بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 17 hadith
حضرت ابو شریح کعبیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اُس چاہئے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔ اُس کی اعلیٰ درجہ کی مہمان نوازی ایک دن رات ہے اور مہمان نوازی تین دن تک ہوتی ہے اور جو اس کے بعد ہے تو وہ نیکی ہے۔ اور اُس کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اُس کے پاس اس قدر ٹھہرے کہ اُسے تنگ کردے۔
حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مہمان نوازی تین دن تک ہوتی ہے اور جو اس کے بعد ہے تو وہ نیکی ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سنت یہ ہے کہ آدمی اپنے مہمان کو اپنے گھر کے دروازے تک چھوڑنے کے لئے ساتھ جائے۔
حضرت انس بن مالکؓ کہتے ہیں ………………… انہوں نے کھایا یہاں تک کہ آپ
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو دعوت کے لئے بلایا جائے تو وہ قبول کرے اور اگر وہ روزہ دار ہو تو وہ دعا کرے اور اگر بغیر روزے کے ہو تو وہ کھائے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا۔ آپؐ نے اپنی ازواج کی طرف (کسی کو) بھیجا۔ انہوں نے جواب دیا: ہمارے پاس سوائے پانی کے اور کچھ نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس مہمان کو کون اپنے ساتھ رکھے گا؟ یا فرمایا اسے کون مہمان ٹھہرائے گا؟ انصار میں سے ایک شخص بولا: میں۔ چنانچہ وہ اسے اپنے ساتھ لے کر اپنی بیوی کے پاس گیا اور کہا رسول اللہ ﷺ کے مہمان کی نہایت اچھی خاطر تواضع کرو۔ وہ بولی ہمارے پاس کچھ نہیں مگر اتنا ہی کھانا جو میرے بچوں کیلئے مشکل سے کافی ہو۔ اس نے کہا اپنے اس کھانے کو تیار کر لو اور چراغ بھی جلاؤ اور اپنے بچوں کو جب وہ شام کا کھانا مانگیں سلا دینا۔ چنانچہ اس نے اپنا کھانا تیار کیا اور چراغ کو جلایا اور اپنے بچوں کو سلا دیا۔ پھر اس کے بعد وہ اٹھی جیسے چراغ درست کرتی ہے۔ اس نے اس کو بجھا دیا۔ وہ دونوں اس مہمان پر یہ ظاہر کرتے رہے کہ گویا وہ بھی کھا رہے ہیں مگر ان دونوں نے خالی پیٹ رات گزاری۔ جب صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا۔ آپؐ نے فرمایا آج رات اللہ ہنس پڑا، یا فرمایا تمہارے دونوں کے کام سے بہت خوش ہوا، اور اللہ نے یہ وحی نازل کی کہ انصار اپنے آپ پر دوسروں کو مقدم کرتے ہیں اگرچہ خود انہیں محتاجی ہی ہو اور جو اپنے نفس کی کنجوسی سے بچائے جائیں وہی ہیں جو بامراد ہونے والے ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں ایک رات یا دن رسول اللہ ﷺ (گھر سے) نکلے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ابوبکرؓ اور عمرؓ ہیں۔ آپؐ نے ان سے پوچھا اس وقت کیا چیز تمہیں گھر سے باہر لائی؟ ان دونوں نے کہا یا رسولﷺ اللہ! بھوک۔ آپؐ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مجھے بھی اسی چیز نے نکالا ہے جس نے تم دونوں کو نکالا ہے۔ اٹھو، پس وہ آپؐ کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے اور انصارؓ میں سے ایک شخص کے ہاں آئے۔ وہ اس وقت اپنے گھر نہیں تھا جب آپؐ کو عورت نے دیکھا تو کہا خوش آمدید۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا فلاں شخص کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا وہ ہمارے لئے میٹھا پانی لینے گیا ہے۔ اتنے میں وہ انصاریؓ آگیا اور اس نے رسول اللہ ﷺ اور آپؐ کے دونوں ساتھیوں کو دیکھا اور کہا الحمد للہ۔ آج کوئی مجھ سے بڑھ کر معزز مہمانوں والا نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں پھر وہ گیا اور ایک شاخ لایا جس میں گدری اور عام کھجوریں اور تروتازہ کھجوریں تھیں اور عرض کیا اس میں سے کھائیے اور اس نے چھری پکڑی تو رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا دودھ والی ذبح نہ کرنا۔ اس نے اُن کے لئے (ایک بکری) ذبح کی پھر انہوں نے بکری (کا گوشت) اور اس خوشہ میں سے کھایا اور پانی پیا جب وہ کھانے پینے سے سیر ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ سے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے قیامت کے دن تم سے اس نعمت کے بارہ میں ضرور پوچھا جائے گا۔ بھوک تمہیں تمہارے گھروں سے باہر لائی اور تم واپس نہیں لوٹے یہاں تک کہ تم نے اس نعمت کو پایا۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو طلحہؓ نے حضرت امّ سلیمؓ سے کہا میں نے رسول اللہﷺ کی آواز کمزور سنی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپؐ کو بھوک ہے۔ کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟ حضرت امّ سلیمؓ نے کہا ہاں۔ یہ کہہ کر جَو کی کچھ روٹیاں نکال لائیں۔ پھر انہوں نے اپنی ایک اوڑھنی نکالی اور ان روٹیوں کو اس کے ایک کنارے میں لپیٹ دیا اور وہ میرے ہاتھ میں دے دیں اور اوڑھنی کا کچھ حصہ میرے بدن پر لپیٹ دیا۔ پھر انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی طرف مجھے بھیجا۔ حضرت انسؓ کہتے تھے میں وہ لے کر چلا گیا۔ تو رسول اللہ ﷺ کو مسجد میں پایا۔ آپؐ کے ساتھ کچھ لوگ تھے۔ میں ان کے پاس کھڑا ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا کیا ابو طلحہؓ نے تجھے بھیجا ہے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا کھانا دے کر؟ میں نے کہا جی ہاں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں سے کہا جو آپؐ کے پاس تھے چلو اُٹھو۔ آپؐ چل پڑے اور میں بھی آپؐ کے آگے آگے چل پڑا اور حضرت ابو طلحہؓ کے پاس پہنچا اور ان کو بتایا۔ حضرت ابو طلحہؓ کہنے لگے: امّ سلیم! رسول اللہ ﷺ لوگوں کو لے آئے ہیں اور ہمارے پاس اتنا کھانا نہیں جو اُن کو کھلائیں۔ وہ بولیں: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ حضرت ابو طلحہؓ گئے اور جا کر رسول اللہ ﷺ سے ملے۔ رسول اللہ ﷺ آئے، حضرت ابو طلحہؓ آپؐ کے ساتھ تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا امّ سلیم! جو تمہارے پاس ہو وہ لے آؤ۔ وہ روٹیاں لے آئیں تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے متعلق فرمایا وہ توڑی گئیں اور حضرت امّ سلیمؓ نے گھی کی ایک کُپّی نچوڑی اور اس کو بطور سالن کے پیش کیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے ان روٹیوں پر دعا کی جو دعا اللہ نے چاہی کہ کریں۔ پھر آپؐ نے فرمایا کہ دس آدمیوں کو اندر آنے کی اجازت دو۔ ان کو اجازت دی اور لوگوں نے اتنا کھایا کہ وہ سیر ہو گئے اور باہر چلے گئے۔ پھر آپؐ نے فرمایا دس اور آدمیوں کو اجازت دو۔ ان کو اجازت دی اور لوگوں نے اتنا کھایا کہ وہ سیر ہو گئے اور باہر چلے گئے۔ پھر آپؐ نے فرمایا دس اور آدمیوں کو اجازت دو۔ ان کو اجازت دی اور لوگوں نے اتنا کھایا کہ وہ سیر ہو گئے اور باہر چلے گئے۔ پھر آپؐ نے فرمایا دس اور آدمیوں کو اجازت دو۔ ان کو اجازت دی اور لوگوں نے اتنا کھایا کہ وہ سیر ہو گئے اور باہر چلے گئے۔ غرض ان سب لوگوں نے کھایا اور پیٹ بھر کر کھایا اور وہ لوگ ستّر یا اسّی آدمی تھے۔
حضرت انس بن مالکؓ کہتے ہیں ………………… پھر وہ اسی طرح دس (دس) کو اندر لاتے اور سیر ہونے کے بعد باہر بھیجتے رہے یہاں تک کہ ان میں سے کوئی بھی باقی نہ رہا مگر وہ داخل ہوا اور اس نے کھایا یہاں تک کہ وہ سیر ہو گیا، پھر آپؐ نے اس کھانے کو ایک جگہ جمع کیا تو وہ اتنا ہی تھا جتنا اس وقت جب انہوں نے کھانا شروع کیا تھا۔
مجاہد نے بتایا کہ ابو ہریرہ کہا کرتے تھے۔ اس اللہ ہی کی قسم ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ میں بھوک کے مارے اپنے کلیجے کے سہارے زمین سے لگا رہتا تھا اور کبھی تو بھوک کے مارے اپنے پیٹ پر پتھر بھی باندھ دیا کرتا تھا اور ایک دن میں لوگوں کے اس راستے پر بیٹھ گیا جس سے وہ نکلا کرتے تھے اتنے میں ابو بکر گزرے اور میں نے ان سے کتاب اللہ کی ایک آیت پوچھی۔ میں نے ان سے اس لئے پوچھی تھی تاکہ وہ مجھے پیٹ بھر کر کھانا کھلا دیں مگر وہ گزر گئے اور انہوں نے ایسا نہ کیا۔ پھر میرے پاس سے عمر گزرے میں نے ان سے کتاب اللہ کی ایک آیت پوچھی۔ میں نے محض اس لئے پوچھی تھی تا کہ وہ مجھے پیٹ بھر کر کھانا کھلا دیں مگر وہ بھی گزر گئے۔ انہوں نے ایسا نہ کیا۔ پھر اس کے بعد ابو القاسم نبی ﷺ میرے پاس سے گزرے اور جب آپ نے مجھے دیکھا تو مسکرائے اور جو میرے نفس کی کیفیت تھی اور جو میرے چہرے کی حالت تھی سمجھ گئے اور آپؐ نے فرمایا ابو ہریرہ! میں نے کہا حاضر ہوں یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا میرے پیچھے آجاؤ اور یہ کہہ کر چلے گئے اور میں آپ پیچھے پیچھے گیا۔ آپ اندر گئے اور اجازت لے کر گئے اور مجھے بھی اجازت دی۔ آپ جو اندر گئے تو دودھ کا پیالہ پایا۔ آپ نے پوچھا۔ یہ دودھ کہاں سے ہے؟ گھر والوں نے کہا فلاں شخص نے یا کہا عورت نے آپ کو یہ ہدیہ بھیجا ہے۔ آپؐ نے فرمایا ابو ہریرہ! میں نے کہا حاضر ہوں یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا اہل صفہ کے پاس جاؤ اور انہیں میرے پاس بلا لاؤ۔ کہتے تھے اور اہل صفہ مسلمانوں کے مہمان ہوتے نہ گھر بار تھا کہ وہاں جا کر آرام کرتے اور نہ کوئی ایسا تھا کہ جس کے پاس جا کر وہ رہتے۔ جب آپ کے پاس کوئی صدقہ آتا تو آپ ان کو بھیج دیتے اور خود اس میں سے کچھ نہ لیتے اور اس میں انہیں بھی شریک کرتے۔ مجھے ان کا یہ بلانا برا لگا میں نے کہا اہل صفہ کے سامنے یہ اتنا سا دودھ کیا چیز ہے؟ میں زیادہ حقدار تھا کہ میں اس دودھ سے کچھ پیتا کہ جس سے مجھ میں طاقت آتی اگر وہ آ گئے تو آپ مجھے حکم دیں گے اور مجھے ان کو دینا ہوگا اور امید نہیں کہ اس دودھ سے مجھ تک کچھ پہنچے اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری سے کچھ چارہ نہ تھا۔ آخر میں ان کے پاس آیا اور ان کو بلایا وہ چلے آئے اور اندر آنے کی اجازت مانگی۔ آپ نے ان کو اجازت دی اور وہ گھر میں اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے۔ آپؐ نے فرمایا ابو ہریرہ! میں نے کہا حاضر ہوں یا رسول اللہ! فرمایا یہ لو اور ان کو دو۔ کہتے تھے۔ میں نے وہ پیالہ لیا اور ایک آدمی کو وہ دیتا اور وہ پیتا یہاں تک کہ سیر ہو جاتا۔ پھر وہ پیالہ مجھے واپس دے دیتا۔ پھر میں دوسرے آدمی کو دیتا اور وہ بھی اتنا پیتا کہ سیر ہوجاتا۔ پھر وہ مجھے وہ پیالہ واپس دے دیتا۔ پھر دوسرا سیر ہو کر پیتا اور وہ پیالہ مجھے واپس کر دیتا یہاں تک کہ آخر میں نبیﷺ کے پاس پہنچا اور سب لوگ سیر ہو چکے تھے۔ آپ نے وہ پیالہ لیا اور اسے اپنے ہاتھ پر رکھا اور میری طرف دیکھا اور مسکرائے اور فرمایا ابو ہریرہ! میں نے کہا حاضر ہوں یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا میں اور تم باقی رہ گئے۔ میں نے کہا یا رسول اللہ! آپ نے سچ فرمایا آپ نے فرمایا بیٹھ جاؤ اور پیو۔ میں بیٹھ گیا اور میں نے پینا شروع کیا۔ آپؐ نے فرمایا اور پیو۔ میں نے اور پیا۔ آپ یہی فرماتے رہے اور پیو اور میں نے اتنا پیا آخر میں نے کہا اب نہیں۔ اسی ذات کی قسم ہے جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ بھیجا میں اب اس کے لئے راستہ نہیں پاتا جس میں اس کو اتاروں۔ آپ نے فرمایا مجھے دکھلاؤ۔ تو میں نے وہ پیالہ آپ کو دے دیا۔ آپ نے اللہ کا شکر کیا اور اللہ کا نام لیا اور وہ بچا ہوا دودھ پی لیا۔