بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 117 hadith
33. To observe Saum (fast) or not during journeys
باب ۳۳ : الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ وَالإِفْطَارِ
سفر میں روزہ رکھنا اور افطار کرنا
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ ابو اسحاق شیبانی سے مروی ہے کہ انہوں نے (حضرت عبداللہ) بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہم ایک سفر میں تھے۔ آپؐ نے ایک شخص سے کہا: (اس جگہ) اُترو اور میرے لیے ستو گھولو۔ اُس نے کہا: یا رسول اللہ! سورج (ابھی ہے۔) آپؐ نے فرمایا: اُترو اور میرے لیے ستو گھولو۔ اُس نے کہا: یا رسول اللہ! سورج (ابھی ہے۔) آپؐ نے فرمایا: اُترو اور ستو گھولو۔ چنانچہ وہ اُترا اور آپؐ کے لئے اُس نے ستو گھولے۔ آپؐ نے پئے۔ پھر آپؐ نے اپنے ہاتھ سے اس (یعنی مغرب کی) طرف اشارہ کیا اور فرمایا: جب تم رات کو دیکھو کہ وہ اس طرف سے آگئی ہے تو پھر روزے دار کی افطاری ہے۔ جریر اور ابوبکر بن عیاش نے بھی (سفیان بن عیینہ کی طرح ابواسحاق) شیبانی سے روایت بیان کی کہ حضرت ابن ابی اوفیؓ سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ کے ساتھ مَیں ایک سفر میں تھا۔
34. If a person observed Saum for some days and then went on a journey.
باب ۳۴ : إِذَا صَامَ أَيَّامًا مِنْ رَمَضَانَ ثُمَّ سَافَرَ
جب رمضان میں کچھ دن روزے رکھے پھر سفر کرے
36. It is not righteousness to observe Saum on a journey
باب ۳۶ : قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ، وَاشْتَدَّ الْحَرُّ: «لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصَّوْمُ فِي السَّفَرِ»
نبی ﷺ کا اُس شخص کے لئے جس پر سایہ کیا گیا تھا جبکہ گرمی سخت تھی یہ فرمانا: سفر میں روزہ کوئی نیکی نہیں
37. Not to criticize each other for observing Saum or not (on journeys)
باب ۳۷ : لَمْ يَعِبْ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بَعْضُهُمْ بَعْضًا فِي الصَّوْمِ وَالإِفْطَارِ
نبی ﷺ کے صحابہ نے روزے اور افطار کے بارے میں ایک دوسرے پر نکتہ چینی نہیں کی
38. Whoever broke his Saum (fast) on a journey (publicly).
باب ۳۸ : مَنْ أَفْطَرَ فِي السَّفَرِ لِيَرَاهُ النَّاسُ
سفر میں جس نے روزہ افطار کیا تا لوگ اُسے دیکھیں
39. (The Statement of Allah تعالى): “And as for those who can fast with difficulty (e.g. the aged etc.) they have (a choice either to fast or) to feed a Miskin (poor person) (for every day).” (V.2:184)
باب ۳۹ : وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ
اُن پر جو اس کی طاقت رکھیں فدیہ ہے
40. To make up for the missed days of fasting
باب ۴۰ : مَتَى يُقْضَى قَضَاءُ رَمَضَانَ
رمضان کے چھوٹے ہوئے روزے کب رکھے جائیں؟
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ نے ہمیں بتایا۔ ہشام (بن عروہ) سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا۔ حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ حمزہ بن عمرو اسلمیؓ نے کہا: یا رسول اللہ! میں لگاتار روزے رکھتا ہوں۔
(اور) عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے نبی ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ حمزہ بن عمرو اسلمیؓ نے نبی ﷺ سے کہا: کیا سفر میں مَیں روزہ رکھوں؟ اور وہ روزے بہت رکھا کرتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: اگر چاہو تو رکھو اور اگر چاہو تو نہ رکھو۔
عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ رمضان میں مکہ کے لئے نکلے تو آپؐ روزہ دار تھے یہاں تک کہ مقامِ کدید میں پہنچے تو روزہ افطار کیا اور لوگوں نے بھی افطار کیا۔ ابوعبداللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: اور کدید عُسفان اور قدید کے درمیان پانی ہے۔
عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ بن حمزہ نے ہمیں بتایا۔ عبدالرحمن بن یزید بن جابر سے مروی ہے کہ اسماعیل بن عبیداللہ نے اُن سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت امّ دردائؓ سے، حضرت امّ دردائؓ نے حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: گرمی کے ایک دِن نبی ﷺ کے ساتھ ہم آپؐ کے سفروں میں سے ایک سفر میں نکلے۔ حالت یہ تھی کہ سخت گرمی کی وجہ سے آدمی اپنے سر پر اپنا ہاتھ رکھتا اور ہم میں کوئی بھی روزہ دار نہ تھا، سوائے نبی ﷺ اور حضرت ابن رواحہؓ کے۔
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ محمد بن عبدالرحمن انصاری نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے محمد بن عمرو بن حسن بن علی سے سنا کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے تو آپؐ نے ایک جمگھٹا دیکھا اور ایک شخص کو جس پر سایہ کیا ہوا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ تو لوگوں نے کہا: ایک روزہ دار ہے۔ آپؐ نے فرمایا: سفر میں روزہ کوئی نیکی نہیں۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے حمید طویل سے، حمید نے حضرت انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ کے ساتھ ہم سفر کیا کرتے تھے تو روزہ دار بے روزہ دار پر اِعتراض نہ کرتا اور نہ بے روزہ دار روزہ دار پر۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے مجاہد سے، مجاہد نے طائوس سے، طائوس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ مدینہ سے مکہ کے لئے نکلے تو آپؐ نے روزہ رکھا یہاں تک کہ جب عسفان پہنچے تو پھر پانی منگوایا اور آپؐ نے اپنے ہاتھوں کو بلند کرکے اُسے اُٹھایا تا کہ لوگ دیکھیں۔ پھر آپؐ نے روزہ کھول دیا اور اُسی حالت افطار میں مکہ پہنچ گئے اور یہ واقعہ رمضان میں ہوا۔ حضرت ابن عباسؓ کہا کرتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے روزہ بھی رکھا اور افطار بھی کیا۔ پس جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔
عیاش نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالاعلیٰ نے ہمیں بتایا۔ عبیداللہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے یہ آیت یوں پڑھی: فِدْیَۃٌ طَعَامُ مَسَاکِیْنَ۔ انہوں نے کہا: یہ منسوخ ہے۔
احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ زُہیر نے ہمیں بتایا۔ یحيٰ (بن ابی کثیر) سے روایت ہے۔ انہوں نے ابوسلمہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا۔ وہ کہتی تھیں: رمضان کے روزے مجھ پر واجب ہوتے تو میں انہیں پورا نہ کرسکتی مگر شعبان میں۔ یحيٰ نے کہا: نبی ﷺ کی مشغولیت کی وجہ سے یا یہ کہ وہ نبی ﷺ کی خدمت میں مشغول رہتیں۔