بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 3 of 33 hadith
ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ ابواسحق سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے سنا۔ کہتے تھے: یہ آیت ہمارے متعلق نازل ہوئی تھی۔ انصار جب حج کے لئے نکلتے اور اسی دوران میں واپس آتے تو اپنے گھروں کے دروازوں سے داخل نہ ہوتے۔ بلکہ ان کے پچھواڑے سے داخل ہوتے۔ ایک انصاری آدمی آیا تو وہ دروازے سے گھر میں داخل ہوا۔ اسے اس بات پر طعنہ دیا گیا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی نیکی نہیں ہے کہ تم گھروں میں ان کے پچھواڑوں سے آئو۔ اصل میں نیک وہ ہے جو گناہ سے بچے اور گھروں میں ان کے دروازوں سے آیا کرو۔
(تشریح)عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سمی سے، سمی نے ابوصالح سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ ص سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: سفر ایک قسم کا عذاب ہے تم میں سے کسی شخص کو اس کے کھانے پینے اور سونے سے روکتا ہے۔ پس جب وہ شخص اپنا کام پورا کر چکے تو چاہیے کہ وہ جلدی سے اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ آئے۔
سعید بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ زید بن اسلم نے مجھے خبر دی کہ ان کے باپ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مکہ کے راستے میں تھا تو ان کو صفیہ بنت ابی عبید کی سخت بیماری کی خبر پہنچی تو انہوں نے اپنی رفتار تیز کی۔ یہاں تک کہ شفق دور ہوئی تو وہ اُترے اور مغرب و عشاء کی نماز پڑھی۔ وہ دونوں جمع کیں۔ پھر کہا: میں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ جب آپؐ کو سفر کی جلدی ہوتی تو مغرب میں دیر کرتے اور ان دونوں کو جمع کرتے۔