بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 182 hadith
محمد بن کثیر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سفیان (بن عیینہ) سے، سفیان نے اعمش سے، اعمش نے شقیق ابو وائل سے، انہوں نے حضرت خباب رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہجرت کی پھر اپنی ہجرت کا واقعہ بیان کیا۔
(تشریح)سعد بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ شیبان (بن عبدالرحمٰن) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ سے، یحيٰ نے محمد بن ابراہیم قُرشی سے، محمد نے کہا معاذ بن عبدالرحمٰن نے مجھے بتایا کہ ابن ابان نے انہیں خبر دی کہ اُنہوں نے کہا: میں حضرت عثمان بن عفانؓ کے لئے وضو کا پانی لایا اور وہ مقاعد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا۔ پھر کہا: میں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپؐ نے وضو کیا تھا جبکہ آپؐ یہیں بیٹھے ہوئے تھے اور آپؐ نے اچھی طرح وضو کیا۔ پھر آپؐ نے فرمایا: جس نے اس وضو کی طرح وضو کیا پھر مسجد میں آ کر دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر وہاں بیٹھ گیا تو جو قصور بھی اس کا ہو چکا ہے اس پر پردہ پوشی کرتے ہوئے اس سے درگزر کیا جائے گا۔ حضرت عثمانؓ نے کہا اور نبی ﷺ نے فرمایا: دھوکے میں نہ رہنا۔
یحيٰ بن حماد نے مجھ سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے بیان (بن بشر) سے، بیان نے قیس بن ابی حازم سے، قیس نے مِرداس اسلمی سے روایت کی انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: نیک لوگ جو پہلے ہیں وہ پہلے چلے جائیں گے اور جَو کے بھوسے کی طرح یا (فرمایا) ردی کھجور کی طرح کچھ ردّی لوگ رہ جائیں گے اللہ ان کی ذرہ بھی پرواہ نہیں کرے گا۔ ابوعبداللہ (امام بخاری) نے کہا: حُفَالَةٌ بھی کہتے ہیں اور حُثَالَةٌ بھی کہتے ہیں۔
یحيٰ بن یوسف نے مجھ سے بیان کیا کہ ابوبکر بن عیاش نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابو حصین سے، ابو حصین نے ابو صالح سے، ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دینار اور درہم کا بندہ اور چادر اور کملی کا بندہ بہت ہی بدبخت ہے اگر اسے کچھ دیا جائے تو خوش ہوگیا اور اگر نہ دیا جائے تو ناراض ہوگیا۔
ابوعاصم نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابن جریج سے، ابن جریج نے عطاء (بن ابی رباح) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے۔ میں نے نبی ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: اگر ابن آدم کے لئے دو وادیاں بھی مال کی (بھری ہوئی) ہوتیں تو ضرور ہی تیسری وادی بھی ڈھونڈتا اور بنی آدم کے پیٹ کو صرف مٹی ہی بھرتی ہے اور اللہ اس پر رحم کرتا ہے جو توبہ کرے۔
محمد (بن سلام) نے مجھ سے بیان کیا کہ مخلد (بن یزید) نے ہمیں بتایا۔ ابن جریج نے ہمیں خبر دی۔ ابن جریج نے کہا میں نے عطاء سے سنا۔ وہ کہتے تھے میں نے حضرت ابن عباسؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: اگر ابن آدم کے لئے بھری وادی جتنا مال ہوتا تو وہ ضرور چاہتا کہ اس کو اتنا ہی اور مل جائے اور ابن آدم کی آنکھ کو صرف مٹی ہی بھرتی ہے اور اللہ اس پر رحم کرتا ہے جو توبہ کرے۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے۔ میں نہیں جانتا کہ یہ قرآن سے ماخوذ ہے یا نہیں۔ کہتے تھے: اور میں نے ابن زبیرؓ سے سنا کہ وہ یہ بات منبر پر کھڑے کہہ رہے تھے۔
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرحمٰن بن سلیمان بن غسیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عباس بن سہل بن سعد سے روایت کی انہوں نے کہا۔ میں نے حضرت ابن زبیرؓ سے سنا جبکہ وہ مکہ میں منبر پر کھڑے اپنی تقریر کر رہے تھے کہتے تھے: اے لوگو ! نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے۔ اگر ابن آدم کو ایک وادی بھی سونے کی بھری ہوئی دی جائے تو وہ اس کے ساتھ دوسری بھی چاہے گا اور اگر دوسری بھی دی جائے تو اس کے ساتھ تیسری بھی چاہے گا اور مٹی ہی ابن آدم کے پیٹ کو بھر سکتی ہے اور اللہ رحم کرتا ہے اس پر جس نے توبہ کی۔
عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے صالح سے، صالح نے ابن شہاب سے روایت کی انہوں نے کہا: حضرت انس بن مالکؓ نے مجھے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر ابن آدم کے لئے سونے کی ایک وادی بھی ہو تو وہ چاہے گا کہ اس کے لئے دو وادیاں ہوں اور اس کے منہ کو کبھی کوئی چیز نہ بھرے گی مگر مٹی ہی اور اللہ رحم کرتا ہے اس پر جس نے توبہ کی۔
اور ابوالولید نے ہم سے کہا کہ ہمیں حماد بن سلمہ نے بتایا۔ اُنہوں نے ثابت سے، ثابت نے حضرت انسؓ سے، حضرت انسؓ نے حضرت اُبَیّ (بن کعبؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم سمجھا کرتے تھے یہ قول قرآن میں ہے یہاں تک کہ سورۃ اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ نازل ہوئی۔
(تشریح)علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے کہا میں نے زہری سے سنا۔ زہری کہتے تھے مجھے عروہ اور سعید بن مسیب نے خبر دی۔ ان دونوں نے حضرت حکیم بن حزامؓ سے روایت کی انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ سے کچھ مانگا تو آپؐ نے مجھے عطا کیا۔ پھر میں نے آپؐ سے مانگا۔ پھر آپؐ نے مجھے دیا۔ پھر میں نے آپؐ سے مانگا آپؐ نے دیا۔ پھر فرمایا: یہ مال اور کبھی سفیان نے یوں کہا۔ آپؐ نے مجھ سے فرمایا: حکیمؓ یہ مال ہرا بھرا شیریں ہے جس نے اس کو سیر چشمی سے لیا۔ اس میں اس کو برکت دی جائے گی اور جس نے اسے لالچ سے لیا تو اس میں اس کے لئے برکت نہیں ڈالی جائے گی اور وہ اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا ہے سیر نہیں ہوتا اور اوپر کا ہاتھ نچلے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔
(تشریح)