عبد اللہ بن ابی قتادہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو قتادہؓ نے اپنے ایک مقروض کو بلوایا تو وہ ان سے چھپ گیا۔ پھر وہ اس سے ملے ………….(حضرت ابو قتادہؓ) نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے۔ جسے یہ بات خوش کرے کہ اللہ اسے قیامت کے دن کی مصیبتوں سے نجات دے تو چاہئے کہ وہ تنگدست کو مہلت دے یا (مطالبہ ہی) چھوڑ دے۔
نے فرمایا جو شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن بے چینیوں اور پریشانیوں سے نجات دے تو اسے چاہئے کہ وہ تنگ دست مقروض کو وصولی میں سہولت دے یا قرض میں سے کچھ حصہ معاف کر دے۔
(بخاری کتاب الوکالۃ باب الوکالۃ فی قضاء الدیون 2306 )
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے قرض کا تقاضا کرنے لگا۔ لب و لہجہ سخت تھا۔ آپ کے صحابہؓ اُسے مارنے کے لئے لپکے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے چھوڑ دو، کیونکہ حق والا ایسی باتیں کہتا ہی ہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا اس کو ویسی عمر کا اونٹ دے دو جیسا کہ اس کا تھا۔ صحابہؓ نے کہا یا رسول اللہ! اس سے بہتر ہی ملتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا وہی دے دو۔ کیونکہ تم میں عمدگی سے قرض ادا کرنے والے ہی بہترین لوگ ہیں۔
حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ مدینہ میں ایک یہودی تھا اور وہ مجھے میری کھجوریں کٹنے تک قرض دیا کرتا تھا اور جابر کی وہ زمین تھی جو بئر رومہ کے راستے پر تھی۔ ایک سال اس زمین نے پھل نہ دیا اور سال خالی گزرا وہ یہودی پھل کٹنے کے وقت میرے پاس آیا اور میں نے کھجوروں سے کچھ بھی نہ کاٹا تھا میں اس سے آئندہ سال تک مہلت مانگنے لگا۔ لیکن وہ نہ مانتا تھا۔ نبی ﷺ کو اس کے متعلق بتلایا گیا۔ آپؐ نے اپنے صحابہؓ سے فرمایا چلو یہودی سے جابر کے لئے مہلت مانگیں۔ وہ میرے پاس میرے کھجور کے باغ میں آئے اور نبی ﷺ یہودی سے گفتگو کرنے لگے۔ وہ کہنے لگا ابوالقاسم! میں اس کو مہلت نہیں دوں گا۔ جب نبی ﷺ نے یہ دیکھا آپؐ کھڑے ہوگئے اور باغ میں چکر لگایا۔ پھر اس کے پاس آئے اور اس سے گفتگو کی مگر وہ نہ مانا۔ میں اٹھا اور جاکر تھوڑی سی تازہ کھجور لایا اور میں نے ان کو نبی ﷺ کے سامنے رکھ دیا۔ آپؐ نے کھائیں۔ پھر اس کے بعد پوچھا جابر! تمہاری جھونپڑی کہاں ہے؟ میں نے آپ کو بتلایا۔ آپؐ نے فرمایا میرے لئے اس میں بچھونا لگا دو۔ میں نے آپؐ کے لئے بچھونا بچھایا۔ آپؐ اس میں گئے اور سو گئے۔ پھر آپؐ جاگے اور میں آپؐ کے پاس مٹھی بھر اور کھجوریں لایا۔ آپؐ نے ان میں سے کچھ کھائیں پھر کھڑے ہوئے اور یہودی سے گفتگو کی۔ لیکن اس نے آپ کی نہ مانی۔ آخر آپ دوسری بار ان کھجوروں میں جن کے پھل سبز تھے کھڑے ہوئے۔ پھر فرمایا جابر کھجوریں کاٹو اور اس کا قرض چکا دو۔ آپ کھجوریں کاٹنے کے اثنا میں ٹھہرے رہے۔ میں نے ان سے اتنی کھجوریں کاٹیں جس سے اس کا قرضہ ادا کردیا اور ان سے کچھ بچ رہیں۔ میں باغ سے نکل کر نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپؐ کو خوشخبری دی آپؐ نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔
حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک مکاتب غلام آیا اور عرض کیا کہ میں زر کتابت یعنی فدیہ آزادی ادا کرنے سے قاصر ہوں۔ آپ میری مدد فرمائیں۔ آپ نے فرمایا کیا میں تجھے ایسے کلمات نہ بتا ؤں جو مجھے رسول اللہ ﷺ نے سکھائے تھے اور فرمایا تھا کہ اگر تجھ پر پہاڑ کے برابر بھی قرض ہو تو اللہ تعالیٰ اس دعا کی برکت سے اس کے ادا کرنے کے سامان کر دے گا تم یہ دعا مانگا کرو۔ اے میرے اللہ! تیرا دیا ہوا حلال رزق میرے لئے کافی ہو حرام رزق کی مجھے ضرورت نہ پڑے (یعنی مجھے حلال رزق دے، حرام رزق سے بچا) اور اپنے فضل سے مجھے اپنے سوا دوسروں سے بے نیاز اور مستغنی کر دے (یعنی کبھی دوسروں کا محتاج نہ بنوں)۔
حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے زید بن سعنہ کو ہدایت دینی چاہی تو زید بن سعنہ نے کہا (وہ تمام علامات نبوت جو تورات میں درج تھیں) آنحضرتﷺ کے چہرہ مبارک کی طرف جیسا میں نے دیکھا تھا تو آپﷺ میں تمام علامات نبوت مجھے نظر آئیں سوائے دو باتوں کے جن کا مجھے پتہ نہیں تھا کہ آپؐ میں ہیں یا نہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس نبی کا حلم اس کے غصہ پر غالب ہو گا دوسری بات یہ ہے کہ جتنا ہی زیادہ اس کو غصہ دلایا جائے اور اس کی گستاخی کی جائے اتنا ہی زیادہ وہ حلم اور بردباری دکھائے گا اور میں اس کی جستجو میں رہا کہ کبھی موقع ملے تو ان علامتوں کو بھی آزما ؤں زید بن سعنہ (یہودی) کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہﷺ گھر سے باہر آئے آپﷺ کے ساتھ علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے اس دوران ایک سوار آیا جو بدوی یعنی دیہاتی لگتا تھا اس نے کہا یا رسولؐ اللہ! بنو فلاں کے گا ؤں بصری کے لوگ مسلمان ہو گئے ہیں اور میں نے ان سے کہا تھا کہ اگر وہ مسلمان ہو جائیں تو ان کو وافر رزق ملے گا اب وہ قحط سے دو چار ہیں کیونکہ بارشیں نہیں ہوئیں مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ حرص اور لالچ میں آ کر اسلام سے نکل نہ جائیں جس طرح کہ وہ فراخی رزق کی ترغیب دلانے پر مسلمان ہوئے تھے۔ اگر آپؐ مہربانی فرما دیں اور مناسب سمجھیں تو ان کی طرف کچھ بھیج کر ان کی مدد اور دلداری فرماویں آپﷺ نے اس کی بات سن کر علی کی طرف دیکھا تو انہوں نے عرض کیا اس وقت تو ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو مدد کے طور پر بھیجی جا سکے۔ زید بن سعنہ کہتے ہیں کہ میں (قریب ہی تھا) آپ کے پاس آیا اور کہا اے محمدﷺ کیا بنو فلاں کے باغ کی کھجوریں ایک طے شدہ مقدار اور طے شدہ مدت کی شرط پر (یعنی بطور بیع سلم) بیچ سکتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا اے یہودی طے شدہ مقدار اور مدت کی شرط پر کھجوریں تو بیچ سکتا ہوں لیکن یہ شرط نہیں مان سکتا کہ یہ کھجوریں بنو فلاں کے باغ کی ہی ہوں گی۔ میں نے کہا ٹھیک ہے چنانچہ آپؐ نے مجھ سے سودا طے کر لیا اور میں نے اپنی ہمیانی کھول کر آپ کو اسی 80 مثقال (بطور پیشگی قیمت) دے دیا کہ فلاں وقت اتنی کھجوریں آپؐ مجھے دے دیں۔ آپؐ نے وہ سونا اس شخص کو دے دیا (جو مدد مانگنے کے لئے آیا تھا) اور فرمایا یہ برابر ان مصیبت زدہ لوگوں میں تقسیم کر دو اور ان کی مدد کرو۔ زید بن سعنہ کہتے ہیں کہ ابھی مدت مقررہ طے شدہ مدت میں دو تین دن باقی تھے کہ میں آپؐ کے پاس آیا اور آپؐ کا گریبان پکڑ لیا چادر کھینچی اور بڑے غصہ کی حالت بنا کر کہا۔ اے محمد! کیا میرا حق ادا نہیں کرو گے خدا کی قسم! تم بنو عبدالمطلب اپنی اس عادت کو اچھی طرح جانتے ہو کہ قرض ادا کرنے میں بڑے برے ہو اور تمہاری ٹال مٹول کی اس عادت کو میں بھی جانتا ہوں (اور اس کا مجھے تجربہ ہے) اس وقت میں عمرؓ کی طرف (جو پاس ہی تھے) دیکھ رہا تھا کہ (غصہ کے مارے) ان کی آنکھیں یوں گھوم رہی ہیں جس طرح گھومنے والی کشتی یا پھرکی۔ آپ نے بڑی تیز غصہ بھری نظروں سے مجھے دیکھا اور کہا اے اللہ کے دشمن! اللہ کے رسولﷺ سے ایسا کہتا ہے جو میں سن رہا ہوں اور اس طرح گستاخی سے پیش آتا ہے جسے میں دیکھ رہا ہوں۔ اس خدا کی قسم جس نے ان کو حق دیکر بھیجا اگر مجھے ان کا ڈر نہ ہوتا تو میں اپنی تلوار سے تیرا سر اڑا دیتا اور رسول اللہ
(المستدرک علی الصحیحین للحاکم ، کتاب معرفۃ الصحابہ ، باب ذکر اسلام زید بن سعنۃ مولی رسول اللہ ﷺ6547)
ﷺ
بڑے اطمینان اور تسلی کے ساتھ عمرؓ کی طرف دیکھ رہے تھے اور تبسم فرما رہے تھے اور پھر آپ
ﷺ
نے فرمایا اے عمر اس غصہ کی بجائے میں اور یہ دونوں اس بات کے زیادہ ضرورت مند ہیں کہ تو مجھے حسن ادا کے لئے کہے اور اسے حسن تقاضا کے لئے۔ اگرچہ ابھی ادائیگی کا وقت نہیں آیا اور کچھ دن باقی ہیں لیکن شاید یہ جلدی ادائیگی چاہتا ہے اس لئے جا ؤ اسے (ذخیرہ میں سے) اس کا حق دلا دو اور بیس صاع زیادہ کھجوریں دے دینا۔ جب ادائیگی ہوئی تو میں نے عمرؓ سے کہا یہ زیادہ کس لئے؟ عمرؓ نے جواب دیا۔ حضور
ﷺ
نے مجھے فرمایا تھا کہ جو سختی میں نے کی ہے اس کے عوض میں بیس صاع زیادہ ادا کروں۔ میں نے عمرؓ سے کہا آپ جانتے ہیں میں کون ہوں؟ عمرؓ نے کہا نہیں، آپ کون ہیں؟ میں نے کہا میں زید بن سعنہ ہوں عمرؓ نے پوچھا (وہ) حبر یعنی یہود کا عالم؟ میں نے جواب دیا ہاں، یہود کا عالم۔ اس پر عمر نے کہا اتنے بڑے عالم ہو کر گستاخی کا یہ طریق تم نے کیوں اختیار کیا؟ میں نے جواب دیا جتنی بھی علامات نبوت (میں نے اپنی کتابوں میں پڑھیں) تھیں جب میں نے آپ
ﷺ
کو دیکھا تو آپ
ﷺ
میں وہ مجھے نظر آئیں سوائے دو علامات کے ان میں ایک یہ کہ کیا اس نبی کا حلم اس کے غصہ پر غالب ہے دوسرے یہ کہ جتنا زیادہ ان سے تلخی اور جہالت سے پیش آیا جائے اتنا ہی زیادہ وہ حلم اور بردباری سے پیش آئیں گے (سو موقع ملنے پر) میں نے ان دونوں باتوں کی آزمائش کی ہے۔ اے عمرؓ ! میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں اللہ کو اپنا رب اور اسلام کو اپنا دین اور محمد
ﷺ
کو اپنا نبی ماننے پر خوش ہوں اور آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں ایک مالدار شخص ہوں میرا آدھا مال امت محمد
ﷺ
کے لئے صدقہ ہے۔ اس پر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا بعض امت محمدیہ کے لئے کہو کیونکہ ساری امت (کا تو کوئی شمار ہی نہیں ان) کے لئے یہ مال کیسے پورا آ سکتا ہے۔ میں نے کہا اچھا بعض کی ضرورتوں کے لئے خرچ ہو۔ اس کے بعد زیدؓ رسول اللہ
ﷺ
کی خدمت میں آئے اور عرض کیا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد
ﷺ
اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور میں اس پر ایمان لاتا ہوں۔ اس طرح زیدؓ نے آپ
ﷺ
کی بیعت کی اور کئی جنگوں میں آپؐ کے ساتھ شریک رہے۔ یہاں تک کہ غزوئہ تبوک سے واپس آتے وقت راستہ میں ہی زیدؓ نے وفات پائی۔ اللہ تعالیٰ زیدؓ پر اپنی بے شمار رحمتیں نازل فرمائے۔ آمین۔