بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 182 hadith
عبداللہ بن رجاء نے ہم سے بیان کیا کہ اسرائیل نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے حضرت نعمان بن بشیرؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: دوزخیوں میں سے جسے قیامت کے دن سب سے ہلکا عذاب ہوگا وہ وہ شخص ہوگا جس کے تلووں پر دو انگارے رکھے جائیں گے جن سے اس کا دماغ اُبلے گا جیسے ہنڈیا اُبلتی ہے۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عمرو (بن مُرّہ) سے، عمرو نے خیثمہ (بن عبدالرحمٰن جعفی) سے، خیثمہ نے حضرت عدی بن حاتمؓ سے روایت کی کہ نبیﷺ نے آگ کا ذکر کیا اور اپنا منہ ایک طرف پھیر لیا اور اس سے پناہ مانگی۔ پھر آپؐ نے آگ کا ذکر کیا اور اپنا منہ ایک طرف پھیر لیا اور اُس سے پناہ مانگی۔ پھر آپؐ نے فرمایا: آگ سے بچو گو کھجور کے ایک ٹکڑے سے ہی، اور جو یہ بھی نہ پائے تو اچھی بات ہی سے۔
ابراہیم بن حمزہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابن ابی حازم اور دراوردی نے ہمیں بتایا۔ ان دونوں نے یزید سے، اُنہوں نے عبداللہ بن خباب سے، عبداللہ نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اُنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا اور آپؐ کے پاس آپؐ کے چچا ابو طالب کا ذکر کیا گیا۔ آپؐ نے فرمایا: قیامت کے دن شاید اُن کو میری سفارش فائدہ دے اور اُنہیں دوزخ کے ایک پایاب مقام میں رکھا جائے جہاں آگ اُن کے ٹخنوں تک ہی پہنچے جس سے اُن کے دماغ کا بھیجا اُبلتا رہے۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ لوگوں کو اکٹھا کرے گا اور وہ مشورہ کریں گے اگر ہم اپنے ربّ کے حضور کسی کی سفارش کرائیں کہ وہ ہمیں اپنی اس حالت سے چھٹکارا دے تو وہ آدمؑ کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: آپؑ وہ ہیں جن کو اللہ نے اپنے ہاتھ سے بنایا اور آپؑ میں اپنی روح پھونکی اور ملائکہ کو حکم دیا تو اُنہوں نے آپؑ کو سجدہ کیا اس لئے آپ ہمارے لئے ربّ کے حضور سفارش کریں۔ وہ کہیں گے: میں اس مقام پر نہیں ہوں اور وہ اپنی خطا یاد کریں گے اور کہیں گے نوحؑ کے پاس جاؤ جو پہلے رسول ہیں جن کو اللہ نے بھیجا اور وہ اُن کے پاس آئیں گے (اور سفارش کے لئے کہیں گے:) تو وہ جواب دیں گے۔ میں اس مقام پر نہیں ہوں اور وہ اپنی خطا یاد کریں گے۔ کہیں گے ابراہیمؑ کے پاس جاؤ جن کو اللہ نے اپنا خلیل بنایا۔ یہ سن کر وہ اُن کے پاس آئیں گے اور وہ جواب دیں گے۔ میں اس مقام پر نہیں اور اپنی خطا یاد کریں گے۔ (کہیں گے) موسیٰؑ کے پاس جاؤ جن سے اللہ نے کلام کیا اور وہ اُن کے پاس آئیں گے۔ تو وہ کہیں گے: میں اس مقام پر نہیں اور وہ اپنی خطا یاد کریں گے۔ کہیں گے: عیسیٰؑ کے پاس جاؤ اور وہ اُن کے پاس آئیں گے اور وہ کہیں گے: میں اس مقام پر نہیں۔ محمد ﷺ کے پاس جاؤ کیونکہ اُن کے پہلے پچھلے قصور بخش دئیے گئے ہیں۔ پھر وہ میرے پاس آئیں گے اور میں اپنے ربّ کے پاس جانے کی اجازت مانگوں گا۔ جب میں دیکھوں گا تو سجدے میں گر جاؤں گا اور جب تک اللہ چاہے گا مجھے سجدے میں پڑا رہنے دے گا پھر کہا جائے گا: اپنا سر اُٹھا، مانگ تجھے دیا جائے گا اور کہو تمہاری سنی جائے گی، سفارش کرو تمہاری سفارش قبول ہو گی۔ تب میں اپنا سر اُٹھاؤں گا اور اپنے ربّ کی وہ ستائش کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا۔ پھر میں سفارش کروں گا اور وہ میرے لئے ایک حد مقرر کرے گا اور اس کے بعد میں اُن کو آگ سے نکالوں گا اور جنت میں داخل کروں گا۔ پھر میں دوبارہ جاؤں گا۔ اسی طرح سجدے میں گر جاؤں گا۔ اسی طرح تیسری بار یا چوتھی بار سفارش کروں گا یہاں تک کہ سفارش کر کے اُن کو آگ سے نجات دلاؤں گا۔ یہاں تک کہ آگ میں صرف وہی رہ جائیں گے جنہیں قرآن نے وہاں روکے رکھا اور قتادہ یہ بیان کر کے کہا کرتے تھے یعنی جس کے لئے ہمیشہ رہنا ضروری ہے۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (قطان) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے حسن بن ذکوان سے، ابورجاء نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: محمد ﷺ کی سفارش سے کچھ لوگ آگ سے نکلیں گے اور جنت میں داخل ہوں گے۔ اُنہیں جہنمی کے نام سے یاد کیا جائے گا۔
قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے حمید سے، حمید نے حضرت انسؓ سے روایت کی کہ حارثہؓ بدر کے دن شہید ہو گئے تھے اُنہیں ایک ناگہانی تیر لگا تھا۔ حضرت اُم حارثہؓ رسول اللہؐ کے پاس آئیں اور وہ کہنے لگیں: یا رسول اللہ! آپؐ خوب جانتے ہیں جو حارثہؓ کی محبت میرے دل میں تھی اگر تو وہ جنت میں ہے تو میں اُس پر نہیں روؤں گی ورنہ آپؐ عنقریب دیکھ لیں گے کہ میں کیا کچھ کروں گی۔ آپؐ نے فرمایا: بھولی بھالی! کیا جنت ایک ہی ہے؟ جنتیں تو بہت ہیں اور وہ تو فردوس بریں میں ہے۔
اور فرمایا: اللہ کی راہ میں تھوڑا سا صبح کو نکلنا یا تھوڑا سا شام کو نکلنا دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے اور جنت میں تم میں سے ایک کی کمان برابر یا پاؤں رکھنے کی جگہ دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے اور اگر جنتیوں کی عورتوں میں سے کوئی عورت زمین پر جھانک پائے تو وہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے سب کو روشن کر دے اور اس ساری فضا کو جو زمین و آسمان کے درمیان ہے خوشبو سے بھر دے اور اس کا دوپٹہ یعنی اوڑھنی دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہم سے بتایا۔ ابوزناد نے ہم سے بیان کیا، ابوزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کی، اُنہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: جنّت میں جو کوئی بھی داخل ہوگا تو ضرور اُسے اس کا ٹھکانا جو آگ میں ہوتا اگر وہ برے کام کرتا دکھایا جائے گا تاکہ وہ زیادہ شکر گزار ہو اور جو کوئی بھی آگ میں داخل ہو گا تو ضرور اسے اس کا ٹھکانا دکھایا جاتا ہے جو جنت میں ہوتا اگر وہ اچھے کام کرتا تا کہ یہ اسے حسرت رہے۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عمرو (بن ابی عمرو) سے، عمرو نے سعید بن ابی سعید مقبری سے، سعید نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! لوگوں میں سے کون زیادہ خوش قسمت ہوگا جو آپؐ کی سفارش (سے قیامت کے دن نجات) پائے گا؟ آپؐ نے فرمایا: ابوہریرہؓ! میں خوب سمجھتا تھا کہ اس بات کے متعلق تم سے پہلے کوئی مجھ سے نہیں پوچھے گا۔ کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ تم ایسی باتوں کا بہت شوق رکھتے ہو۔ قیامت کے دن میری سفارش کے ذریعہ لوگوں میں سے وہ شخص زیادہ خوش قسمت ہو گا جس نے خالصًا اپنے دل سے لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کا اقرار کیا۔
عثمان بن ابی شیبہ نے ہمیں بتایا کہ جریر نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے منصور سے، منصور نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے عبیدہ (سلمانی) سے، عبیدہ نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا: میں خوب جانتا ہوں جو دوزخیوں میں سے سب سے آخر آگ سے نکلے گا اور جنتیوں میں سب سے آخر جو داخل ہوگا ایک شخص آگ سے گھٹنوں کے بل گھسٹتے ہوئے نکلے گا اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جاؤ جنّت میں داخل ہوجاؤ اور وہ وہاں آئے گا اسے دکھائی دے گا کہ وہ بھری ہوئی ہو گی۔ یہ دیکھ کر وہ لوٹ جائے گا اور کہے گا: میرے ربّ! میں نے اس کو بھرا ہوا پایا ہے۔ اور وہ فرمائے گا: جاؤ جنّت میں داخل ہو جاؤ۔ پھر وہ آئے گا اور اسے دکھائی دے گا کہ وہ بھری ہوئی ہے۔ یہ دیکھ کر وہ لوٹ جائے گا اور کہے گا: میرے ربّ! میں نے اس کو بھرا ہوا پایا ہے۔ وہ کہے گا کہ جاؤ جنت میں داخل ہو۔ تمہارے لئے اتنا ہے جتنی دنیا اور اس سے دس گنا یا کہا کہ تمہارے لئے اتنا ہے جتنی دس دنیا اور وہ کہے گا: کیا تو مجھ سے ٹھٹھا کرتا ہے یا کہے گا تو مجھ سے ہنسی کرتا ہے حالانکہ تو بادشاہ ہے؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپؐ اتنا ہنسے کہ آپؐ کے دانت ظاہر ہوگئے اور لوگ کہا کرتے تھے کہ یہ جنتیوں کا ادنیٰ سے ادنیٰ درجہ ہے۔