بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 2 of 12 hadith
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا۔ آپؐ نے اپنی ازواج کی طرف (کسی کو) بھیجا۔ انہوں نے جواب دیا: ہمارے پاس سوائے پانی کے اور کچھ نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس مہمان کو کون اپنے ساتھ رکھے گا؟ یا فرمایا اسے کون مہمان ٹھہرائے گا؟ انصار میں سے ایک شخص بولا میں۔ چنانچہ وہ اسے اپنے ساتھ لے کر اپنی بیوی کے پاس گیا اور کہا رسول اللہ ﷺ کے مہمان کی نہایت اچھی خاطر تواضع کرو۔ وہ بولی: ہمارے پاس کچھ نہیں مگر اتنا ہی کھانا جو میرے بچوں کیلئے مشکل سے کافی ہو۔ اس نے کہا اپنے اس کھانے کو تیار کرلو اور چراغ بھی جلاؤ اور اپنے بچوں کو جب وہ شام کا کھانا مانگیں سلادینا۔ چنانچہ اس نے اپنا کھانا تیار کیا اور چراغ کو جلایا اور اپنے بچوں کو سلادیا۔ پھر اس کے بعد وہ اٹھی جیسے چراغ درست کرتی ہے۔ اس نے اس کو بجھا دیا۔ وہ دونوں اس مہمان پر یہ ظاہر کرتے رہے کہ گویا وہ بھی کھا رہے ہیں مگر ان دونوں نے خالی پیٹ رات گزاری۔ جب صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا۔ آپؐ نے فرمایا آج رات اللہ ہنس پڑا، یا فرمایا تمہارے دونوں کے کام سے بہت خوش ہوا، اور اللہ نے یہ وحی نازل کی وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمْ الْمُفْلِحُونَ (الحشر: 10): انصار اپنے آپ پر دوسروں کو مقدم کرتے ہیں اگر چہ خود انہیں محتاجی ہی ہو اور جو اپنے نفس کی کنجوسی سے بچائے جائیں وہی ہیں جو بامراد ہونے والے ہیں۔
حضرت ابو موسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب دوران جنگ اشعری لوگوں کا کھانا ختم ہو جاتا ہے یا مدینہ میں ان کے اہل و عیال کا کھانا کم پڑ جاتا ہے تو جو کچھ ان کے پاس ہوتا ہے وہ ایک کپڑے میں جمع کر لیتے ہیں پھر اسے آپس میں ایک برتن کے ذریعہ برابر برابر تقسیم کر لیتے ہیں لہٰذا وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔