ ایک کنوئیں میں اُترا اور اس سے پانی پیا۔ اس کے بعد وہ نکلا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک کتا ہے جو ہانپ رہا ہے اور پیاس کے مارے کیچڑ چاٹ رہا ہے تو اس شخص نے (دل میں) کہا کہ اسے بھی وہی تکلیف پہنچی ہے جو مجھے پہنچی تھی۔ اس نے اپنا موزہ بھرا اور اسے اپنے منہ سے پکڑ کر وہ اوپر چڑھا اور کتے کو پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے اُس کے اس عمل کی قدر کی اور اُس کے گناہوں کی مغفرت فرمائی۔ صحابہؓ نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا ہمیں جانوروں (کو پانی پلانے) کی وجہ سے بھی ثواب ہوگا؟ آپؐ نے فرمایا: ہر جگر کی وجہ سے ثواب ہوگا؛ جو تروتازہ ہو۔ (یعنی ہر جاندار کے ساتھ نیک سلوک کرنے میں اجر ہے۔) عبداللہ بن یوسف کی طرح حماد بن سلمہ اور ربیع بن مسلم نے بھی محمد بن زیاد سے یہی بات نقل کی ہے۔
(سعید) بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا کہ نافع بن عمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن ابی مُلَیکہ سے، ابن ابی مُلَیکہ نے حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے سورج گرہن کی نماز پڑھی۔ پھر آپؐ نے فرمایا: (دوزخ کی) آگ میرے اتنی قریب ہوئی کہ میں نے کہا: یا ربّ! آیا میں بھی ان (دوزخ والوں) کے ساتھ ہوں۔ پھر کیا دیکھتا ہوں کہ ایک عورت ہے کہ بلی اُسے نوچ رہی ہے۔ میں نے پوچھا: اس کی یہ حالت کیوں ہے؟ فرشتوں نے کہا: اس عورت نے بلی کو بند کر رکھا تھا؛ یہاں تک کہ وہ بھوک سے مر گئی۔
اسماعیل نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک عورت کو بلی کی وجہ سے عذاب ہوا؛ جسے اس نے بند کر رکھا تھا۔ یہاں تک کہ وہ بھوک سے مر گئی تو وہ اُس بلی کی وجہ سے آگ میں داخل ہوئی۔ (حضرت عبداللہ بن عمرؓ) کہتے تھے: آپؐ نے یہ بھی فرمایا: (اس سے کہا گیا) تو نے اسے قید رکھا اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے نہ تو نے اسے کھلایا اور نہ پلایا اور نہ ہی اس کو چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھاتی۔
(تشریح)قُتَیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالعزیز نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوحازم سے، ابوحازم نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک پیالہ لایا گیا۔ آپؐ نے (اس سے) پیا اور آپؐ کے داہنے ہاتھ ایک لڑکا تھا جو مجلس میں سب سے چھوٹا تھا اور بڑی عمر کے لوگ آپؐ کی بائیں طرف تھے۔ آپؐ نے فرمایا: لڑکے کیا تم مجھے اجازت دیتے ہو کہ میں یہ ان بڑوں کو دوں؟ اس نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ سے جو حصہ مجھے ملا ہے، وہ تو میں کسی کو دینے کا نہیں۔ تو آپؐ نے وہ (پیالہ) اسی کو دے دیا۔
محمد بن بشار نے ہمیں بتایا۔ غندر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن زیاد سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ نبی ﷺ سے روایت کرتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: اسی کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں اپنے حوض پر سے کچھ لوگوں کو اسی طرح ہانک دوں گا؛ جس طرح حوض سے پرائے اونٹ ہانک دئیے جاتے ہیں۔
عبداللہ بن محمد نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں خبر دی کہ معمر نے ایوب اور کثیر بن کثیر سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ دونوں میں سے ایک دوسرے سے کچھ زیادہ بیان کرتا تھا۔ انہوں نے سعید بن جبیر سے روایت کی۔ کہتے تھے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ اسماعیلؑ کی ماں پر رحم کرے۔ اگر وہ زمزم کو چھوڑ دیتیں یا فرمایا: اگر وہ (زمزم کے) پانی سے چلو بھر بھر کر نہ لیتیں تو وہ (آج) ایک بہتا ہوا چشمہ ہوتا اور جرہم کا قبیلہ آگیا اور انہوں نے کہا: کیا آپ اجازت دیتی ہیں کہ آپ کے پاس اُتریں۔ انہوں نے کہا: ہاں۔ لیکن پانی میں تمہارا حق نہیں۔ انہوں نے کہا: اچھا۔
عبداللہ بن محمد (مسندی) نے مجھ سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن دینار) سے، انہوں نے ابوصالح سمان سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: تین اشخاص ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کو نہ بات کرے گا اور نہ اُن کی طرف (شفقت کی) نظر کرے گا۔ ایک وہ شخص جس نے اپنا تجارتی سامان بیچنے کے لئے قسم کھائی کہ مجھے اس کے لئے اس سے بہت زیادہ دیا جاتا تھا جو اَب دیا جاتا ہے؛ بحالیکہ وہ جھوٹا ہے اور ایک وہ شخص جس نے عصر کے بعد جھوٹی قسم اس لئے کھائی کہ وہ کسی مسلمان شخص کا مال مار لے اور ایک وہ شخص جس نے اپنا بچا ہوا پانی روک لیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: آج میں بھی اپنا فضل تجھ سے روکتا ہوں؛ جیسا کہ تو نے وہ بچی ہوئی چیز روک لی تھی؛ جو تیرے ہاتھوں نے نہیں بنائی تھی۔ علی (بن مدینی) کہتے تھے: سفیان نے عمرو (بن دینار) سے روایت کرتے ہوئے ہمیں کئی دفعہ بتایا کہ انہوں نے ابوصالح سے یہی سنا۔ وہ نبی ﷺ تک اس (حدیث) کو پہنچاتے تھے۔
(تشریح)یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے، عبیداللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت صعب بن جثامہؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رکھ اللہ اور اس کے رسول کی ہی ہے۔ اور (امام بخاریؒ نے) کہا: یہ خبر ہمیں پہنچی ہے کہ نبی ﷺ نے نَقِیْع کو رَکھ قرار دیا اور حضرت عمرؓ نے شرف اور رَبذہ کو۔
(تشریح)