بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 182 hadith
(امام بخاریؒ نے کہا: اور اسحاق بن ابراہیم نے کہا: ہمیں مغیرہ بن سلمہ نے بتایا کہ ہم سے وہیب (بن خالد) نے بیان کیا۔ اُنہوں نے ابوحازم سے، ابوحازم نے حضرت سہل بن سعدؓ سے، حضرت سہل نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جنت میں ایک ایسا درخت ہے کہ سوار اس کے سایہ میں سو برس تک بھی چلتا رہے وہ اس کو طے نہیں کرے گا۔
میرے باپ نے کہا: میں نے نعمان بن ابی عیاش سے یہ بیان کیا۔ اُنہوں نے کہا: میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حضرت ابوسعیدؓ کو بھی اِسی طرح بیان کرتے ہوئے سنا اور وہ اس میں اتنا بڑھاتے تھے جیسا کہ تم آسمان کے شرقی اور غربی کنارے میں ڈوبتے ہوئے ستارے کو دیکھتے ہو۔
ابو حازم نے (اسی سند سے) کہا: میں نے نعمان بن ابی عیاش سے یہ بیان کیا تو اُنہوں نے کہا: مجھے حضرت ابو سعیدؓ نے نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ آپؐ نے فرمایا: جنت میں ایک ایسا درخت ہے کہ گھوڑ دوڑ کے لئے تیار کئے ہوئے اعلیٰ قسم کے نہایت ہی تیز گھوڑے کا سوار سو سال تک بھی چلتا رہے تو اس کو طے نہیں کرے گا۔
قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالعزیز (بن ابی حازم) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابوحازم سے، ابوحازم نے حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری اُمت میں سے ستر ہزار یا فرمایا: سات لاکھ جنت میں داخل ہوں گے۔ ابوحازم نہیں جانتے کہ حضرت سہلؓ نے کونسا لفظ کہا۔ وہ سنبھل کر ایک دوسرے کو پکڑتے ہوئے داخل ہوں گے۔ ان میں سے اگلا شخص اس وقت تک داخل نہیں ہوگا جب تک کہ ان میں سے سب سے پچھلا داخل نہ ہوجائے۔ ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوں گے۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالعزیز (بن ابی حازم) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت سہلؓ سے، حضرت سہلؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جنت والے جنت میں اپنے بالا خانوں کو اس طرح دیکھیں گے۔ جیسے تم آسمان میں ستاروں کو دیکھتے ہو۔
محمد بن بشار نے مجھ سے بیان کیا کہ غندر نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے ابوعمران (جونی) سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا۔ حضرت انسؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرمائے گا دوزخیوں میں سے جس کو قیامت کے روز بہت ہلکی سزا ہوگی (اس سے پوچھا جائے گا) جو کچھ بھی زمین میں ہے اگر تمہارے لئے ہو تو کیا تم اس کو دے کر اپنے آپ کو چھڑواؤ گے؟ وہ کہے گا: ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے تجھ سے اس سے بھی آسان بات چاہی تھی جبکہ تو آدم کی پشت میں تھا اور وہ یہ کہ کسی چیز کو بھی میرا شریک نہ ٹھہراؤ مگر تم نے نہ مانا میرے شریک ہی ٹھہرائے۔
ابونعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد (بن زید) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عمرو (بن دینار) سے، عمرو نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا: شفاعت سے جو آگ سے نکلیں گے وہ ایسے ہوں گے جیسے ثعاریر۔ (حماد کہتے تھے) میں نے پوچھا: یہ ثعاریر کیا چیز ہے؟ اُںہوں نے کہا: چھوٹی ککڑیاں۔ اور اُن کے دانت گر گئے تھے۔ میں نے عمرو بن دینار ابو محمد سے پوچھا: کیا آپ نے حضرت جابر بن عبداللہؓ سے سنا کہ وہ یہ کہتے تھے کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: شفاعت پر آگ سے نکلیں گے؟ اُنہوں نے کہا ہاں۔
ہدبہ بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام نے ہمیں بتایا کہ قتادہ سے مروی ہے کہ حضرت انس بن مالکؓ نے ہم سے بیان کیا، حضرت انسؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: آگ سے کچھ لوگ جبکہ وہ اس سے جل کر کالے پیلے ہو جائیں گے نکلیں گے اور جنت میں داخل ہوں گے تو جنتی اُن کے نام جہنمی رکھیں گے۔
موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ وہیب نے ہمیں بتایا۔ عمرو بن یحيٰ نے ہم سے بیان کیا، عمر و نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جب جنتی جنت میں اور دوزخی آگ میں داخل ہو جائیں گے تو اللہ فرمائے گا۔ جو شخص ایسا ہو کہ اس کے دل میں ایک رائی کے دانے برابر بھی ایمان ہو اس کو نکال لو اور وہ نکلیں گے جل کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے اور اُنہیں آب حیات میں ڈالا جائے گا پھر وہ اُسی طرح نشوونما پائیں گے جیسے دانہ سیلاب کے کوڑا کرکٹ میں اُ گتا ہے یا کہا سیلاب کے کچرے میں اور نبی ﷺ نے فرمایا: کیا تم نے دیکھا نہیں کہ وہ زرد لپٹا ہوا اُگتا ہے؟
محمد بن بشار نے مجھ سے بیان کیا کہ غندر نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا، شعبہ نے کہا: میں نے ابواسحاق (سبیعی) سے سنا۔ اُنہوں نے کہا: میں نے حضرت نعمان (بن بشیرؓ) سے سنا۔ (حضرت نعمانؓ نے کہا) میں نے نبی ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: دوزخیوں میں سے جسے قیامت کے دن سب سے ہلکا عذاب ہو گا وہ وہ شخص ہوگا جس کے تلوں میں انگارہ رکھا جائے گا جس سے اس کا دماغ اُبلے گا۔