بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 118 hadith
معاذ بن فضالہ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) ہشام (دستوائی) نے ہمیں بتایا کہ یحيٰ (بن ابی کثیر) سے مروی ہے۔ انہوں نے ہلال بن ابی میمونہ سے روایت کی کہ (انہوں نے کہا:) ہم سے عطاء بن یسار نے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ بیان کرتے تھے کہ نبی ﷺ ایک دن منبر پر بیٹھے اور ہم بھی آپؐ کے ارد گرد بیٹھ گئے۔ آپؐ نے فرمایا: میں جن باتوں سے اپنے بعد تمہارے متعلق ڈرتا ہوں، اُن میں سے دنیا کی وہ زیب و زینت بھی ہے جو تم پر (چاروں طرف سے) کھول دی جائے گی۔ اس پر ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! کیا خیر شر کو بھی لائے گی۔ نبی ﷺ خاموش رہے۔ اس شخص سے پوچھا گیا کہ کیا وجہ ہے تم نبی ﷺ سے بات کرتے ہو اور وہ تم سے بات نہیں کرتے۔ پھر ہم نے دیکھا کہ آپؐ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ حضرت ابوسعیدؓ کہتے تھے: آپؐ نے (چہرے سے) پسینہ پونچھا اور فرمایا: یہ سوال کرنے والا کہاں ہے؟ جیسے آپؐ نے اس کے سوال کو پسند کیا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: بات یہ ہے کہ بھلائی بدی نہیں لایا کرتی اور ربیع جو اُگاتی ہے اُن میں ایسی نباتات بھی ہوتی ہے جو مار ڈالتی ہے یا مرنے کے قریب کر دیتی ہے۔ مگر ہری گھاس کھانے والا جانور جس نے اتنا کھا لیا ہو کہ جب اس کی دونوں کھوکھیں تن جائیں تو وہ سورج کی طرف منہ کرکے پتلا پاخانہ کرے اور پیشاب کرے اور چرتا رہے اور یہ مال بھی ہرا بھرا شیریں ہے اور مسلمان کا بہت ہی اچھا ساتھی، جب تک کہ وہ اس مال سے مسکین کو اور یتیم کو اور مسافر کو دیتا رہے یا جیسا نبی ﷺ نے فرمایا اور بات یہ ہے کہ جو اس مال کو ناجائز طور پر لے گا وہ اس کی مانند ہے جو کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا اور وہ مال اس کے خلاف قیامت کے دن گواہ ہو گا۔
(تشریح)عمر بن حفص (بن غیاث) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) میرے باپ نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) اعمش نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: شقیق نے مجھے بتایا۔ شقیق نے عمرو بن حارث سے، عمرو نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ ) کی بیوی حضرت زینب رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ اعمش نے کہا: میں نے اس حدیث کا ابراہیم (نخعی) سے ذکر کیا تو ابراہیم نے بالکل ایسی ہی حدیث مجھے بتائی۔ انہوں نے ابوعبیدہ سے، ابوعبیدہ نے عمرو بن حارث سے، عمرو نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ ) کی بیوی حضرت زینبؓ سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: میں مسجد میں تھی۔ میں نے نبی ﷺ کو دیکھا۔ آپؐ نے فرمایا: تم عورتیں صدقہ کیا کرو۔ خواہ اپنے زیور ہی کا اور حضرت زینبؓ ؛ حضرت عبداللہؓ پر اور چند یتیموں پر جو ان کی پرورش میں تھے خرچ کیا کرتی تھیں۔ اس لئے انہوں نے حضرت عبداللہؓ کو کہا کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھو؛ کیا میری طرف سے کافی نہیں ہوگا کہ میں اسی صدقہ سے تم پر اور { ان یتیموں } پر جو میری پرورش میں ہیں خرچ کروں۔ تو حضرت عبداللہؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ سے تم خود ہی پوچھو۔ اس لئے میں نبی ﷺ کے پاس گئی۔ میں نے دروازے پر انصار میں سے ایک عورت پائی۔ اس کی حاجت بھی میری حاجت جیسی تھی۔ اتنے میں حضرت بلالؓ ہمارے پاس سے گزرے۔ ہم نے کہا: نبی ﷺ سے پوچھو کیا میری طرف سے یہ کافی ہوگا کہ میں اپنے خاوند اور چند ایسے یتیموں پر جو میری گود میں ہیں صدقہ سے خرچ کروں؟ اور ہم نے کہا: ہمارا پتہ نہ دینا۔ چنانچہ وہ اندر گئے اور انہوں نے آپؐ سے پوچھا۔ آپؐ نے فرمایا: وہ دو عورتیں کون ہیں؟ حضرت بلالؓ نے کہا: زینب۔ آپؐ نے پوچھا: زینبوں میں سے کونسی؟ حضرت بلالؓ نے کہا: عبداللہ (بن مسعودؓ ) کی بیوی۔ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔ اس کے لئے دو اجر ہیں۔ قرابت کا اجر اور صدقہ کا اجر۔
عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عبدہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت زینب بنت امّ سلمہؓ سے، حضرت زینبؓ نے حضرت امّ سلمہؓ سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا میرے لئے اجر ہوگا اگر میں ابو سلمہؓ کے بیٹوں پر خرچ کروں؟ وہ تو میرے ہی بیٹے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: ان پر خرچ کرو۔ جو بھی تم نے ان پر خرچ کیا ہے، اس کا اجر تمہیں ملے گا۔
(تشریح)ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شعیب نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) ابوزناد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے زکوٰۃ وصول کرنے کا حکم دیا۔ آپؐ سے کہا گیا: ابن جمیل اور خالد بن ولید اور عباس بن عبدالمطلب نے (زکوٰۃ) نہیں دی۔ نبی ﷺ نے فرمایا: کیا ابن جمیل اسی لئے برا مناتا ہے کہ وہ فقیر تھا۔ اسے اللہ اور اس کے رسول نے مالدار بنا دیا ہے اور خالد جو ہے تو تم خالد پر ظلم کرتے ہو۔ اُس نے تو اپنی زرہیں اور اپنا ساز و سامان اللہ تعالیٰ کی راہ میں وقف کر دیا اور عباس بن عبدالمطلب جو ہیں وہ رسول اللہ ﷺ کے چچا ہیں اور وہ (یعنی زکوٰۃ) اُن پر فرض ہے اور اس کے علاوہ اتنی ہی اور۔ (شعیب کی طرح) ابن ابی زناد نے بھی اپنے باپ سے یہی روایت کی اور ابن اسحق نے ابوزناد سے روایت کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے: زکوٰۃ ان پر واجب ہے اور اتنی ہی اور۔ اور ابن جریج نے کہا: اعرج سے روایت کرتے ہوئے مجھے مِثْلُھَا کی جگہ مِثْلہُ بتایا گیا۔
(تشریح)عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) مالک نے ہمیں بتایا کہ ابن شہاب سے مروی ہے۔ انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے، عطاء نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انصار میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہﷺ سے مانگا۔ آپؐ نے اُنہیں دیا۔ پھر انہوں نے آپؐ سے مانگا اور آپؐ نے انہیں دیا۔ پھر انہوں نے آپؐ سے مانگا اور آپؐ نے انہیں دیا۔ یہاں تک کہ آپؐ کے پاس جو تھا وہ ختم ہوگیا۔ آپؐ نے فرمایا: جو مال بھی میرے پاس ہوگا، میں اس کو تم سے ہر گز چھپا نہیں رکھوں گا اور جو سوال سے بچے گا تو اللہ تعالیٰ بھی اُسے بچائے گا اور جو (دنیا کے مال سے) بے نیاز ہونا چاہے گا، اللہ تعالیٰ بھی اُسے بے نیاز کر دے گا اور جو اپنے نفس پر زور ڈال کر صبر کرے گا، اللہ تعالیٰ بھی اس کو صبر دے گا اور صبر سے بڑھ کر وسیع اور بہتر کسی کو بھی کوئی نعمت نہیں دی گئی۔
عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) مالک نے ہمیں بتایا کہ ابوزناد سے مروی ہے۔ انہوں نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اُسی کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ بہتر ہے کہ تم میں سے کوئی اپنی رسی لے اور اپنی پیٹھ پر لکڑیاں اُٹھا لائے بہ نسبت اس کے کہ وہ کسی شخص کے پاس آئے اور اُس سے مانگے۔ وہ اُسے دے یا نہ دے۔
موسیٰ (بن اسماعیل) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) وہیب نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) ہشام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے، حضرت زبیرؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: تم میں سے کوئی اپنی رسی لے اور اپنی پیٹھ پر لکڑیوں کا گٹھا اُٹھا کر لائے اور پھر اُسے بیچے اور اس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اس کی آبرو کو بچائے رکھے۔ یہ بات اُس کے لئے بہتر ہے اس بات سے کہ وہ لوگوں سے مانگے، وہ اس کو دیں یا نہ دیں۔
عبدان نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) یونس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے عروہ بن زبیر اور سعید بن مسیب سے روایت کی کہ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے مانگا۔ آپؐ نے مجھے دیا۔ پھر میں نے آپؐ سے مانگا۔ پھر آپؐ نے دیا۔ پھر میں نے آپؐ سے مانگا۔ پھر آپؐ نے دیا۔ پھر فرمایا: حکیم! یہ مال تو ہرا بھرا میٹھا ہے۔ جس نے اس کو سخاوتِ نفس (یعنی استغنائ) سے لیا تو اس کے لئے اس (مال) میں برکت دی جائے گی اور جس نے نفس کے لالچ سے لیا، اُس کے لیے اس میں برکت نہیں ڈالی جائے گی اور وہ اسی شخص کی مانند ہوگا جو کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا۔ اونچا ہاتھ نچلے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔ حضرت حکیمؓ کہتے تھے: میں نے کہا: یارسول اللہ! اُسی کی قسم جس نے آپؐ کو سچائی دے کر بھیجا ہے، میں آپؐ کے سوا کسی سے بھی کچھ نہیں لوں گا یہاں تک کہ دنیا سے چلا جائوں۔ چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت حکیمؓ کو وظیفہ دینے کے لئے بلاتے تو وہ اُن سے وظیفہ لینے سے انکار کر دیتے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی انہیں بلایا کہ انہیں وظیفہ دیں تو بھی انہوں نے انکار کر دیا کہ اُن سے کچھ لیں۔ اس پر حضرت عمرؓ نے کہا: اے مسلمانوں کی جماعت! میں تمہیں گواہ ٹھہراتا ہوں۔ حکیم کو میں (بیت المال کی) آمدنی سے اُن کا حق پیش کرتا ہوں اور وہ انکار کرتے ہیں۔ اُسے نہیں لیتے۔ چنانچہ حضرت حکیمؓ نے رسول اللہ ﷺ کے سوا لوگوں میں سے کسی سے کچھ نہیں لیا؛ یہاں تک کہ وہ فوت ہوگئے۔
(تشریح)یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے زہری سے، زہری نے سالم سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے حضرت عمرؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ مجھے وظیفہ دیتے تو میں کہتا: آپؐ اُن کو دیجئے جو مجھ سے زیادہ اِس کے محتاج ہوں تو آپؐ فرماتے: اس مال میں سے جب کچھ تمہارے پاس آئے تو اُسے ایسی حالت میں لے لو جبکہ تم نہ خواہشمند ہو اور نہ سائل اور جو نہ ملے تو اپنے نفس کو اُس کے پیچھے مت لگائو۔
(تشریح)یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا کہ عبیداللہ بن ابی جعفر سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے حمزہ بن عبداللہ بن عمر سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: آدمی ہمیشہ لوگوں سے مانگتا رہتا ہے؛ یہاں تک کہ قیامت کے دن وہ ایسی حالت میں آئے گا کہ اُس کے منہ پر گوشت کی بوٹی بھی نہ ہوگی۔