بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 8 of 8 hadith
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب سے سچا کلمہ جو کسی شاعر نے کہا ہے لبید کا یہ کلمہ ہے۔''سنو اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے''
حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے کندھے کو پکڑا اور فرمایا تو دنیا میں اس طرح بسر کر گویا کہ تو مسافر ہے یا راہ چلتا مسافر۔
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دنیا مومن کا قید خانہ ہے اور کافر کی جنت ہے۔
آنحضرت ﷺ نے فرمایا اسلام میں رہبانیت نہیں ہے (یعنی عیسائیت کی طرح تجرد اور دنیا سے بے تعلقی کی زندگی گزارنا اسلام میں درست اور پسندیدہ نہیں)۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہﷺ چٹائی پر سو رہے تھے۔ جب اٹھے تو چٹائی کے نشان پہلو مبارک پر نظر آئے۔ ہم نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ! ہم آپﷺ کے لئے نرم سا گدیلہ بنا دیں تو کیا اچھا نہ ہو؟ آپﷺ نے فرمایا مجھے دنیا اور اس کے آراموں سے کیا تعلق؟ میں اس دنیا میں اس شتر سوار کی طرح ہوں جو ایک درخت کے نیچے سستانے کے لئے اترا اور پھر شام کے وقت اس کو چھوڑ کر آگے چل کھڑا ہوا۔
حضرت سہل بن سعد ساعدی ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! مجھے ایسا عمل بتائیے کہ جب میں وہ کروں تو اللہ تعالیٰ مجھ سے محبت کرے اور لوگ مجھ سے محبت کریں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دنیا سے بے رغبت ہو جاؤ اللہ تم سے محبت کرے گا اور اس سے جو لوگوں کے ہاتھوں میں ہے بے رغبت ہو جاؤ لوگ تجھ سے محبت کریں گے۔
حضرت عمرو بن عوف انصاریؓ نے ـــ جو بنو عامر بن لوئی کے حلیف اور بدر میں شریک تھے ــــ بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ کو بحرین کی طرف بھیجا کہ اس کا جزیہ لائیں اور رسول اللہ ﷺ نے بحرین کے باشندوں سے صلح کرلی تھی اور حضرت علاء بن حضرمیؓ کو ان کا امیر مقرر کیا تھا۔ حضرت ابوعبیدہؓ بحرین کا مالیہ لے کر آئے اور انصار نے حضرت ابوعبیدہؓ کی آمد کی خبر سنی تو انہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ آکر صبح کی نماز پڑھی۔ جب آپ فجر کی نماز ان کو پڑھا چکے تو آپ مڑے۔ صحابہؓ آپ کے سامنے آ بیٹھے۔ رسول اللہ ﷺ نے جب ان کو دیکھا تو آپ مسکرائے اور فرمایا میں سمجھتا ہوں تم نے سن لیا ہے کہ ابوعبیدہ کچھ لے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہاں یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا پھر تمہیں بشارت ہو اور اسی بات کی امید رکھو جو تمہیں خوش کرے گی۔ بخدا! تمہارے متعلق مجھے محتاجی کا اندیشہ نہیں۔ بلکہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ کہیں دنیا تمہارے لئے اس طرح کشادہ نہ ہو جائے جس طرح ان لوگوں پر کشادہ ہوئی تھی جو تم سے پہلے تھے اور پھر تم اس میں اس طرح ایک دوسرے سے بڑھ کر حرص کرنے لگو جس طرح انہوں نے کی اور یہ حرص تمہیں بھی ویسے ہی ہلاک کر دے جیسے انہیں ہلاک کیا ہے۔
حضرت عمرو بن عوف ؓ جو بنو عامر بن لُؤَیِّ کے حلیف تھے اور بدر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ موجود تھے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ کو جزیہ لینے کے لئے بحرین بھیجا۔ رسول اللہ ﷺ نے بحرین والوں سے صلح کا معاہدہ کیا تھا اور حضرت علاء حضرمیؓ کو ان پر امیر مقرر فرمایا تھا۔ حضرت ابو عبیدہؓ بحرین سے مال لے کر آئے۔ انصارؓ نے حضرت ابو عبیدہؓ کے آنے کا سنا تو نماز فجر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (ادا کرنے کے لئے) پہنچ گئے۔ جب آپؐ نے نماز ادا کی تو آپؐ مُڑے۔ وہ ان کے سامنے ہوئے تو رسول اللہ ﷺ انہیں دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا میرا خیال ہے تم نے سن لیا ہے کہ بحرین سے ابو عبیدہ ؓ کچھ لائے ہیں۔ انہوں نے عرض کیا ہاں یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے فرمایا خوش ہو جاؤ اور اس بات کی امید رکھو جو تم کو خوش کر دے گی۔ اللہ کی قسم مجھے تمہارے بارہ میں غربت کا ڈر نہیں ہے ہاں مگر تمہارے بارہ میں یہ ڈر ہے کہ تم پر دنیا کشادہ کر دی جائے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر کشادہ کر دی گئی تھی اور پھر تم اس میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے لگو جیسے انہوں نے کیا تھا اور وہ تمہیں ہلاک کر دے جیسے اس نے ان کو ہلاک کیا تھا۔