(ترمذی کتاب صفۃ القیامۃ باب ما جاء فی صفۃ اوانی الحوض 2477)
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ ابتدائی ایام میں بھوک کی وجہ سے میں اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیتا یا زمین سے لگاتا تاکہ کچھ سہارا ملے۔ ایک دن میں ایسی جگہ پر بیٹھ گیا جہاں سے لوگ گزرتے تھے۔ میرے پاس سے حضرت ابوبکرؓ گزرے میں نے ان سے ایک آیت کا مطلب پوچھا۔ میری غرض یہ تھی کہ وہ مجھے کھانا کھلائیں لیکن وہ آیت کا مطلب بیان کرکے گزر گئے پھر حضرت عمرؓ کا گزر ہوا میں نے ان سے بھی اس آیت کا مطلب پوچھا۔ غرض یہی تھی کہ وہ کھانا کھلائیں لیکن وہ بھی آیت کا معنی بتا کر چلے گئے پھر میرے پاس سے آنحضرتﷺ گزرے تو آپﷺ نے تبسم فرمایا میری حالت دیکھی اور میرے دل کی کیفیت کو بھانپ لیا۔ حضورﷺ نے بڑے مشفقانہ انداز میں فرمایا اے ابو ہریرہ! میں نے عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول! حاضر ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا میرے ساتھ آ ؤ۔ میں آپﷺ کے پیچھے پیچھے ہو لیا۔ جب آپﷺ گھر پہنچے اور اندر جانے لگے تو میں نے بھی اندر آنے کی اجازت مانگی۔ میں آپﷺ کی اجازت سے اندر آگیا۔ آپﷺ نے دودھ کا ایک پیالہ پایا۔ آپﷺ نے پوچھا۔ یہ دودھ کہاں سے آیا ہے؟ گھر والوں نے بتایا کہ فلاں شخص یا فلاں عورت تحفتاً دے گئی ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا ابو ہریرہ! میں نے کہا یا رسول اللہ حاضر ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا سب صفہ میں رہنے والوں کو بلا لا ؤ۔ یہ لوگ اسلام کے مہمان تھے اور ان کا نہ کوئی گھر بار تھا نہ کاروبار۔ جب حضورﷺ کے پاس صدقہ کا مال آتا تو ان کے پاس بھیج دیتے اور خود کچھ نہ کھاتے اور اگر کہیں سے تحفہ آتا تو آپ ﷺ صفہ والوں کے پاس بھی بھیجتے اور خود بھی کھاتے۔ بہرحال حضورﷺ کا یہ فرمان کہ میں ان کو بلا لا ؤں، مجھے ناگوار گزرا کہ ایک پیالہ دودھ ہے یہ اہل صفہ میں کس کس کے کام آئے گا، میں اس کا زیادہ ضرورت مند تھا تاکہ پی کر کچھ تقویت حاصل کرتا۔ پھر جب اہل صفہ آ جائیں اور مجھے ہی حضورﷺ ان کو پلانے کے لئے فرمائیں تو یہ اور بھی برا ہو گا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ اور حضورﷺ کے فرمان کی تعمیل کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ چنانچہ میں اہل صفہ کو بلا لایا۔ جب سب آ گئے اور اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے تو حضورﷺ نے مجھے حکم دیا کہ ان کو باری باری پیالہ پکڑاتے جا ؤ (میں نے دل میں خیال کیا مجھ تک تو اب یہ دودھ پہنچنے سے رہا)۔ بہرحال میں پیالہ لے کر ہر آدمی کے پاس جاتا۔ جب وہ سیر ہو جاتا تو دوسرے کے پاس، اور جب وہ سیر ہو جاتا تو تیسرے کے پاس، یہاں تک کہ آخر میں میں نے پیالہ آنحضرت
حضرت جابر ؓ بن عبد اللہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ایک کا کھانا دو کے لئے کفایت کر جاتا ہے اور دو کا کھانا چار کے لئے کفایت کر جاتا ہے اور چار کا کھانا آٹھ کے لئے کفایت کر جاتا ہے۔
(مسلم کتاب الاشربۃ باب ما یفعل الضیف اذا اتبعہ غیر من دعاہ صاحب الطعام(3783
حضرت ابو مسعود انصاریؓ کہتے ہیں انصارؓ میں سے ایک شخص تھا جس کا نام ابوشعیب تھا اور اس کا ایک غلام گوشت بیچنے والا تھا۔ اس شخص نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تو آپؐ کے چہرہ پر بھوک کے آثار محسوس کئے۔ اس نے اپنے غلام سے کہا تیرا بھلا ہو ہمارے لئے پانچ کس کا کھانا تیار کرو۔ کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ میں نبی ﷺ سمیت پانچ کی دعوت کروں۔ راوی کہتے ہیں اس نے کھانا تیار کیا پھر وہ شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپؐ سمیت پانچ کو کھانے کی دعوت دی اور ان کے پیچھے ایک شخص چلا آیا۔ جب آپ ﷺ دروازہ پر پہنچے تو نبی ﷺ نے فرمایا یہ شخص ہمارے ساتھ آگیا ہے۔ اگر تم چاہو تو اسے اجازت دے دو اگر تم چاہو تو وہ لوٹ جائے۔ اس نے کہا نہیں یا رسول ﷺ اللہ! میں اسے اجازت دیتا ہوں۔
(ترمذی کتاب الاطعمۃ باب ما جاء ان المومن یاکل فی معی واحد1819)
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک کافر رسول اللہ ﷺ کا مہمان ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کے لئے بکریوں کا دودھ نکلوایا وہ یکے بعد دیگرے سات بکریوں کا دودھ پی گیا۔ دوسرے دن وہ کافر مسلمان ہو گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کے واسطے ایک بکری کا دودھ نکلوایا۔ اس نے وہ پی لیا پھر دوسری بکری کا دودھ نکلوایا تو وہ سارا نہ پی سکا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کفایت و قناعت کی وجہ سے اتنا پیتا ہے کہ ایک انتڑی میں سما سکے۔ اور کافر حرص کی وجہ سے اتنا کچھ پی جاتا ہے کہ سات انتڑیوں میں سمائے۔ (یعنی کھانے پینے میں کفایت کرنا اور قناعت سے کام لینا سچے مومن کا خاصہ ہوتا ہے۔ اور کافر کا مقصد زندگی کھانا پینا عیش منانا اور مال و دولت کی حرص ہوتا ہے)۔