بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 105 hadith
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی انہوں نے کہا کہ مجھے ابوسلمہ اور سعید بن مسیب نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپؐ فرماتے تھے کہ کلونجی میں ہر بیماری کا علاج ہے سوائے سام کے۔ ابن شہاب نے کہا اور سام کے معنی موت ہیں اور کالے دانے سے مراد شونیز (یعنی کلونجی) ہے۔
(تشریح)اور میں نبی ﷺ کے پاس اپنے ایک بیٹے کو لے کر گئی جو ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا اس نے آپؐ پر پیشاب کر دیا۔ آپؐ نے پانی منگوایا اور اس کو کپڑے پر چھڑک دیا۔
(تشریح)حبان بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبر دی کہ یونس بن یزید نے ہمیں بتایا ، یونس نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ بیمار کو اور اس شخص کو جو مرنے والے پر غمزدہ ہو تلبینہ کھلانے کا مشورہ دیتی تھیں اور کہتی تھیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپؐ فرماتے تھے کہ تلبینہ بیمار کے دل کو تقویت دیتا ہے اور کسی قدر رنج کو دور کر دیتا ہے۔
(تشریح)فروہ بن ابی المغراء نے ہم سے بیان کیا کہ علی بن مسہر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام (بن عروہ) سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ وہ تلبینہ کھلانے کا مشورہ دیتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ وہ (بیمار کو) ناپسند ہوتا ہے اور فائدہ دیتا ہے۔
(تشریح)معلی بن اسد نے ہم سے بیان کیا کہ وہیب (بن خالد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے (عبداللہ) بن طاؤس سے، عبداللہ نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے پچھنے لگوائے اور حجام کو اس کی مزدوری دی اور ناک میں دوائی ڈالی۔
ابو معمر (عبداللہ بن عمرو مقعد) نے ہمیں بتایا کہ ہم سے عبدالوارث (بن سعید) نے بیان کیا کہ ایوب نے ہمیں بتایا۔ ایوب نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ نبی ﷺ نے پچھنے لگوائے اور آپ روزہ دار تھے۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن دینار) سے، عمرو نے طاؤس اور عطاء (بن ابی رباح) سے، ان دونوں نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے پچھنے لگوائے اور آپؐ احرام باندھے ہوئے تھے۔
محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبر دی کہ حمید طویل نے ہمیں بتایا، حمید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ان سے حجام کی مزدوری کے متعلق پوچھا گیا (آیا حلال ہے یا حرام) تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے پچھنے لگوائے تھے۔ ابوطیبہ نے آپؐ کو پچھنے لگائے اور آپؐ نے اس کو دو صاع اناج دیا اور اس کے مالکوں سے سفارش کی تو انہوں نے محصول کم کردیا اور فرمایا: سب سے بہتر علاج جو تم کرتے ہو پچھنے لگانا ہے اور بحر ہند کی قسط (یعنی کوٹ) ہے اور فرمایا: تم اپنے بچوں کو حلق کی ورم کی وجہ سے ان کے تالو کو دبا کر تکلیف مت دو اور تم کوٹ کو استعمال کیا کرو۔
سعید بن تلید نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ (عبد اللہ) بن وہب نے مجھے بتایا۔ انہوں نے کہا عمرو (بن حارث) وغیرہ نے مجھے بتایا کہ بکیر نے ان سے بیان کیا کہ عاصم بن عمر بن قتادہ نے انہیں بتایا کہ حضرت جابر بن عبداللہ (انصاری) رضی اللہ عنہما نے مقنع (بن سنان) کی عیادت کی۔ پھر کہا: میں یہاں سے نہیں جاؤں گا جب تک کہ تم پچھنے نہ لگاؤ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے کہ اس میں بھی شفا ہے۔
(تشریح)اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا کہ مجھے سلیمان (بن بلال) نے بتایا۔ انہوں نے علقمہ سے روایت کی کہ انہوں نے عبدالرحمٰن اعرج سے سنا (وہ کہتے تھے) کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن بحینہؓ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے لحيُ جمل میں جو مکہ کے راستے پر ہے اپنے سر کے درمیان پچھنے لگوائے اور آپؐ اس وقت احرام باندھے تھے۔