بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 117 hadith
عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سلیمان بن بلال نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حُمید سے، حمید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج سے الگ رہنے کی قسم کھائی اور آپؐ کے پائوں میں موچ آگئی تھی اور آپؐ ایک بالا خانہ میں اُنتیس راتیں رہے۔ پھر اُترے تو لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! ایک مہینہ بھر کی آپؐ نے قسم کھائی تھی تو آپؐ نے فرمایا: مہینہ اُنتیس دِن کا بھی ہوتا ہے۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ معتمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اسحاق (بن سُوَید) سے سنا۔ انہوں نے عبد الرحمن بن ابی بکرہ سے، عبدالرحمن نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ نیز مسدد نے بھی مجھ سے بیان کیا کہ معتمر نے ہمیں بتایا۔ خالد حذاء سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: عبدالرحمن بن ابی بکرہ نے مجھے خبر دی۔ انہوں نے اپنے باپ (حضرت ابوبکرہ) رضی اللہ عنہ سے، اُن کے باپ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: دو مہینے (بلحاظِ ثواب) ناقص نہیں ہوتے۔ رمضان کی عید کا مہینہ اور ذوالحج کا مہینہ۔ ابوعبد اللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: احمد بن حنبلؒ نے کہا: اگر رمضان (تیس دن سے) کم ہو تو ذوالحجہ (تیس دن کا) پورا ہوگا اور اگر ذوالحجہ (تیس دن سے) کم ہو تو رمضان پورا ہوگا اور ابوالحسن نے کہا کہ اسحاق بن راہویہ کہا کرتے تھے کہ وہ دونوں فضیلت میں کم نہیں ہوتے خواہ اُنتیس دن کے ہوں یا تیس کے۔
(تشریح)آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ اسود بن قیس نے ہم سے بیان کیا۔ سعید بن عمرو نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کرتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: ہم اُمی لوگ ہیں۔ نہ ہم لکھنا جانتے ہیں اور نہ حساب کرتے ہیں۔ انگلیوں سے اِشارہ کرتے ہوئے فرمایا: مہینہ اِتنا اور اِتنا ہوتا ہے۔ کبھی اُنتیس اور کبھی تیس کا۔
(تشریح)مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام نے ہمیں بتایا۔ یحيٰ بن ابی کثیر نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: تم میں سے کوئی رمضان سے پہلے ایک دِن یا دو دِن روزہ نہ رکھے، سِوائے اُس شخص کے جو اُن دِنوں میں روزہ رکھنے کا خوگر ہو۔ چاہیے کہ وہ اُس دِن روزہ رکھ لے۔
(تشریح)عبید اللہ بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے اسرائیل سے، اسرائیل نے ابو اسحاق سے، ابو اسحاق نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: محمد ﷺ کے ساتھیوں میں سے جب کوئی شخص روزہ دار ہوتا اور افطار کا وقت آجاتا اور وہ افطار سے پہلے سو جاتا تو وہ نہ اُس رات میں کچھ کھاتا اور نہ دوسرے دن؛ یہاں تک کہ اُسے شام ہوجاتی اور حضرت قیس بن صرمہ انصاریؓ روزہ دار تھے۔ جب افطار کا وقت ہوا تو اپنی بیوی کے پاس آئے تو انہوں نے اُس سے کہا: کیا تیرے پاس کھانا ہے؟ کہنے لگی: نہیں۔ لیکن میں جاتی ہوں آپؓ کے لئے ڈھونڈ کر لے آتی ہوں اور وہ دن کو مزدوری کیا کرتے تھے تو اُن کی آنکھ لگ گئی۔ اُن کی بیوی اُن کے پاس آئی۔ جب انہیں سوتا پایا، کہنے لگی: ہائے تیری محرومی جب آدھا دِن ہوا تو بے ہوشی اُن پر طاری ہوگئی۔ نبی ﷺ سے اس کا ذکر کیا گیا تو یہ آیت نازل ہوئی کہ روزوں کی راتوں میں تمہارا اپنی بیویوں کے پاس جانا جائز کیا گیا ہے۔ وہ اس آیت پر بہت ہی خوش ہوئے اور یہ آیت بھی نازل ہوئی: اور کھائو اور پیو، یہاں تک کہ تمہارے لئے سفید دھاری کالی دھاری سے نمایاں ہوجائے۔
(تشریح)حجاج بن منہال نے ہم سے بیان کیا کہ ہُشَیم نے ہمیں بتایا، کہا: مجھے حصین بن عبدالرحمن نے خبر دی۔ انہوں نے شعبی سے، شعبی نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب آیت حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ۔ (یہاں تک کہ فجر کی سفید دھاری کالی دھاری سے تمہارے لئے پورے طور پر ظاہر ہوجائے۔) نازل ہوئی تو میں نے ایک کالی رسی اور ایک سفید رسی لی اور ان دونوں کو اپنے تکیہ کے نیچے رکھ لیا اور رات کو دیکھنے لگا تو مجھے فرق ظاہر نہ ہوا۔ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس صبح کو گیا اور آپؐ سے اس کا ذکر کیا تو آپؐ نے فرمایا: اس سے مراد تو رات کی سیاہی اور دِن کی سفیدی ہے۔
سعید بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا کہ ابن ابی حازم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت سہل بن سعدؓ سے۔ (نیز) سعید بن ابی مریم نے بھی مجھ سے بیان کیا کہ ابو غسان محمد بن مطرف نے ہمیں بتایا، کہا: ابو حازم نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت سہل بن سعدؓ سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ نازل ہوئی اور اس میں مِنَ الْفَجْرِ کے الفاظ نہیں تھے۔ کچھ لوگ ایسے تھے کہ جب وہ روزہ رکھنے کا اِرادہ کرتے تو اُن میں سے کوئی اپنے پائوں میں کالا دھاگہ اور سفید دھاگہ باندھ لیتا اور اُس وقت تک کھاتا رہتا کہ اُن دونوں میں فرق معلوم کرنا اُس کے لئے پورے طور پر ظاہر ہو جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے اِس کے بعد مِنَ الْفَجْرِ کے الفاظ نازل فرمائے اور اُن کو علم ہو گیا کہ اس سے تورات اور دِن مراد ہیں۔
(تشریح)عبید بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابو اُسامہ سے، ابو اُسامہ نے عبید اللہ سے، عبید اللہ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ اور قاسم بن محمد سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے: حضرت بلالؓ رات کو ہی اذان دے دیا کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ (عبداللہ) ابن امّ مکتومؓ اذان دیں کیونکہ وہ اُس وقت تک اذان نہیں دیتے جب تک فجر طلوع نہ کرے۔ قاسم نے کہا: اُن دونوں کی اذان کے درمیان صرف اِتنا ہی فرق ہوتا تھا کہ یہ چھت پر چڑھے اور وہ اُترے۔
(تشریح)عبید بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابو اُسامہ سے، ابو اُسامہ نے عبید اللہ سے، عبید اللہ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ اور قاسم بن محمد سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے: حضرت بلالؓ رات کو ہی اذان دے دیا کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ (عبداللہ) ابن امّ مکتومؓ اذان دیں کیونکہ وہ اُس وقت تک اذان نہیں دیتے جب تک فجر طلوع نہ کرے۔ قاسم نے کہا: اُن دونوں کی اذان کے درمیان صرف اِتنا ہی فرق ہوتا تھا کہ یہ چھت پر چڑھے اور وہ اُترے۔
(تشریح)محمد بن عبید اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ عبد العزیز بن ابی حازم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ ابو حازم سے، ابو حازم نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے گھر والوں میں سحری کھایا کرتا تھا تو پھر مجھے جلدی ہوتی کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صبح کی نماز پاؤں۔
(تشریح)