بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 505 hadith
قتیبہ بن سعید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے عبداللہ بن دینار سے، ابن دینار نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: اس اثنا میں کہ لوگ قباء میں صبح کی نماز میں تھے، ان کے پاس ایک آنے والا آیا۔ اس نے کہا: رسول اللہ ﷺ پر آج رات وحی نازل کی گئی ہے اور آپؐ کو حکم ہوا ہے کہ کعبہ کو قبلہ بنائیں۔ اس لئے تم بھی اس کو قبلہ بناؤ۔ ان کے منہ شام کی طرف تھے اور وہ قبلہ کی طرف پھر گئے۔
(تشریح)محمد بن عبداللہ انصاری نے ہمیں بتایا کہ حمید نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت انسؓ نے ان کو نبی
عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہؓ نبی ﷺ کی زوجہ سے پوچھا اور میں ان دنوں کم سن تھا، بتلائیں: اللہ تعالیٰ نے (یہ جو) فرمایا ہے صفا اور مروَہ بھی اللہ کے نشانوں میں سے ہیں۔ جس نے بیت اللہ کا حج یا عمرہ کیا اس پر کوئی گناہ نہیں کہ ان دونوں کے درمیان چکر لگائے۔ میرے نزدیک کچھ (بھی حرج) نہیں اگر کوئی ان کا طواف نہ کرے۔ حضرت عائشہؓ نے (یہ سُن کر) فرمایا: (ایسا) ہرگز نہیں اگر (یہ بات) ہوتی، جیسا کہ تم کہتے ہو تو یہ (آیت یوں) ہوتی: اُس پر کوئی گناہ نہیں اگر وہ ان کا طواف نہ کرے۔ دراصل یہ آیت انصار کے بارے میں نازل کی گئی تھی۔ (مشرک) لوگ احرام باندھتے وقت مناة کے نام پر لبیک پکارتے اور مناة (بت) قُدَید کے مقابل پر رکھا ہوا تھا اور انصار گناہ سمجھتے تھے کہ صفا و مروَہ کے درمیان چکر لگائیں۔ جب اسلام آیا، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کی بابت پوچھا۔ تب اللہ نے (یہ آیت) نازل کی: صفا ومروَہ اللہ کے نشانوں میں سے ہیں۔ سو جس نے بیت اللہ کا حج یا عمرہ کیا اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان پر بھی چکر لگائے۔
محمد بن یوسف (فریابی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عاصم بن سلیمان سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے صفا و مروہ سے متعلق پوچھا۔ انہوں نے کہا: ہم سمجھتے تھے کہ ان دونوں میں پھیرے لگانا جاہلیت کی ایک رسم ہے۔ جب اسلام آیا تو ہم ان (میں پھیرے لگانے) سے رُک گئے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل کی: صفا و مروہ اللہ کے نشانوں میں سے ہیں۔ سو جس نے بیت اللہ کا حج یا عمرہ کیا اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان پر بھی چکر لگائے۔
(تشریح)عبدان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابو حمزہ (محمد بن میمون) سے، ابو حمزہ نے اعمش سے، اعمش نے شقیق سے، شقیق نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے ایک بات فرمائی اور میں نے ایک اور (بات) کہی نبی ﷺ نے فرمایا: جو (ایسی حالت میں) مر جائے کہ وہ اللہ کے سوا اُس کے شریک کو پکارتا ہو، وہ آگ میں داخل ہوگا اور میں نے (یوں) کہا: جو (ایسی حالت میں) مر جائے کہ وہ اللہ کا کوئی شریک نہ پکارتا ہو، وہ جنت میں داخل ہوگا۔
(تشریح)((عبداللہ بن زبیر) حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا کہ عمرو (بن دینار) نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے مجاہد سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہتے تھے: بنی اسرائیل میں قصاص تھا اور ان میں دیت نہ تھی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لئے فرمایا: متقولوں کا بدلہ لینا تم پر فرض کیا گیا ہے۔ اگر (قاتل) آزاد (مرد) ہو تو اسی آزاد (قاتل) سے اور اگر (قاتل) غلام ہو تو اسی غلام (قاتل) سے اور اگر (قاتل) عورت ہو تو اسی عورت (قاتل) سے، مگر جس (قاتل) کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ (تاوان) معاف کر دیا جائے (تو یہاں) عَفْو کے معنی ہیں کہ وہ قتل عمد میں دیت کو منظور کرلے فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ یعنی وہ دستور کے مطابق مطالبہ کرے اور وہ (ان کو) اچھی طرح ادا کر دے۔ یہ تمہارے ربّ کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے، بمقابل اس حکم کے جو تم سے پہلوں پر فرض کیا گیا تھا۔ سو جس نے اس کے بعد زیادتی کی اس کو دردناک سزا دی جائے۔ یعنی دیت قبول کرنے کے بعد (زیادتی کرے) تو اسے قتل کردیں۔
عبداللہ بن منیر نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے عبداللہ بن بکر سہمی سے سنا کہ حمید نے ہمیں بتایا۔ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رُبَیعؓ ان کی پھوپھی نے ایک لڑکی کا دانت توڑ ڈالا تو رُبَیعؓ کے لوگوں نے اس سے معافی مانگی۔ اس لڑکی کے لوگوں نے نہ مانا۔ انہوں نے دیت پیش کی پھر بھی وہ نہ مانے۔ پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے بدلہ لینے پر ہی اصرار کیا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے بدلہ لینے کا حکم دیا۔ حضرت انس بن نضرؓ نے کہا: یا رسول اللہ! کیا رُبَیعؓ کا دانت توڑا جائے گا؟ نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، اس کا دانت نہیں توڑا جائے گا۔ (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انسؓ! کتاب اللہ تو بدلہ لینے کا ہی حکم کرتی ہے۔ (یہ سن کر) وہ لوگ خوش ہوگئے اور انہوں نے معاف کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے بندوں میں سے بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو اگر اللہ کو بھی قسم دیں تو وہ ان کی قسم کو ضرور پورا کردے۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ عبیداللہ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: نافع نے مجھے بتایا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: عاشورہ ایسا دن تھا جس میں زمانہ جاہلیت کے لوگ روزہ رکھا کرتے تھے۔ جب رمضان (کے بارے میں حکم) نازل ہوا، آپؐ نے فرمایا: جو چاہے عاشورہ کا روزہ رکھے اور جو چاہے روزہ نہ رکھے۔
عبداللہ بن محمد (مسندی) نے ہم سے بیان کیا کہ (سفیان) بن عیینہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے، زُہری نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رمضان سے پہلے عاشورہ کا روزہ رکھا جاتا تھا۔ جب رمضان (سے متعلق حکم) نازل ہوا، آپؐ نے فرمایا: جو چاہے روزہ رکھے جو چاہے نہ رکھے۔
محمود (بن غیلان) نے مجھ سے بیان کیا کہ عبیداللہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسرائیل سے، اسرائیل نے منصور سے، منصور نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے علقمہ سے، علقمہ نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ان کے پاس اشعث (بن قیسؓ) آئے اور وہ کھانا کھا رہے تھے۔ حضرت اشعثؓ نے کہا: آج تو عاشورہ ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے کہا: رمضان سے متعلق حکم نازل ہونے سے پہلے اس دن روزہ رکھا جاتا تھا۔ جب رمضان (کا حکم) نازل ہوا تو چھوڑ دیا گیا۔ آگے بڑھو اور کھانا کھاؤ۔