بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 19 hadith
حضرت عدی بن حاتمؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سدھائے ہوئے شکاری کتے سے شکار کرنے کے بارہ میں پوچھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا جب تم نے اپنا کتا بسم اللہ پڑھ کر چھوڑا ہے تو اس شکار کو کھاؤ جو اس نے تمہارے لئے پکڑ رکھا ہے اور اگر اس نے اس میں سے کچھ کھا لیا ہے تو اس شکار کو مت کھاؤ کیونکہ کتے نے اپنے لئے شکار کیا ہے۔ پھر میں نے پوچھا کہ اگر ہمارے کتوں کے ساتھ دوسرے کتے مل جائیں تو کیا حکم ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم نے اپنے کتے کو بسم اللہ پڑھ کر چھوڑا تھا دوسرے کتوں کو نہیں (اس لئے ایسے شکار کو نہ کھاؤ سوائے اس کے کہ اس جانور کو خود ذبح کیا ہو)۔
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے چھری تیز کرنے کا اور اسے جانوروں سے چھپانے کا ارشاد فرمایا اور فرمایا کہ جو کوئی تم میں سے ذبح کرے وہ پوری تیاری اور تیزی سے کرے۔
حضرت رافع بن خدیجؓ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ! کون سا ذریعہ معاش بہتر ہے۔ آپﷺ نے فرمایا ہاتھ کی محنت، دستکاری اور صاف ستھری تجارت بہترین ذریعہ معاش ہیں۔
حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم وزن کرو تو (پلڑا) جھکاؤ۔
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا سچا اور دیانتدار تاجر نبیوں، صدیقوں اور شہیدوں کی معیت کا حقدار ہے۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا سچا اور دیانتدار تاجر نبیوں، صدیقوں اور شہیدوں کی معیت کا حقدار ہے۔
حضرت عدی بن حاتمؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے مجھے فرمایا کہ جب تم نے بسم اللہ پڑھ کر اپنے کتے کو شکار پر چھوڑا اور اس نے شکار کو تمہارے لئے پکڑے رکھا خواہ وہ مر ہی گیا ہو تو تم اس شکار کو کھا سکتے ہو۔ اور اگر کتے نے اس شکار میں سے کچھ کھا لیا ہے تو اس کو نہ کھا ؤ کیونکہ کتے نے اپنے لئے شکار کیا ہے تمہارے لئے نہیں۔ اور اگر تمہارے کتے کے ساتھ دوسرے کتے شامل ہو جائیں جن پر تم نے بسم اللہ نہیں پڑھا اور ان سب نے شکار کو مار کر تمہارے لئے روکے رکھا اور اس میں سے خود کچھ نہیں کھایا تو بھی تم اس شکار کو نہ کھا ؤ اس لئے کہ تمہیں نہیں معلوم کہ شکار کو کس کتے نے مارا ہے۔ اگر تم نے شکار کو تیر سے مارا ہے اور تم نے اس کو ایک یا دو دن بعد مرا ہوا پایا اور مرنے کی وجہ تیر کے سوا کوئی اور چیز نہیں تو تم اس شکار کو کھا سکتے ہو۔ اور اگر شکار پانی میں مرا ہوا ملا ہے تو اسے نہ کھا ؤ (اس لئے کہ ہو سکتا ہے کہ وہ پانی میں گرنے کی وجہ سے مرا ہو تیر کے زخم سے نہیں)۔
حضرت شداّدؓ بن اوس کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے دو باتیں یاد رکھی ہیں۔ آپؐ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہر چیز سے احسان کو فرض کیا ہے۔ جب تم قتل کرو تو اچھے طریق سے قتل کرو اور جب تم ذبح کرو تو اچھے طریقہ سے ذبح کرو۔ تم میں سے جو کوئی ذبح کرنا چاہے وہ اپنی چھری تیز کرے اور اپنے ذبح ہونے والے جانور کو آرام پہنچائے۔
حضرت حذیفہؓ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے پاس اس کے بندوں میں سے ایک بندہ جسے اللہ نے مال عطا کیا تھا لایا گیا۔ اللہ نے اس سے پوچھا کہ تم نے دنیا میں کیا کیا؟ راوی کہتے ہیں کہ وہ اللہ سے کوئی بات چھپا نہیں سکیں گے۔ وہ کہے گا اے میرے رب تو نے مجھے اپنا مال عطاء فرمایا تھا میں لوگوں سے خرید و فروخت کرتا تھا اور میری عادت درگزر کرنے کی تھی۔ میں مالدار کو سہولت دیتا تھا اور تنگدست کو مہلت دیتا تھا۔ اللہ فرمائے گا کہ میں تم سے زیادہ اس کا حقدار ہوں۔ میرے بندے سے درگزر کرو۔ حضرت عقبہ بن عامر جہنیؓ اور حضرت ابو مسعودؓ انصاری کہتے ہیں کہ ہم نے اسی طرح یہ رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے سنا ہے۔
حضرت قیلہ ام بنی انمارؓ بیان کرتی ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں آپؐ کے ایک عمرہ کے دوران ’’مروہ‘‘ کے قریب حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میں ایک عورت ہوں جو خرید و فروخت کیا کرتی ہوں جب میں کوئی چیز خریدنا چاہتی ہوں اس کی قیمت لگاتی ہوں اس سے کم جتنے میں لینا چاہتی ہوں پھر میں بڑھاتی ہوں یہاں تک کہ اس (قیمت تک) پہنچ جاتی ہوں جو میرا ارادہ ہوتا ہے اور جب میں کوئی چیز بیچنا چاہتی ہوں تو میں اس کی اس سے زیادہ قیمت لگاتی ہوں جو میرا ارادہ ہوتا ہے پھر میں کم کرتی ہوں یہاں تک کہ وہاں پہنچ جاتی ہوں جہاں میرا ارادہ ہوتا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا قَیلہؓ! ایسا نہ کرو، جب تم کچھ خریدنا چاہو تو اس کی قیمت لگاؤ جو تم چاہتی ہو خواہ تمہیں دیا جائے یا نہ دیا جائے اور فرمایا جب تم کوئی چیز بیچنا چاہو تو وہ قیمت بتاؤ جو تمہارا ارادہ ہے خواہ تم دو یا نہ دو۔