بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 44 hadith
محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا کہ ابواُسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سفیان (ثوری) سے، سفیان نے عمارہ (بن قعقاع) سے، عمارہ نے ابوزُرعہ سے، ابوزُرعہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ کہتے تھے: ایک شخص نے نبی ﷺ سے پوچھا: یا رسول اللہ! کونسا صدقہ افضل ہے؟ آپؐ نے فرمایا: وہ صدقہ جو تم تندرستی کی حالت میں کرو، جبکہ تمہیں مال کی ضرورت، دولت مندی کی اُمید اور محتاجی کا ڈر ہو۔ تم اِتنی دیر نہ کرو کہ جب آخری سانس کا وقت آپہنچے تو تم کہنے لگو کہ فلاں کو اِتنا دو اور فلاں کو اِتنا۔ حالانکہ وہ فلاں کا تو ہو ہی چکا ہے۔
سلیمان بن دائود ابوالربیع نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا کہ) نافع بن مالک بن ابی عامر ابوسہیل نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔ جب اُس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے اور جب وعدہ کرے تو پورا نہ کرے۔
(تشریح)محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ اَوزاعی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے سعید بن مسیب اور عروہ بن زبیر سے روایت کی کہ حضرت حکیم بن حزامؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے مانگا تو آپؐ نے مجھے دیا۔ پھر میں نے مانگا تو آپؐ نے مجھے دیا۔ پھر آپؐ نے مجھ سے فرمایا: حکیم! یہ مال (دیکھنے میں) خوشنما اور (مزے میں) شیریں ہے۔ جس کسی نے اِسے سیر چشمی سے لیا اُس کے لئے تو اس میں برکت دی جاتی ہے، اور جس نے جان جوکھوں میں ڈال کر اور للچا للچا کر لیا اُس کے لئے اِس میں کبھی برکت نہیں ڈالی جائے گی۔ اور وہ اُس شخص کی طرح ہے جو کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا۔ اور اونچا ہاتھ نچلے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔ حضرت حکیمؓ کہتے تھے: میں نے کہا: یارسول اللہ! اُسی ذات کی قسم ہے جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ بھیجا! میں آپؐ کے بعد کسی سے بھی کوئی چیز نہیں لوں گا؛ یہاں تک کہ دنیا سے جدا ہو جائوں۔ اور حضرت ابوبکرؓ حضرت حکیمؓ کو بلایا کرتے تھے کہ انہیں وظیفہ دیں تو وہ اِنکار کر دیتے تھے کہ اُن سے کچھ لیں۔ پھر حضرت عمرؓ نے بھی اُن کو بلایا کہ انہیں وظیفہ دیں۔ مگر انہوں نے اُس کے لینے سے اِنکار کر دیا۔ تو (حضرت عمرؓ نے) کہا: اے مسلمانوں کی جماعت! دیکھو میں ان کے سامنے ان کا حق پیش کرتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے اس غنیمت سے (ان کے حصے میں) مقرر کیا ہے مگر یہ اس کے لینے سے اِنکار کرتے ہیں۔ چنانچہ حضرت حکیمؓ نے نبی ﷺ کے بعد لوگوں میں سے کسی سے بھی کچھ نہیں لیا یہاں تک کہ وہ فوت ہوگئے۔ اللہ اُن پر رحم کرے۔
(تشریح)بشر بن محمد سختیانی نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔ (انہوں نے کہا:) یونس نے ہمیں بتایا۔ زہری سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سالم نے مجھے بتایا۔ انہوں نے (حضرت عبداللہ) بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: تم میں سے ہر کوئی نگہبان ہے اور جس چیز کی وہ نگہبانی کر رہا ہے، اُس کے متعلق اُس سے پوچھا جائے گا۔ اور اِمام بھی ایک نگہبان ہے۔ اُس سے بھی اُس کے ماتحت لوگوں کے متعلق پوچھا جائے گا۔ اور مرد اپنے گھر والوں میں ایک نگہبان ہے اور اُس سے بھی اپنے خاندان کے متعلق پوچھا جائے گا۔ اور عورت بھی اپنے خاوند کے گھر میں نگہبان ہے اور اُس سے بھی اپنے گھر والوں کے متعلق پوچھا جائے گا۔ اور خادم بھی اپنے آقا کے مال میں نگہبان ہے اور اُس کو بھی اُس کی اشیاء زیر نگرانی کے متعلق پوچھا جائے گا۔ (حضرت ابن عمرؓ) کہتے تھے: اور میں سمجھتا ہوں کہ آپؐ نے یہ بھی فرمایا کہ مرد اپنے باپ کے مال کا نگہبان ہے۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے روایت کی۔ انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا، کہتے تھے: نبی ﷺ نے حضرت ابوطلحہؓ سے فرمایا: میں مناسب سمجھتا ہوں کہ تم باغ اپنے قریبی رشتہ داروں کے لئے رہنے دو۔ حضرت ابوطلحہؓ نے کہا: یا رسول اللہ! میں ایسا ہی کئے دیتا ہوں۔ چنانچہ حضرت ابوطلحہؓ نے وہ باغ اپنے قریبی رشتہ داروں اور اپنے چچا کے بیٹوں میں تقسیم کردیا۔
(تشریح)ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا کہ زہری سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے مجھے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل کی: اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار اور متنبہ کرو تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور آپؐ نے فرمایا: اے قریش کے لوگو! یا ایسا ہی کوئی اور کلمہ، تم دنیا کو چھوڑ دو اور خدا کے دین کو قبول کر لو۔ (یاد رکھو) میں اللہ کے حضور تمہارے کچھ کام نہیں آسکتا۔ اے عبد مناف کے بیٹو! میں اللہ کے حضور تمہارے کچھ کام نہیں آسکتا۔ اے عبد المطلب کے بیٹے عباس! میں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آسکتا۔ اے صفیہ! جو رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی ہو؛ میں اللہ کے حضور تمہارے کچھ کام نہیں آسکتا۔ اے فاطمہ! جو محمد ﷺ کی بیٹی ہے تو میرے مال سے جو چاہے مانگ لے؛ میں اللہ کے حضور تیرے کچھ کام نہیں آسکتا۔ (ابوالیمان کی طرح) اصبغ نے بھی یہی حدیث ابن وہب سے روایت کی۔ ابن وہب نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے روایت کرتے ہوئے یہی حدیث بیان کی۔
(تشریح)قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ ابو عوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس ص سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو قربانی کا اُونٹ ہانکے لئے جا رہا تھا۔ آپؐ نے اس سے فرمایا: اس پر سوار ہو جاؤ۔ تو اُس نے کہا: یا رسول اللہ! یہ اُونٹ تو قربانی کا ہے۔ آپؐ نے تیسری یا چوتھی بار فرمایا: تجھ پر افسوس! اس پر سوار ہو جاؤ۔ (راوی کو شک ہے کہ اِظہار ناراضگی کیلئے آنحضرت ﷺ نے لفظ وَیْلَکَ استعمال کیا یا وَیْحَکَ فرمایا۔)
اسماعیل (بن ابی اَویس) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ابوزناد سے، ابوزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو قربانی کا اُونٹ ہانکے لئے جا رہا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: اِس پر سوار ہوجاؤ۔ تو اُس نے کہا: یا رسول اللہ! یہ اُونٹ تو قربانی کا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: تجھ پر افسوس! اس پر سوار ہوجاؤ۔ دوسری یا تیسری بار یہ فرمایا۔
محمد (بن سلام) نے ہم سے بیان کیا کہ مخلد بن یزید نے ہمیں خبر دی کہ ابن جریج نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: یعلی (بن مسلم) نے مجھے بتایا کہ انہوں نے عکرمہ سے سنا۔ کہتے تھے: ہمیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ حضرت سعد بن عبادہؓ کی والدہ فوت ہو گئیں اور وہ اُس وقت اُن کے پاس موجود نہ تھے۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میری والدہ فوت ہو گئی ہیں اور اس وقت میں اُن کے پاس نہ تھا۔ کیا اُن کو کوئی چیز نفع دے گی؛ اگر میں اُن کی طرف سے صدقہ کر دوں؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔ (سعدؓ نے) کہا: پھر میں آپؐ کو گواہ ٹھہراتا ہوں کہ میرا باغ مخراف اُن کی طرف سے صدقہ ہے۔
یحيٰ بن بُکَیر نے ہم سے بیان کیا، (کہا) کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: عبدالرحمن بن عبداللہ بن کعب نے مجھے بتایا کہ (اُن کے باپ) عبداللہ بن کعب نے کہا کہ میں نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے اپنی نافرمانی پر جو ندامت ہے، اُس کی وجہ سے میں اپنے سارے مال سے دستبردار ہوتا ہوں جو اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کے لئے صدقہ ہوگا۔ آپؐ نے فرمایا: اپنے مال میں سے کچھ اپنے لئے بھی رکھ لو، یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ میں نے کہا: پھر میں اپنا وہ حصہ رکھ لیتا ہوں جو خیبر میں ہے۔