بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 12 hadith
نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عائشہ! اللہ رفیق ہے اور رفق کو پسند کرتا ہے اور وہ نرمی پر جو عطا کرتا ہے وہ نہ سختی پر اور نہ اس کے سوا کسی (چیز) پر عطا کرتا ہے۔
حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا مومن ایک سوراخ سے کبھی دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا مومن ایک سور اخ سے دو دفعہ نہیں ڈسا جاتا۔
حضرت ابوہریرہؓ نے بیان کیا کہ ایک بدوی کھڑا ہوا اور اس نے مسجد میں پیشاب کردیا۔ لوگوں نے اسے برا بھلا کہا۔ اس پر نبی ﷺ نے ان سے کہا اسے چھوڑ دو اور اس کے پیشاب پر ایک ڈول پانی کا بہا دو۔ ــــ سَجْلٌ کا لفظ (کہا) یا ذَنُوْب کا ــــ اور تم صرف اس لئے مبعوث کئے گئے ہو کہ آسانی کرنے والے بنو اور تم سختی کرنے کے لئے مبعوث نہیں کئے گئے۔
حضرت ابو سعیدؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کی فراست سے بچو وہ اللہ تعالیٰ کے عطاء کردہ نور سے دیکھتا ہے پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِلْمُتَوَسِّمِينَ (یعنی اس میں ان لوگوں کے لئے نشانات ہیں جو بات کی تہ تک پہنچتے اور صحیح صورت حال فوری طور پر سمجھنے کی اہلیت رکھتے ہیں)۔
مسور بن مخرمہ اور مروان بن حکم سے روایت ہے، ان دونوں میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کی روایت کی تصدیق کرتا ہے۔ وہ دونوں کہتے ہیں حدیبیہ کے زمانہ میں رسول اللہ ﷺ اپنے چودہ سو صحابہؓ کے ساتھ نکلے …………… جب معاہدہ صلح لکھا جا چکا تو رسول اللہ ﷺ نے صحابہؓ سے فرمایا اٹھو اپنی قربانیاں ذبح کرو اور بال منڈوا کر احرام کھول دو۔ راوی کہتے ہیں اللہ کی قسم! ان میں سے ایک شخص بھی نہ اٹھا یہاں تک کہ آپؐ نے تین بار یہ بات دہرائی۔ جب ان میں سے کوئی نہ اٹھا آپؐ کھڑے ہوئے اور حضرت ام سلمہؓ کے پاس اندر تشریف لے گئے۔ اور ان سے اس صورت حال کا ذکر کیا۔ حضرت ام سلمہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! (اس وقت صحابہؓ شدت غم سے دو چار ہیں) آپؐ باہر تشریف لے جائیں اور ان (صحابہؓ ) سے کوئی گفتگو نہ فرمائیے بلکہ اپنی قربانی ذبح کیجئے اور حجام کو بلوائیے اور بال کٹوا کر احرام کھول دیجئے (پھر دیکھئے کیا ہوتا ہے) چنانچہ حضور ﷺ نے ایسا ہی کیا۔ آپؐ کھڑے ہوئے اور باہر نکلے اور ان میں سے کسی سے بات نہ کی یہاں تک کہ آپؐ نے اپنی قربانی کی اور اپنے حجام کو بلایا۔ جب صحابہؓ نے یہ دیکھا تو تیزی سے اٹھے اپنی اپنی قربانیاں ذبح کیں اور احرام کھولنے کے لئے ایک دوسرے کے بال مونڈنے لگے جلدی اور غم کی وجہ سے ایک دوسرے پر گرے پڑتے تھے کہ یوں لگتا تھا کہ ایک دوسرے کو مار ہی ڈالیں گے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اس نے کہا میں فاقہ زدہ ہوں۔ آپؐ نے اپنی ایک زوجہ مطہرہ کی طرف پیغام بھیجا، انہوں نے کہا اس کی قسم جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ میرے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ پھر آپؐ نے (ایک اور زوجہ مطہرہ) کی طرف بھیجا۔ انہوں نے بھی اسی طرح کہا یہاں تک کہ ان سب نے اسی طرح کہا کہ نہیں! اس کی قسم جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میرے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا جو اس شخص کو رات مہمان بنائے گا اللہ اس پر رحم کرے گا۔ انصارؓ میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا میں یا رسولؐ اللہ! وہ اسے اپنے گھر لے گیا اور اپنی بیوی سے کہا کیا تیرے پاس کچھ ہے؟ اس نے کہا سوائے میرے بچوں کی خوراک کے اور کچھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں کسی چیز سے بہلا دو اور جب ہمارا مہمان اندر آئے تو چراغ بجھا دینا اور اس پر ظاہر کرو کہ ہم کھانا کھا رہے ہیں۔ جب وہ کھانے لگے تو چراغ کی طرف جانا اور اسے بجھا دینا۔ راوی کہتے ہیں وہ سب بیٹھے اور مہمان نے کھایا جب صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپؐ نے فرمایا رات جو تم نے اپنے مہمان کے ساتھ کیا اللہ اس سے خوش ہوا۔