بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 505 hadith
۲۴۔ باب {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ}
24. “O you who believe! Observing As-Saum (the fasting) is prescribed for you as it was prescribed for those before you that you, may become Al- Muttaqun (V.2:183).
محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا کہ ہشام (بن عروہ) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میرے باپ نے مجھے بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ انہوں نے فرمایا: عاشورہ کا دن ایسا تھا کہ اس روز قریش زمانہ جاہلیت میں روزہ رکھا کرتے تھے اور نبی ﷺ بھی اس دن روزہ رکھتے۔ جب آپؐ مدینہ آئے آپؐ نے اس دن روزہ رکھا اور لوگوں سے بھی فرمایا کہ وہ اس دن روزہ رکھیں۔ جب رمضان (کے بارے میں حکم) نازل ہوا تو رمضان فرض ہوگیا اور عاشورہ چھوڑ دیا گیا۔ پھر یہ ہوتا کہ جو چاہتا اس دن روزہ رکھتا اور جو چاہتا اس دن روزہ نہ رکھتا۔
(تشریح)۲۵۔ باب قَوْلِهِ {أَيَّامًا مَعْدُودَاتٍ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ}
25. The Statement of Allah "[Observing Saum (fasts)] for a fixed number of days but if any of you is ill, or on a journey, the same number (should be made up) from other days. And as for those who can fast with difficulty (e.g., an old man, etc.) they have (a choice, either to fast or) to feed a Miskin (poor person) (for every day). But whoever does good of his own accord, it is better for him. And that you fast is better for you, if only you know." (V.2:184)
۲۶۔ باب {فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ}
26. "So whoever of you sights (the crescent on the first night of) the month (of Ramadan, i.e., is present at his home), he must observe Saum (fast) that month... (V.2:185)
۲۷۔ باب {أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنْكُمْ فَالآنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ}
27. "It is made lawful for you to have sexual relation with your wives on the night of As-Saum (the fasts) ... (till) ... and seek that which Allah has ordained for you (offspring).. ." (V.2:187)
۲۸۔ باب قَوْلِهِ {وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ وَلاَ تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ}
28. "...And eat and drink until the white thread (light) of dawn appears to you distinct from the black thread (darkness of the night).. ." (V.2:187)
۲۹۔ باب قَوْلِهِ {وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَى وَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ}
29. "...It is not A1-Birr (piety, righteousness) that you enter the houses from the back, but A1-Birr (is the quality of the one) who fears Allah." (V.2:189)
۳۰۔ باب قَوْلِهِ {وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لاَ تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوْا فَلاَ عُدْوَانَ إِلاَّ عَلَى الظَّالِمِينَ}
30. Allah's Statement: "And fight them until there is no more Fitnah (disbelief and worshipping of others along with Allah) and (all and every kind of) worship is for Allah (Alone). But if they cease, let there be no transgression except against Az-Zalimün (the polytheists and wrong-doers) ." (V.2:193)
اسحاق (بن راہویہ) نے مجھ سے بیان کیا کہ روح (بن عبادہ) نے ہمیں خبر دی کہ زکریا بن اسحاق نے ہم سے بیان کیا کہ عمرو بن دینار نے ہمیں بتایا۔ عطاء (بن ابی رباح) سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عباسؓ کو یوں پڑھتے ہوئے سنا: وَعَلَى الَّذِيْنَ يُطَوَّقُونَهُ یعنی جو اپنی طاقت سے بڑھ کر تکلیف سے روزہ رکھتے ہیں (وہ بے شک روزہ نہ رکھیں) ان پر فدیہ دینا ضروری ہوگا ایک آدمی کا کھانا۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: یہ (حکم) منسوخ نہیں، اس سے مراد بہت ہی بوڑھا شخص اور بہت ہی بوڑھی عورت ہے جو روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے وہ ہر روز کا فدیہ ایک مسکین کو کھلائیں۔
(تشریح)عیاش بن ولید نے ہمیں بتایا کہ عبدالاعلیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ عبیداللہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے (سورۂ بقرہ کی آیت نمبر ۱۸۵ کو) یوں پڑھا: فِدْيَةٌ طَعَامُ مَسَاكِيْنَ۔ کہا: یہ منسوخ ہے۔
قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ بکر بن مُضر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن حارث سے، عمرو نے بُکَیر بن عبداللہ سے، بُکَیر نے حضرت سلمہ بن اکوَعؓ کے آزاد کردہ غلام یزید سے، یزید نے حضرت سلمہ (بن اکوَعؓ) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: وَ عَلَى الَّذِيْنَ يُطِيْقُوْنَهٗ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِيْنٍ جو روزہ نہ رکھتا اور فدیہ دینا چاہتا تو ایسا کر لیتا، یہاں تک کہ وہ آیت جو اس کے بعد ہے نازل ہوئی۔ (یعنی فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ) تو اس آیت نے اس کو منسوخ کر دیا۔ ابو عبداللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: بُکَیر (جو یزید کے شاگرد تھے) یزید سے پہلے فوت ہوگئے۔
(تشریح)عبیداللہ (بن موسیٰ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسرائیل سے، اسرائیل نے ابو اسحاق سے، ابو اسحاق نے حضرت براء (بن عازبؓ) سے روایت کی۔ اور ہمیں احمد بن عثمان نے بتایا کہ شُریح بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابراہیم بن یوسف نے مجھے بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے ابو اسحاق سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے سنا: جب رمضان میں روزہ رکھنے کا حکم ہوا تو لوگ رمضان بھر عورتوں کے قریب نہیں جاتے تھے اور اپنے نفسوں کی حق تلفی کرتے تھے۔ اس لئے اللہ نے یہ وحی نازل کی: عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ- اللہ کو علم ہے کہ تم اپنے نفسوں کی حق تلفی کرتے تھے، اس لئے اس نے تم پر رحم کیا اور تم سے درگزر کیا۔
(تشریح)موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حصین (بن عبدالرحمٰن) سے، حصین نے (عامر) شعبی سے، شعبی نے حضرت عدی (بن حاتمؓ) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت عدیؓ نے ایک سفید ڈوری اور ایک سیاہ ڈوری لی۔ کچھ رات گزری، انہوں نے دیکھا تو کچھ امتیاز نہ کر سکے۔ جب صبح ہوئی انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! میں نے اپنے تکیے کے نیچے دو ڈوریاں رکھی تھیں۔ آپؐ نے فرمایا: تب تو تمہارا تکیہ بہت ہی لمبا چوڑا ہے، اس لئے کہ سفید اور سیاہ دھاری تمہارے تکیہ کے نیچے سما گئی۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مطرف سے، مطرف نے شعبی سے، شعبی نے حضرت عدی بن حاتمؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ سے کیا مراد ہے؟ کیا یہ دو دھاگے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: تمہاری گُدّی تو بہت چوڑی ہے اگر تم نے ان دھاریوں کو دیکھ لیا۔ پھر فرمایا: نہیں، اس سے مراد رات کی سیاہی اور دن کی سفیدی ہے۔
(سعید) بن ابی مریم نے ہمیں بتایا۔ ابوغسان محمد بن مطرف نے ہم سے بیان کیا کہ ابوحازم (سلمہ بن دینار) نے مجھے بتایا کہ حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: یہ آیت جو نازل ہوئی : اس وقت تک کھاؤ اور پئو کہ تمہارے لئے سفید دھاری سیاہ دھاری سے نمایاں ہو جائے، اور (اس میں) مِنَ الْفَجْرِ کے الفاظ نازل نہیں ہوئے اور کچھ لوگ ایسے تھے کہ جب وہ روزہ رکھنا چاہتے تو ان میں سے ایک اپنے پاؤں میں سفید دھاگہ اور سیاہ دھاگہ باندھ لیتا اور کھاتا رہتا۔ یہاں تک کہ ان کو الگ الگ دیکھ لیتا۔ اس لئے اللہ نے اس کے بعد یہ الفاظ نازل کئے یعنی مِنَ الْفَجْرِ اور اس سے انہوں نے جان لیا کہ اس کے تو معنی رات کا دن سے نمایاں ہونا ہے۔
(تشریح)عبید اللہ بن موسیٰ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسرائیل سے، اسرائیل نے ابو اسحاق سے، ابو اسحاق نے حضرت براء (بن عازبؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: (عرب) لوگ زمانہ جاہلیت میں جب احرام میں ہوتے تو گھر میں اس کے پچھواڑے کی طرف سے آتے۔ اس لئے اللہ نے یہ آیت نازل کی: نیکی یہ نہیں ہے کہ تم گھروں میں ان کے پچھواڑے کی طرف سے آؤ۔ بلکہ نیکی تو اس شخص کی ہے جو بدیوں سے بچا اور تم گھروں میں ان کے دروازوں سے آیا کرو۔
(تشریح)محمد بن بشار نے ہمیں بتایا کہ عبدالوہاب نے ہم سے بیان کیا کہ عبیداللہ (عمری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت (عبداللہ) بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت (عبداللہ) بن زبیرؓ کے فتنے کے وقت اُن کے پاس دو شخص آئے، کہنے لگے: (آپؓ دیکھتے ہیں) جو لوگوں نے کیا ہے اور آپؓ حضرت عمرؓ کے بیٹے اور نبی ﷺ کے صحابی ہیں، (ایسے وقت میں) آپؓ کو نکلنے سے کیا روک ہے؟ آپؓ نے فرمایا: مجھے یہ بات روکتی ہے کہ اللہ نے میرے بھائی کا خون حرام قرار دیا ہے۔ (یہ سن کر) ان دونوں نے کہا: کیا اللہ نے یہ نہیں فرمایا: تم اس وقت تک اُن سے لڑتے رہو کہ فتنہ نہ رہے۔ حضرت ابن عمرؓ نے جواب دیا: ہم لڑتے رہے یہاں تک کہ فتنہ نہ رہا اور دین اللہ ہی کی خاطر ہوگیا اور تم اس لئے لڑنا چاہتے ہو کہ فتنہ ہو اور دین اللہ کے سوا اَوروں کی خاطر ہوجائے۔