بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 33 hadith
محمد بن سلام نے ہم سے بیان کیا کہ ابومعاویہ نے ہمیں خبر دی۔ ہشام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ (عروہ) سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ (انہوں نے کہا:) ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (مدینہ سے) ایسے وقت میں نکلے کہ ذی الحج کا چاند نکلنے کو تھا تو آپؐ نے ہم سے فرمایا: تم میں سے جو حج کا احرام باندھنا چاہے وہ (حج کا) احرام باندھے اور جو عمرے کا احرام باندھنا چاہے وہ عمرہ کا احرام باندھ لے۔ اگر میں نے قربانی کا جانور نہ لیا ہوتا تو میں بھی عمرے ہی کا احرام باندھتا۔ کہتی تھیں کہ ہم میں سے بعض نے عمرے کا احرام باندھا اور بعض نے حج کا اور میں ان لوگوں میں سے تھی جنہوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا۔ عرفات کا دن ایسے وقت میں آیا کہ میں حائضہ تھی۔ میں نے نبی ﷺ سے اپنی معذوری ظاہر کی تو آپؐ نے فرمایا: عمرہ چھوڑ دیں اور اپنے سر کے بال کھول ڈالیں اور کنگھی کریں۔ (معذوری دور ہونے پر) حج کا احرام باندھیں۔ (چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا) اور (حج کے بعد) جس رات ہم محصب پہنچے تو آپؐ نے عبدالرحمنؓ کو میرے ساتھ تنعیم کی طرف بھیجا۔ پھر میں نے (وہاں سے) عمرے کا احرام باندھا؛ اپنے اس عمرہ کی جگہ (جس کا احرام میں نے کھول دیا تھا۔)
پھر اس نے کہا: اچھا ہم سے آپؓ بیان کریں جو آنحضرت ﷺ نے حضرت خدیجہؓ سے متعلق فرمایا تھا۔ (تو انہوں نے کہا:) آپؐ نے فرمایا کہ خدیجہؓ کو جنت میں ایک ایسے گھر کی بشارت ہو جو خول دار موتیوں کا ہے نہ اس میں شور و غل ہے اور نہ کسی قسم کی تکلیف۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ عمرو (بن دینار) سے مروی ہے کہ انہوں نے عمرو بن اوس سے سنا۔ حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے ان کو خبر دی کہ نبی ﷺ نے ان سے فرمایا: عائشہؓ کو (اپنی سواری پر اپنے) پیچھے بٹھا لیں اور تنعیم سے ان کو عمرہ کرا لائیں۔ سفیان (بن عیینہ) نے کبھی یوں کہا: میں نے عمرو (بن دینار) سے سنا (اور کبھی یوں کہا کہ) میں نے عمرو (بن دینار) سے کئی بار یہ سنا۔
محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوہاب بن عبدالمجید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حبیب معلم سے، حبیب نے عطاء (بن ابی رباح) سے روایت کی کہ (انہوں نے کہا:) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے مجھ سے بیان کیا کہ نبی ﷺ اور آپؐ کے صحابہؓ نے حج کا احرام باندھا اور سوائے نبی ﷺ اور حضرت طلحہؓ کے اور کسی کے ساتھ قربانی کا جانور نہیں تھا اور حضرت علیؓ یمن سے آئے تھے اور ان کے ساتھ قربانی کا جانور تھا۔ انہوں نے کہا: میں نے وہی احرام باندھا ہے جو رسول اللہ ﷺ نے باندھا ہے اور نبی ﷺ نے اپنے باقی صحابہ کو فرمایا کہ وہ اس (حج) کو عمرہ کردیں۔ بیت اللہ کا طواف کریں۔ پھر بال کتروائیں اور احرام کھول دیں۔ سوائے اس شخص کے جو اپنے ساتھ قربانی کا جانور لایا ہو۔ تو لوگوں نے کہا: (یہ کیسے ہوسکتا ہے) کہ ہم منیٰ کو جائیں؛ جبکہ ہم میں سے کسی کے اعضاء سے مادہ ٹپک رہا ہو۔ یہ بات نبی ﷺ کو پہنچی تو آپؐ نے فرمایا: اگر مجھے پہلے وہ بات معلوم ہوتی جو بعد میں معلوم ہوئی تو قربانی کے جانور نہ لے جاتا اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میرے ساتھ قربانی کے جانور ہیں تو میں احرام کھول ڈالتا۔ حضرت عائشہؓ حائضہ ہوئیں۔ حج کی ساری عبادتیں کر چکی تھیں سوائے اس کے کہ انہوں نے بیت اللہ کا طوافِ زیارت نہیں کیا تھا۔ (حضرت جابرؓ نے) کہا: جب وہ حیض سے پاک ہوئیں اور طوافِ زیارت کر چکیں تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپؐ تو عمرہ اور حج کرکے جا رہے ہیں اور میں صرف حج کرکے جائوں گی؟ تو آپؐ نے حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرؓ سے فرمایا کہ ان کے ساتھ تنعیم کو جائیں۔ چنانچہ حضرت عائشہؓ نے حج کے بعد حج کے مہینہ میں عمرہ کیا اور یہ کہ حضرت سراقہ بن مالک بن جعشمؓ نبی ﷺ سے اس وقت ملے جب آپؐ عقبہ میں تھے اور اس وقت آپؐ کنکریاں پھینک رہے تھے تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا یہ (حج فسخ کرکے عمرہ کرنے کا حکم) خاص اسی وقت کے لئے ہے؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں۔ بلکہ ہمیشہ کے لئے (اجازت) ہے۔
(تشریح)محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ نے ہمیں بتایا۔ ہشام نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے باپ نے مجھے خبر دی۔ انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے خبر دی، کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایسے وقت میں نکلے؛ جبکہ ذی الحج کا چاند نکل چکا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو عمرے کا احرام باندھنا چاہے تو وہ (اس کا) احرام باندھ لے اور جو حج کا احرام باندھنا چاہے تو وہ (اس کا) احرام باندھ لے اور اگر میں قربانی نہ لایا ہوتا تو میں عمرے کا احرام باندھتا۔ صحابہ میں سے وہ بھی تھے جنہوں نے عمرہ کا نام لے کر احرام باندھا تھا اور وہ بھی جنہوں نے حج کا نام لے کر احرام باندھا تھا۔ اور میں اُن میں سے تھی جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا۔ پھر میں حائضہ ہوگئی پیشتر اس کے کہ مَیں مکہ میں داخل ہوتی۔ عرفہ کا دن ایسے وقت میں آیا کہ مَیں ابھی تک حائضہ ہی تھی۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے (اپنی اس حالت کا) ذکر کیا تو آپؐ نے فرمایا کہ اپنا عمرہ رہنے دو اور اپنا سر کھول ڈالو اور کنگھی کر لو اور (فرمایا کہ صاف ہونے پر) حج کا نام لے کر احرام باندھو تو میں نے ایسا ہی کیا۔ (حج کے بعد) جس رات ہم محصّب پہنچے تو آپؐ نے میرے ساتھ عبدالرحمنؓ کو تنعیم کی طرف بھیجا تو انہوں نے (حضرت عائشہؓ کو) اپنے پیچھے سوار کیا تو (حضرت عائشہؓ) نے عمرہ کا نام لے کر لبیک پکارا۔ یہ عمرہ ان کے اس عمرے کے بدل میں تھا (جو اُن سے ترک ہو گیا تھا۔) اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کا حج اور عمرہ پورا کردیا اور ان میں کوئی خامی نہ تھی۔ اس لئے نہ قربانی دینی پڑی اور نہ صدقہ اور نہ روزے رکھے گئے۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن زُرَیع نے ہمیں بتایا۔ (عبداللہ) بن عون نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے قاسم بن محمد سے۔ نیز ابن عون نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے اسود سے روایت کی کہ (قاسم اور اسود) دونوں کہتے تھے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! لوگ تو دو دو عبادتیں کرکے واپس جا رہے ہیں اور میں صرف ایک ہی عبادت کے ساتھ جائوں گی تو اُن سے کہا گیا کہ انتظار کریں اور جب پاک ہوں تو تنعیم کی طرف جائیں۔ (وہاں سے) احرام باندھ لیں۔ پھر فلاں جگہ ہمارے پاس آجائیں۔ مگر بات یہ ہے کہ ثواب تو اس مقدار سے ہوتا ہے جتنا آپ خرچ کریں اور جتنی مشقت برداشت کریں۔
(تشریح)ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ افلح بن حمید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قاسم (بن محمد) سے، قاسم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم حج کی نیت سے احرام باندھ کر حج کے مہینہ میں آداب حج ملحوظ رکھتے ہوئے نکلے اور مقامِ سرف پر اُترے تو نبی ﷺ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: جس کے ساتھ قربانی نہ ہو اور وہ اسے عمرہ کرنا چاہے تو کر لے اور جس کے ساتھ قربانی ہو وہ ایسا نہ کرے اور نبی ﷺ اور آپؐ کے ساتھیوں میں سے مردوں کے ساتھ - جو صاحب استطاعت تھے - قربانیاں تھیں تو ان کا عمرہ نہ ہوا۔ نبی ﷺ میرے پاس آئے اور میں رو رہی تھی اور آپؐ نے فرمایا کہ تم کیوں رو رہی ہو؟ میں نے کہا: میں نے آپؐ کی وہ بات سن لی ہے جو آپؐ نے اپنے ساتھیوں سے فرمائی ہے۔ میں عمرہ سے محروم رہ گئی۔ آپؐ نے فرمایا: کیوں تمہیں کیا ہوا؟ میں نے کہا: میں نماز نہیں پڑھتی۔ آپؐ نے فرمایا: تمہیں اس سے کوئی حرج نہیں۔ تم آدم کی بیٹیوں میں سے ایک بیٹی ہو۔ تمہارے لئے وہی مقدر ہے جو اُن کے لئے۔ اس لئے حج کی نیت رکھو۔ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں عمرہ نصیب کرے۔ حضرت عائشہؓ نے کہا: میں اسی طرح رہی؛ یہاں تک کہ ہم منیٰ سے چل پڑے اور محصّب میں اُترے تو آپؐ نے عبدالرحمنؓ کو بلایا اور فرمایا: اپنی بہن کو حرم سے باہر لے جاؤ کہ وہ عمرہ کا لبیک پکار کر عمرہ کا احرام باندھ لیں۔ پھر تم دونوں طوافِ بیت اللہ کر لو۔ میں تم دونوں کا یہیں انتظار کروں گا تو ہم آدھی رات کو واپس آئے۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم دونوں (طواف سے) فارغ ہو گئے ہو؟ میں نے کہا: ہاں۔ پھر آپؐ نے اپنے صحابہ میں کوچ کی منادی کروائی اور لوگوں نے کوچ کیا اور انہوں نے بھی جنہوں نے صبح کی نماز سے پہلے بیت اللہ کا طوافِ وداع کر لیا تھا۔ پھر آپؐ مدینہ کی طرف رُخ کر کے روانہ ہو گئے۔
(تشریح)ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام نے ہمیں بتایا کہ عطاء نے ہم سے بیان کیا، کہا: صفوان بن یعلیٰ بن امیہ نے مجھے بتایا۔ یعنی اپنے باپ سے روایت کی کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا جبکہ آپؐ جعرانہ میں تھے اور وہ جبہ پہنے تھا اور اس پر خوشبو کا نشان تھا۔ یا کہا: زردی کا نشان۔ اس نے کہا کہ آپؐ مجھے اپنے عمرے میں کیا کرنے کا حکم دیتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ پر وحی کی اور آپؐ کو ایک کپڑا اوڑھا دیا گیا۔ مجھے آرزو تھی کہ میں نبی ﷺ کو ایسی حالت میں دیکھوں کہ آپؐ پر وحی کا نزول ہو رہا ہو۔ حضرت عمرؓ نے (مجھ سے) کہا: ادھر آئو۔ کیا تم یہ دیکھ کر خوش ہوگے کہ اللہ تعالیٰ نبی ﷺ پر وحی نازل کر رہا ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ پھر انہوں نے کپڑے کا کنارہ اُٹھایا تو میں نے آپؐ کو دیکھا۔ آپؐ خراٹے لے رہے تھے اور میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے کہا: جیسے جوان اونٹ خراٹے لیتا ہے۔ جب وحی کی حالت ختم ہوئی تو آپؐ نے فرمایا: عمرہ کے متعلق پوچھنے والا کہاں ہے؟ اپنا جُبّہ اُتار دو اور خوشبو کا نشان دھو کر صاف کر دو اور زردی بالکل صاف کر دو اور اپنے عمرے میں ویسا ہی کرو جیسا حج میں کرتے ہو۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہؓ نبی ﷺ کی زوجہ سے کہا - میں ان دنوں کم سن تھا - بتائیں تو سہی اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ جو فرمایا ہے کہ صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کے نشانات میں سے ہیں۔ پس جو بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا بھی طواف کرے۔ اس سے میں سمجھتا ہوں کہ کسی پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف نہ کرے۔ تو حضرت عائشہؓ نے کہا: ہرگز نہیں۔ اگر یہ مراد ہوتی جیسا کہ تم سمجھتے ہو تو آیت یوں ہوتی کہ اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف نہ کرے۔ (بات یہ ہے کہ) یہ آیت انصار کی نسبت اُتری ہے جو منات کا نام پکار کر احرام باندھا کرتے تھے۔ اور یہ منات قُدَید کے مقابل رکھا ہوا تھا اور وہ برا سمجھتے تھے کہ صفا اور مروہ کے درمیان طواف کریں۔ پس جب اسلام آیا تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارہ میں پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ … سفیان اور ابومعاویہ نے ہشام سے روایت کرتے ہوئے اتنا بڑھایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کا حج پورا نہ کیا، نہ اس کا عمرہ جس نے صفا اور مروہ کے درمیان طواف نہ کیا۔
(تشریح)اسحق بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے جریر سے، جریر نے اسماعیل سے، اسماعیل نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے عمرہ کیا اور ہم نے بھی آپؐ کے ساتھ عمرہ کیا۔ جب آپؐ مکہ میں داخل ہوئے تو آپؐ نے طواف کیا اور ہم نے بھی آپؐ کے ساتھ طواف کیا اور آپؐ صفا اور مروہ میں آئے اور ہم بھی آپؐ کے ساتھ وہاں آئے۔ اور ہم اہل مکہ سے آپؐ کی آڑ بنے ہوئے تھے۔ مبادا کوئی آپؐ کی طرف تیر پھینکے تو میرے ایک ساتھی نے (حضرت ابن ابی اوفیٰؓ سے) پوچھا: کیا آنحضرت ﷺ کعبہ میں داخل ہوئے تھے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں۔