بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 9 of 19 hadith
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا سچا اور دیانتدار تاجر نبیوں، صدیقوں اور شہیدوں کی معیت کا حقدار ہے۔
حضرت ابنِ عمرؓ بیان کرتے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا امانت دار، سچ بولنے والا مسلمان تاجر قیامت کے دن شہداء کے ساتھ ہوگا۔
حضرت ابو الحمراء ؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپؐ ایک شخص کے پاس سے گذرے، اس کے پاس ایک برتن میں غلّہ تھا۔ آپؐ نے اس میں اپنا ہاتھ ڈالا اور فرمایا معلوم ہوتا ہے تم نے دھوکہ کیا ہے۔ جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ماہر دست کار اور ہنر مند مومن کو پسند کرتا ہے۔
حضرت حکیمؓ بن حزام سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا بائع اور مشتری کو (بیع فسخ کرنے کا) اِختیار ہے، جب تک وہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں۔ یا (یہ) فرمایا اُس وقت تک کہ جدا ہو جائیں۔ اگر اُن دونوں نے سچائی سے کام لیا اور صفائی سے بات کی تو اُن دونوں کو خرید و فروخت کے سودے میں برکت دی جائے گی اور اگر اُن دونوں نے اخفاء سے کام لیا اور جھوٹ بولا تو اُن دونوں کے سودے کی برکت مٹا دی جائے گی۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ شہری غیر شہری کے لئے بیع کرے، اور تم دھوکہ دینے کے لئے آپس میں قیمت نہ بڑھاؤ، اور کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے، اور اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر پیغام نہ دے، اور کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق طلب نہ کرے، اس نیت سے کہ اُس کے برتن میں جو کچھ ہے وہ خود انڈیل لے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے تجارتی قافلہ سے آگے جا کر ملنے کی ممانعت کی۔ اور اس بات سے بھی کہ کوئی مہاجر کسی بدوی کے لئے خرید و فروخت کرے۔ اور اس سے بھی کہ کوئی عورت اپنی بہن کو طلاق دینے کی شرط کرے۔ اور اس سے بھی کہ کوئی آدمی اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرے۔ اور آپؐ نے دھوکا دینے کیلئے قیمت بڑھانے سے اور تھنوں میں دودھ جمع رکھنے سے بھی منع فرمایا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر نکاح کا پیغام نہ دے اور نہ ہی اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرے اور کسی عورت کا نکاح اس کی پھوپھی نہ ہی خالہ پر کیا جائے اور نہ ہی کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ کرے تاکہ وہ اس کے برتن کو انڈیل لے بلکہ نکاح کرے۔ کیونکہ اس کے لئے وہی ہے جو اللہ نے اس کے لئے لکھ دیا ہے۔ اس پیغام نکاح پر پیغام دینے کی ممانعت ہے جو گویا منظور ہو چکا ہو اور اس سودے پر سودے کی پیش کش منع ہے جو طے ہو چکا ہو۔ (یہ روایت اس کے علاوہ مسلم میں کتاب النکاح باب تحریم الخطبۃ علی خطبۃ اخیہ میں متعدد بار مختلف الفاظ کے ساتھ آئی ہے)۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی کسی کے سودے پر سودا نہ کرے اور تجارتی سامان لانے والوں سے آگے جاکر نہ ملا کرو، جب تک کہ مال منڈی میں لے جاکر اُتارا نہ جائے۔