بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 117 hadith
ابن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا۔ ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: مجھ سے زید (بن اسلم) نے بیان کیا۔ انہوں نے عیاض (بن عبداللہ) سے، انہوں نے حضرت ابو سعید (خدری) رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: کیا یہ بات نہیں کہ جب وہ حائضہ ہوتی ہے نہ وہ نماز پڑھتی اور نہ روزہ رکھتی ہے تو یہ اُس کے دین میں کمی ہے۔
(تشریح)محمد بن خالد نے ہم سے بیان کیا۔ محمد بن موسیٰ بن اعین نے ہمیں بتایا کہ میرے باپ نے عمرو بن حارث سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ عبیداللہ بن ابی جعفر سے مروی ہے کہ محمد بن جعفر نے اُن سے بیان کیا۔ انہوں نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو مرجائے اور اُس کے ذمہ روزے ہوں تو اُس کا وارث اُس کی طرف سے روزے رکھے۔ ابن وہب نے عمرو سے روایت کرتے ہوئے (موسیٰ کی طرح) بیان کیا۔ اور یحيٰ بن ایوب نے ابن ابی جعفر سے یہی روایت کی۔
محمد بن عبدالرحیم نے ہم سے بیان کیا۔ معاویہ بن عمرو نے ہمیں بتایا۔ زائدہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے مسلم بطین سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور اُس نے کہا: یا رسول اللہ! میری ماں مر گئی ہے اور اُس کے ذمہ ایک مہینے کے روزے ہیں تو کیا اُس کی طرف سے انہیں پورا کروں؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔ اور اللہ کا قرض زیادہ حق دار ہے کہ وہ پورا کیا جائے۔ سلیمان (اعمش) نے کہا: جب مسلم نے یہ (لطیف) حدیث بیان کی اور ہم سب بیٹھے ہوئے تھے تو حکم اور سلمہ دونوں نے کہا کہ ہم نے مجاہد سے سنا ہے۔ وہ حضرت ابن عباسؓ سے روایت کرتے ہوئے یہ ذکر کرتے تھے۔ اور ابو خالد (سلیمان بن حیان) سے مذکور ہے (کہ انہوں نے کہا) کہ اعمش نے حکم اور مسلم بطین اور سلمہ بن کہیل سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ سعید بن جبیر، عطاء اور مجاہد سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی کہ ایک عورت نے نبی ﷺ سے کہا کہ میری بہن مر گئی۔ اور یحيٰ (بن سعید) اور ابو معاویہ نے کہا کہ اعمش سے مروی ہے۔ انہوں نے مسلم (بن عمران) سے، انہوں نے سعید سے، سعید نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی۔ ایک عورت نے نبی ﷺ سے کہا کہ میری ماں مر گئی ہے۔ اور عبیداللہ بن عمرو نے کہا کہ زید بن ابی اُنیسہ سے مروی ہے۔ انہوں نے حکم سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی کہ ایک عورت نے نبی ﷺ سے کہا کہ میری ماں مر گئی ہے اور اُس کے ذمے نذر کا روزہ ہے۔ اور ابو حریز (عبداللہ بن حسین) نے کہا: عکرمہ نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے۔ ایک عورت نے نبی ﷺ سے کہا کہ میری ماں مر گئی ہے اور اُس کے ذمے پندرہ دِن کے روزے ہیں۔
(تشریح)حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ ہشام بن عروہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے اپنے باپ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے عاصم بن عمر بن خطاب سے سنا کہ اُن کے باپ (حضرت عمر) رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب رات اِدھر سے آجائے اور دن اُدھر سے پیٹھ موڑ کر چلا جائے اور سورج ڈوب جائے تو روزہ دار افطار کر چکا۔
اسحاق (بن شاہین) واسطی نے ہم سے بیان کیا کہ خالد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے (سلیمان) شیبانی سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہم ایک سفر میں تھے اور آپؐ روزہ دار تھے۔ جب سورج غروب ہوگیا تو آپؐ نے لوگوں میں سے کسی سے کہا: اے فلاں! اُٹھو اور ہمارے لئے ستو گھولو۔ اُس نے کہا: یا رسول اللہ! اگر آپؐ شام ہونے دیں۔ آپؐ نے فرمایا: اُترو اور ہمارے لئے ستو گھولو۔ اُس نے کہا: یا رسول اللہ! اگر آپؐ شام ہونے دیں۔ آپؐ نے فرمایا: اُترو اور ہمارے لیے ستو گھولو۔ اُس نے کہا: ابھی آپؐ کے لئے دِن باقی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اُترو اور ستو گھولو۔ چنانچہ وہ (سواری سے) اُترا اور آپؐ کے لئے ستو گھولے۔ نبی ﷺ نے (بھی) پئے۔ پھر فرمایا: جب تم رات کو دیکھو کہ وہ اِدھر سے آ رہی ہے تو روزہ دار افطار کر چکا۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد نے ہمیں بتایا۔ سلیمان شیبانی نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہم نے ایک سفر کیا اور آپؐ روزہ دار تھے۔ جب سورج ڈوب گیا تو آپؐ نے فرمایا: اُترو اور ہمارے لئے ستو گھولو۔ اُس نے کہا: یا رسول اللہ! اگر آپؐ شام ہونے دیں۔ آپؐ نے فرمایا: اُترو اور ہمارے لئے ستو گھولو۔ اُس نے کہا: یا رسول اللہ! ابھی آپؐ کے لئے دِن باقی ہے۔ فرمایا: اُترو! ہمارے لئے ستو گھولو۔ چنانچہ وہ اُترا اور اُس نے ستو گھولے۔ پھر آپؐ نے فرمایا: جب تم رات کو دیکھو کہ اِدھر سے آگئی ہے تو روزہ دار افطار کر چکا اور اپنی انگلی سے آپؐ نے مشرق کی طرف اِشارہ فرمایا۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے ابوحازم (سلمہ بن دینار) سے، ابوحازم نے حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگ بھلائی میں رہیں گے جب تک کہ وہ افطار میں جلدی کریں گے۔
احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ ابوبکر (بن عیاش) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سلیمان سے، سلیمان نے حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ کے ساتھ میں ایک سفر میں تھا تو آپؐ نے روزہ رکھا یہاں تک کہ جب شام ہوئی تو آپؐ نے ایک شخص سے فرمایا: اُترو اور میرے لئے ستو گھولو۔ اُس نے کہا: کاش آپؐ اِنتظار فرمائیں یہاں تک کہ شام ہو جائے۔ آپؐ نے فرمایا: اُترو اور میرے لئے ستو گھولو۔ جب تمرات کو دیکھو کہ وہ اِدھر سے آن پہنچی ہے تو روزے دار کا روزہ افطار ہوگیا۔
(تشریح)عبداللہ بن ابی شیبہ نے مجھ سے بیان کیا۔ ابو اُسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے فاطمہ (بنت منذر) سے، فاطمہ نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ کے زمانہ میں ہم نے روزہ افطار کیا اور اَبر کا دن تھا۔ پھر سورج نکل آیا۔ ہشام سے پوچھا گیا: کیا روزہ قضا کرنے کا انہیں حکم دیا گیا؟ تو انہوں نے کہا: قضا ہی علاج تھا۔ اور معمر نے کہا: میں نے ہشام کو کہتے ہوئے سنا: میں نہیں جانتا کہ انہوں نے روزہ قضا کیا یا نہیں۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ بشر بن مفضل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے خالد بن ذکوان سے، خالد نے حضرت رُبَیّع بنت مُعَوِّذؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے عاشورہ کی صبح کو انصار کی بستیوں میں کہلا بھیجا: جو آج صبح روزہ دار نہیں تو وہ اپنا باقی دن (بغیر کھائے) پورا کرے اور جس نے صبح روزہ رکھا ہو چاہیے کہ وہ روزہ رکھے۔ وہ کہتے تھے: ہم اس کے بعد عاشورہ کا روزہ رکھتے اور اپنے بچوں کو رکھواتے اور اُن کے لئے اُون کا ایک کھلونا بنا دیتے۔ جب اُن میں سے کوئی کھانے کے لئے روتا تو ہم وہ اُسے دے دیتے یہاں تک کہ اُس کے لئے افطار کا وقت ہو جاتا۔
(تشریح)