بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 188 hadith
عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے حمید طویل سے، حمید نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور ان پر زردی کا نشان تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اُن سے پوچھا تو انہوں نے آپؐ کو بتایا کہ انہوں نے ایک انصاری عورت سے شادی کی ہے۔ آپؐ نے پوچھا: اس کو کتنا مہر دیا ہے؟ انہوں نے کہا: کھجور کی گٹھلی برابر سونا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ولیمہ کرو گو ایک بکری ہی کا سہی۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حمید سے، حمید نے حضرت انسؓ سے روایت کی۔ آپؓ نے فرمایا: نبی ﷺ نے حضرت زینبؓ کا ولیمہ کیا اور مسلمانوں کو خوب کھلا کھلایا۔ پھر آپؐ باہر گئے جیسا کہ آپؐ جب شادی کرکے جایا کرتے تھے۔ اور اُمہات المؤمنین کے حجروں میں آئے، آپؐ اُن کے لئے دعا کرتے اور وہ آپؐ کے لئے دعا کرتیں۔ پھر واپس لوٹے تو دو آدمی دیکھے۔ آپؐ پھر لوٹ گئے۔ میں نہیں جانتا آیا میں نے آپؐ کو خبر دی یا کسی اور نے آپؐ کو خبر دی کہ وہ دونوں چلے گئے ہیں۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد نے جو کہ زید کے بیٹے ہیں ہمیں بتایا۔ انہوں نے ثابت سے، ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ پر زردی کا نشان دیکھا، آپؐ نے فرمایا: یہ کیسی ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے ایک عورت سے کھجور کی گٹھلی کے برابر سونے کے عوض میں شادی کی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ تمہارے لئے مبارک کرے۔ ولیمہ کرو، گو ایک ہی بکری سے سہی۔
فروہ بن ابی المغراء نے ہم سے بیان کیا کہ علی بن مسہر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام (بن عروہ) سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) نبی ﷺ نے مجھ سے شادی کی تو میری ماں میرے پاس آئیں اور مجھے گھر لے گئیں تو کیا دیکھتی ہوں کہ گھر میں کچھ انصاری عورتیں ہیں۔ وہ کہنے لگیں: خیر و برکت سے اور اچھے نصیب سے ہو۔
محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ بن مبارک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے معمر (بن راشد) سے، معمر نے ہمام سے، ہمام نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: انبیاء میں سے ایک نبی جنگ کے لئے نکلا اور اس نے اپنی فوج سے کہا: وہ شخص میرے ساتھ نہ آئے جس نے کسی عورت سے نکاح کیا ہو اور وہ اس کو اپنے گھر میں لانا چاہتا ہو اور ابھی اس کو نہیں لایا اور ابھی اس سے ہم بستر نہیں ہوا۔
قبیصہ بن عقبہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے عروہ سے روایت کی کہ نبیﷺ نے حضرت عائشہؓ سے نکاح کیا جبکہ وہ چھ برس کی تھیں اور اُن کو گھر میں لائے جبکہ وہ نو برس کی تھیں اور وہ آپؐ کے پاس نو برس رہیں۔
(تشریح)محمد بن سلام (بیکندی) نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حمید سے، حمید نے حضرت انسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ خیبر اور مدینہ کے درمیان تین دن ٹھہرے رہے تا حضرت صفیہؓ بنت حيّ آپؐ کے پاس رخصت کی جائیں۔ میں نے مسلمانوں کو آپؐ کے ولیمہ میں بلایا۔ اس میں نہ روٹی تھی نہ گوشت۔ آپؐ نے دستر خوان بچھائے جانے کا حکم دیا۔ پھر ان پر کھجوریں، پنیر اور گھی رکھ دیا گیا تو یہ آپؐ کا ولیمہ تھا۔ مسلمان کہنے لگے: آیا یہ اُمہات المومنین میں سے ایک ہوں گی یا اُن لونڈیوں میں سے ہیں جن کے آپؐ معاہدے کی رُو سے جائز طور پر مالک ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا: اگر تو آپؐ نے ان کو پردہ میں رکھا تو وہ اُمہات المؤمنین میں سے ہوں گی اور اگر انہیں پردہ میں نہ رکھا تو پھر وہ ان لونڈیوں میں سے ہی ہیں جن کے آپؐ معاہدے کی رُو سے جائز طور پر مالک ہوئے۔ جب آپؐ نے کوچ کیا تو آپؐ نے اپنے پیچھے حضرت صفیہؓ کے لئے جگہ درست کی اور ان کے اور لوگوں کے درمیان پردہ تان دیا۔
فروہ بن ابی مغراء نے مجھ سے بیان کیا کہ علی بن مسہر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام (بن عروہ) سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: نبی ﷺ نے مجھ سے شادی کی تو میری ماں میرے پاس آئیں اور مجھے گھر لے گئیں تو میں گھبرا گئی کہ اچانک رسول اللہ ﷺ چاشت کے وقت گھر آگئے۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ محمد بن منکدر نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم نے سوزنیاں بنائیں؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ! ہمارے لئے سوزنیاں کہاں؟ آپؐ نے فرمایا: وہ عنقریب ضرور ہوں گی۔
فضل بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن سابق نے ہمیں بتایا۔ اسرائیل نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے ایک عورت کا ایک انصاری شخص کے پاس رخصتانہ کیا۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: عائشہؓ! تمہارے ساتھ کچھ گانا بجانا نہ تھا؟ کیونکہ انصار گانا بجانے سے خوش ہوتے ہیں۔