بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 66 hadith
عبداللہ بن محمد بن اسماء نے ہم سے بیان کیا کہ جویریہ (بن اسماء) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے مالک سے، مالک نے زہری سے روایت کی کہ سعید بن مسیب اور ابوعبید نے اُنہیں بتایا۔ اُن دونوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر میں قید خانے میں اتنی دیر رہتا جتنی دیر یوسفؑ رہے۔ پھر بلانے والا آتا تو میں اس کی بات مان لیتا۔
(تشریح)عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے یونس سے، یونس نے زہری سے روایت کی کہ ابوسلمہ نے مجھے بتایا کہ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا میں نے نبیؐ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: جس نے خواب میں مجھے دیکھا تو عنقریب بیداری میں بھی مجھے دیکھ لے گا اور شیطان میری صورت پر متمثل نہیں ہوتا۔ ابوعبداللہ (امام بخاری) نے کہا: ابن سیرین کہتے تھے۔ اس سے یہ مراد ہے اگر وہ خواب میں آپؐ کو آپؐ کی شکل میں دیکھے۔
معلیٰ بن اسد نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالعزیز بن مختار نے ہمیں بتایا۔ ثابت بُنانی نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: جس نے خواب میں مجھے دیکھا تو اس نے مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان میری شکل نہیں اختیار کر سکتا اور مؤمن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے.
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عبیداللہ بن ابی جعفر سے روایت کی کہ ابوسلمہ نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے حضرت ابوقتادہؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور پریشان خواب شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ اس لئے جو شخص کوئی ایسی بات دیکھے جس کو وہ ناپسند کرتا ہو تو اپنی بائیں طرف تین بار تھوکے اور شیطان سے پناہ مانگے تو وہ خواب اس کو ضرر نہیں دے گی اور شیطان میرے جیسی شکل اختیار نہیں کر سکتا۔
خالد بن خلی نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن حرب نے ہمیں بتایا۔ زبیدی نے مجھ سے بیان کیا۔ اُنہوں نے زہری سے روایت کی کہ ابو سلمہ نے کہا کہ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو اس نے مجھے ہی سچ مچ دیکھا۔ (زبیدی کی طرح) اس حدیث کو یونس اور زہری کے بھتیجے نے بھی بیان کیا۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ ابن الہاد نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے عبداللہ بن خباب سے، اُنہوں نے حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے نبی ﷺ سے سنا آپؐ فرماتے تھے: جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے سچ مچ مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت پر نہیں ہوسکتا۔
(تشریح)احمد بن مقدام عِجلی نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن عبدالرحمٰن طفاوی نے ہمیں بتایا۔ ایوب نے ہم سے بیان کیا۔ ایوب نے محمد (بن سیرین) سے، محمد نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: مجھے کلمات کی چابیاں دی گئی ہیں اور رعب سے میری مدد کی گئی ہے اور گزشتہ رات میں سویا ہوا تھا کہ اتنے میں زمین کے خزانوں کی چابیاں میرے پاس لا کر میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں۔ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ تو چلے گئے اور اب تم اِن خزانوں کو اٹھا اٹھا کر لا رہے ہو۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آج رات میں نے اپنے آپؐ کو کعبہ کے پاس خواب میں دیکھا۔ اتنے میں مَیں نے ایک گندم گوں شخص دیکھا جو نہایت خوبصورت تھا ایسا خوبصورت کہ جو تم گندمی رنگ کے مردوں میں دیکھا کرتے ہو۔ اس کے پٹے تھے ایسے خوبصورت کہ جو تم خوبصورت سے خوبصورت پٹے دیکھا کرتے ہو۔ اس نے ان کو کنگھی کی ہوئی تھی ان سے پانی ٹپک رہا تھا دو مردوں پر سہارا لئے ہوئے تھا یا فرمایا دو مردوں کے کندھوں پر سہارا لئے ہوئے تھا۔ بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ مجھ سے کہا گیا: مسیح ابن مریم۔ پھر اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک اور شخص ہے گنگھریالے بالوں والا بہت ہی گنگھریالے، داہنی آنکھ سے کانا ایسی معلوم ہوتی تھی جیسے کہ وہ پھولا ہوا انگور ہے۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ تو کہا گیا یہ مسیح دجال ہے۔
یحيٰ (بن عبد اللہ بن بکیر) نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے، اُنہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت کی کہ حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: مجھے آج رات خواب میں دکھایا گیا ہے۔ اور (ابن شہاب نے) ساری حدیث بیان کی۔ اور (یونس کی طرح) سلیمان بن کثیر اور زہری کے بھتیجے اور سفیان بن حسین نے بھی زہری سے روایت کرتے ہوئے اس کو بیان کیا۔ اُنہوں نے عبیداللہ (بن عبداللہ) سے، عبیداللہ نے حضرت ابن عباسؓ سے، حضرت ابن عباسؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ اور زبیدی نے زہری سے روایت کرتے ہوئے کہا۔ زہری نے عبیداللہ سے یوں نقل کیا کہ حضرت ابن عباسؓ یا حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ اور شعیب اور اسحاق بن یحيٰ نے زہری سے یوں نقل کیا کہ حضرت ابوہریرہؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے تھے اور معمر (بن راشد) اس حدیث کو پہلے متصلاً نہیں بیان کرتے تھے۔ پھر بعد میں کرنے لگے۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے روایت کی کہ اُنہوں نے حضرت انس بن مالکؓ سے سنا۔ وہ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ اُم حرام بنت ملحانؓ کے پاس جایا کرتے تھے اور وہ حضرت عبادہ بن صامتؓ کے نکاح میں تھیں۔ ایک دن آپؐ ان کے ہاں گئے اور اُنہوں نے آپؐ کو کھانا کھلایا اور آپؐ کے سر کے بال دیکھنے لگیں۔ اتنے میں رسول اللہ ﷺ سو گئے۔ پھر جاگے تو آپؐ ہنس رہے تھے۔