بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim CommunityMuslims who believe in the Messiah, Hazrat Mirza Ghulam Ahmadas of Qadian
Sayings of the Holy Prophetﷺ
16,900+ Ahadith
Showing 7 of 17 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ ابتدائی ایام میں بھوک کی وجہ سے میں اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیتا یا زمین سے لگاتا تاکہ کچھ سہارا ملے۔ ایک دن میں ایسی جگہ پر بیٹھ گیا جہاں سے لوگ گزرتے تھے۔ میرے پاس سے حضرت ابوبکرؓ گزرے میں نے ان سے ایک آیت کا مطلب پوچھا۔ میری غرض یہ تھی کہ وہ مجھے کھانا کھلائیں لیکن وہ آیت کا مطلب بیان کرکے گزر گئے پھر حضرت عمرؓ کا گزر ہوا میں نے ان سے بھی اس آیت کا مطلب پوچھا۔ غرض یہی تھی کہ وہ کھانا کھلائیں لیکن وہ بھی آیت کا معنی بتا کر چلے گئے پھر میرے پاس سے آنحضرتﷺ گزرے تو آپﷺ نے تبسم فرمایا میری حالت دیکھی اور میرے دل کی کیفیت کو بھانپ لیا۔ حضورﷺ نے بڑے مشفقانہ انداز میں فرمایا اے ابو ہریرہ! میں نے عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول! حاضر ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا میرے ساتھ آ ؤ۔ میں آپﷺ کے پیچھے پیچھے ہو لیا۔ جب آپﷺ گھر پہنچے اور اندر جانے لگے تو میں نے بھی اندر آنے کی اجازت مانگی۔ میں آپﷺ کی اجازت سے اندر آگیا۔ آپﷺ نے دودھ کا ایک پیالہ پایا۔ آپﷺ نے پوچھا۔ یہ دودھ کہاں سے آیا ہے؟ گھر والوں نے بتایا کہ فلاں شخص یا فلاں عورت تحفتاً دے گئی ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا ابو ہریرہ! میں نے کہا یا رسول اللہ حاضر ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا سب صفہ میں رہنے والوں کو بلا لا ؤ۔ یہ لوگ اسلام کے مہمان تھے اور ان کا نہ کوئی گھر بار تھا نہ کاروبار۔ جب حضورﷺ کے پاس صدقہ کا مال آتا تو ان کے پاس بھیج دیتے اور خود کچھ نہ کھاتے اور اگر کہیں سے تحفہ آتا تو آپ ﷺ صفہ والوں کے پاس بھی بھیجتے اور خود بھی کھاتے۔ بہرحال حضورﷺ کا یہ فرمان کہ میں ان کو بلا لا ؤں، مجھے ناگوار گزرا کہ ایک پیالہ دودھ ہے یہ اہل صفہ میں کس کس کے کام آئے گا، میں اس کا زیادہ ضرورت مند تھا تاکہ پی کر کچھ تقویت حاصل کرتا۔ پھر جب اہل صفہ آ جائیں اور مجھے ہی حضورﷺ ان کو پلانے کے لئے فرمائیں تو یہ اور بھی برا ہو گا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ اور حضورﷺ کے فرمان کی تعمیل کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ چنانچہ میں اہل صفہ کو بلا لایا۔ جب سب آ گئے اور اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے تو حضورﷺ نے مجھے حکم دیا کہ ان کو باری باری پیالہ پکڑاتے جا ؤ (میں نے دل میں خیال کیا مجھ تک تو اب یہ دودھ پہنچنے سے رہا)۔ بہرحال میں پیالہ لے کر ہر آدمی کے پاس جاتا۔ جب وہ سیر ہو جاتا تو دوسرے کے پاس، اور جب وہ سیر ہو جاتا تو تیسرے کے پاس، یہاں تک کہ آخر میں میں نے پیالہ آنحضرت ﷺکو دیا کہ سب کے سب سیر ہو کر پی چکے ہیں۔ پیالہ میں نے آپﷺ کے ہاتھ پر رکھا۔ آپﷺ نے میری طرف دیکھا اور تبسم فرمایا پھر کہا ابوھریرہ! میں نے کہا یا رسول اللہ! فرمائیے۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا اب تو صرف ہم دونوں رہ گئے ہیں۔ میں نے عرض کیا۔ حضور ٹھیک ہے اس پر آپﷺ نے فرمایا کہ بیٹھو اور خوب پی ؤ۔ جب میں نے بس کیا تو فرمایا ابو ہریرہ اور پی ؤ! میں پھر پینے لگا۔ چنانچہ جب بھی میں پیالے سے منہ ہٹاتا تو آپﷺ فرماتے۔ ابو ہریرہ اور پیؤ۔ جب اچھی طرح سیر ہو گیا تو عرض کیا۔ جس ذات نے آپﷺ کو سچائی کے ساتھ بھیجا ہے اس کی قسم اب تو بالکل گنجائش نہیں چنانچہ میں نے پیالہ آپﷺ کو دے دیا آپﷺ نے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد کی اور پھر بسم اللہ پڑھ کر دودھ نوش فرمایا۔
حضرت ابو قتادہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا قوم کے ساقی کی باری آخر میں آتی ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دو آدمیوں کا کھانا تین کے لئے کافی ہو جاتا ہے اور تین کا کھانا چار کے لئے کافی ہو جاتا ہے۔
حضرت جابر ؓ بن عبد اللہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ایک کا کھانا دو کے لئے کفایت کر جاتا ہے اور دو کا کھانا چار کے لئے کفایت کر جاتا ہے اور چار کا کھانا آٹھ کے لئے کفایت کر جاتا ہے۔
حضرت ابو ذرؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مجھے فرمایا نیکی کو حقیر مت سمجھو خواہ تمہارا اپنے بھائی سے کشادہ پیشانی سے ملنا ہی کیوں نہ ہو۔
حضرت ابو مسعود انصاریؓ کہتے ہیں انصارؓ میں سے ایک شخص تھا جس کا نام ابوشعیب تھا اور اس کا ایک غلام گوشت بیچنے والا تھا۔ اس شخص نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تو آپؐ کے چہرہ پر بھوک کے آثار محسوس کئے۔ اس نے اپنے غلام سے کہا تیرا بھلا ہو ہمارے لئے پانچ کس کا کھانا تیار کرو۔ کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ میں نبی ﷺ سمیت پانچ کی دعوت کروں۔ راوی کہتے ہیں اس نے کھانا تیار کیا پھر وہ شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپؐ سمیت پانچ کو کھانے کی دعوت دی اور ان کے پیچھے ایک شخص چلا آیا۔ جب آپ ﷺ دروازہ پر پہنچے تو نبی ﷺ نے فرمایا یہ شخص ہمارے ساتھ آگیا ہے۔ اگر تم چاہو تو اسے اجازت دے دو اگر تم چاہو تو وہ لوٹ جائے۔ اس نے کہا نہیں یا رسول ﷺ اللہ! میں اسے اجازت دیتا ہوں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک کافر رسول اللہ ﷺ کا مہمان ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کے لئے بکریوں کا دودھ نکلوایا وہ یکے بعد دیگرے سات بکریوں کا دودھ پی گیا۔ دوسرے دن وہ کافر مسلمان ہو گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کے واسطے ایک بکری کا دودھ نکلوایا۔ اس نے وہ پی لیا پھر دوسری بکری کا دودھ نکلوایا تو وہ سارا نہ پی سکا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کفایت و قناعت کی وجہ سے اتنا پیتا ہے کہ ایک انتڑی میں سما سکے۔ اور کافر حرص کی وجہ سے اتنا کچھ پی جاتا ہے کہ سات انتڑیوں میں سمائے۔ (یعنی کھانے پینے میں کفایت کرنا اور قناعت سے کام لینا سچے مومن کا خاصہ ہوتا ہے۔ اور کافر کا مقصد زندگی کھانا پینا عیش منانا اور مال و دولت کی حرص ہوتا ہے)۔