بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 319 hadith
مسروق کہتے ہیں میں حضرت عائشہؓ کے ہاں ٹیک لگائے ہوئے (بیٹھا) تھا کہ آپؓ نے کہا اے ابو عائشہ تین باتیں ایسی ہیں کہ جس نے ان میں سے ایک بات بھی کہی تو اس نے اللہ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا میں نے پوچھا وہ باتیں کون سی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جس نے کہا کہ محمدﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے تو اس نے اللہ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا۔ وہ کہتے ہیں میں سہارا لئے ہوئے تھا مَیں بیٹھ گیا میں نے کہا اے امّ المؤمنین! مجھے کچھ موقعہ دیں اور میرے بارہ میں جلدی سے کام نہ لیں۔ کیا اللہ عزوجل نے نہیں فرمایا{وَلَقَدْ رَآہُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِ} (التکویر: 24)(ترجمہ) اور وہ ضرور اسے روشن افق پر دیکھ چکا ہے اور {وَلَقَدْ رَآہُ نَزْلَۃً اُخْرٰی} (النجم: 14)یعنی: وہ اسے ایک اور کیفیت میں دیکھ چکا ہے۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ اس امت میں سب سے پہلے میں نے اس بارہ میں رسول اللہﷺ سے سوال کیا تو آپؐ نے فرمایا یہ تو صرف جبرائیل ہیں جنہیں میں نے ان کی اس صورت پر جس پر ان کی تخلیق ہوئی نہیں دیکھا سوائے ان دومرتبہ کے۔ میں نے ان کو آسمان سے اُترتے ہوئے دیکھا۔ ان کے عظیم وجودنے آسمان و زمین کا درمیانی حصہ بھر دیا تھا۔ انہوں نے کہاکیاتم نے سنا نہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے {لَا تُدْرِکْہُ الْاَبْصَارُ وَھُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَ وَھُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ}(الانعام: 104)یعنی: آنکھیں اس کو نہیں پاسکتیں ہاں وہ خود آنکھوں تک پہنچتا ہے اور وہ بہت باریک بین اور ہمیشہ خبر رکھنے والا ہے اور کیا تم نے سنا نہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے {وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُکَلِّمُہُ اللّٰہُ اِلَّا وَحْیًا} (الشوریٰ: 52) یعنی: اور کسی انسان کیلئے ممکن نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر وحی کے ذریعہ یا پردہ کے پیچھے سے یا کوئی پیغام رساں بھیجے جو اس کے اذن سے جو وہ چاہے وحی کرے یقینا وہ بہت بلندشان(اور) حکمت والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس نے گمان کیا کہ رسول اللہﷺ نے کتاب اللہ میں سے کچھ چھپایا ہے تو اس نے اللہ پر بڑا جھوٹ باندھا جبکہ اللہ فرماتاہے {یَاَیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَا اُنْزِلَ اِلَیکَ مِنْ رَّبِّکَ وِاِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ } (المائدہ: 68) یعنی: اے رسولؐ !اچھی طرح پہنچا دے جو تیرے رب کی طرف سے تیری طرف اتارا گیا ہے اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو گویا تو نے اس کے پیغام کو نہیں پہنچایا اور (حضرت عائشہؓ ) نے کہا جس نے گمان کیا کہ آپؐ وہ بتا دیتے تھے جو کل ہوگا اس نے اللہ پر بہت بڑا جھوٹ بولا جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ { قُلْ لَا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰہُ} (النمل: 66) (ترجمہ) تو کہہ دے کہ کوئی بھی جو آسمانوں اور زمین میں ہے غیب کو نہیں جانتا مگر اللہ۔ دا وٗدنے ہمیں اسی اسناد سے ابن علیّہ کی روائت بتائی۔ مزید انہوں نے کہا کہ آپؓ (حضرت عائشہؓ ) نے فرمایا کہ اگر محمدﷺ نے اس میں سے جو آپؐ پر اُتارا گیا کچھ چھپانا ہوتا تو ضرور یہ آیت چھپاتے { اِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاَنْعَمْتَ عَلَیْہِ اَمْسِکْ عَلَیْکَ زَوْجَکَ} (الاحزاب: 38) (ترجمہ) اور جب تو اسے کہہ رہا تھا جس پر اللہ نے انعام کیا اور تو نے بھی اس پر انعام کیا کہ اپنی بیوی کو روکے رکھ(یعنی طلاق نہ دے) اور اللہ کا تقویٰ اختیار کر اور تو اپنے نفس میں وہ بات چھپا رہا تھا جسے اللہ ظاہر کرنے والاتھا اور تو لوگوں سے خائف تھااور اللہ اس بات کا زیادہ حق رکھتا ہے کہ تو اس سے ڈرے٭۔ مسروق سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا کیا محمد
حضرت ابو ذرؓ کہتے ہیں کہ مَیں نے رسول اللہﷺ سے پوچھا: کیا آپؐ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟آپؐ نے فرمایا: وہ تو نور ہے مَیں اس کو کیسے دیکھ سکتا ہوں۔
مسروق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میَں نے حضرت عائشہؓ سے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کا کیا مطلب ہے ثُمَّ دَنَافَتَدَلَّی یعنی پھروہ نزدیک ہوا پھر وہ نیچے اتر آیا۔ پس وہ دو قوسوں کے وتر کی طرح ہو گیایااس سے بھی قریب تر پس اس نے اپنے بندے کی طرف وہ وحی کیا جو بھی وحی کیا (النجم: 9 تا11) انہوں نے فرمایا اس سے مراد جبریلﷺ ہیں وہ آپﷺ کے پاس آدمیوں کی صورت میں آتے تھے اور اس مرتبہ اپنی اصلی صورت میں آئے اور آسمان کا سارا اُفق بھر دیا۔
عبداللہ بن شقیق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مَیں نے حضرت ابو ذرؓ سے کہا کہ اگر مَیں رسول اللہﷺ کودیکھتا تو آپؐ سے ایک سوال ضرور کرتا۔ انہوں نے کہا: تم کس بارہ میں آپؐ سے سوال کرتے؟ انہوں نے کہا: مَیں آپؐ سے پوچھتا: کیا آپؐ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟حضرت ابو ذرؓ نے کہا: مَیں نے (آپؐ سے) پوچھا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: مَیں نے ایک نور دیکھا ہے۔
حضرت ابو موسیٰؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ہمارے درمیان کھڑے ہوکر پانچ باتیں ارشاد فرمائیں۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ عزوجل نہیں سوتااور نہ اس کے شایانِ شان ہے کہ وہ سوئے۔ وہ ترازو کو جھکاتاہے اور اسے بلند کرتا ہے۔ رات کے اعمال دن کے اعمال سے پہلے اس کی طرف اُٹھائے جاتے ہیں اور دن کے اعمال رات کے اعمال سے پہلے اس کی طرف اٹھائے جاتے ہیں اور اس کا پردہ نورہے۔ ابو بکر کی روایت میں ہے کہ(اس کا پردہ)آگ ہے۔ اگر وہ اسے ہٹا دے تو اس کے چہرے کے انوار حدِّ نظر تک مخلوق کو جلا دیں۔ اعمش سے اسی اسناد سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ ہم میں کھڑے ہوئے اور چار باتیں فرمائیں پھر انہوں نے ابو معاویہ والی روایت بیان کی لیکن انہوں نے مِنْ خَلْقِہ کے الفاظ نہیں ذکر کئے، یہ کہا ہے کہ حِجَابُہُ النُّوْرُ۔
حضرت ابو موسیٰ ؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ہمارے درمیان کھڑے ہوکر چار باتیں ارشادفرمائیں۔ آپؐ نے فرمایا: ا للہ تعالیٰ سوتا نہیں ہے اور نہ اس کو زیبا ہے کہ وہ سوئے۔ وہ ترازو کو بلند کرتاہے اور جھکاتا ہے۔ دن کا عمل اس کی طرف رات کو اُٹھایا جاتا ہے اور رات کا عمل دن کے وقت اُٹھایا جاتا ہے۔
عبداللہ بن قیس اپنے والد سے اور وہ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: دو جنتیں ہیں جن کے برتن اور جو کچھ ان دونوں میں ہے چاندی کے ہیں۔ اور دو جنتیں ہیں جن کے برتن اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سونے کے ہیں اور لوگوں کو اپنے رب کو دیکھنے کے مابین کوئی چیز حائل نہ ہوگی سوائے کبریائی کی چادر کے جو ہمیشہ رہنے والی جنت میں خدا کے چہرے پر ہوگی۔
حضرت صہیبؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: جب اہلِ جنت جنت میں داخل ہو جائیں گے تو فرمایا اللہ تبارک وتعالیٰ فرمائے گا تم کچھ اور چاہتے ہو جو میں تمہیں مزید دوں؟وہ کہیں گے کیا تو نے ہمارے چہرے روشن نہیں کئے۔ کیا تو نے ہمیں جنت میں داخل نہیں کیااور جہنم سے نجات نہیں دی۔ آپؐ نے فرمایا: پھر وہ پردہ ہٹا دے گا اور ان کو اپنے رب عزّوجل کے دیدار سے زیادہ محبوب کوئی چیز نہیں دی گئی۔ حماد بن سلمہ کی روایت میں یہ بات زائد ہے کہ آپؐ نے یہ آیت تلاوت کی لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوالْحُسْنٰی وَزِیَادَۃٌ (یونس: 27)(ترجمہ) جن لوگوں نے احسان کئے ان کے لئے سب سے حسین جزاء ہے اور اس سے بھی زیادہ۔
عطاء بن یزید اللیثی روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہؓ نے انہیں بتایا کہ لوگوں نے رسول اللہﷺ کی خدمت میں عرض کیا یا رسولؐ اللہ! کیا قیامت کے روز ہم اپنے ربّ کو دیکھیں گے؟اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا کیا تمہیں چودھویں رات کو چاند دیکھنے میں کوئی دشواری ہوتی ہے؟انہوں نے عرض کیا: نہیں یا رسو لؐ اللہ! آپؐ نے فرمایا: کیا تمہیں سورج کے دیکھنے میں جبکہ درمیان کوئی بادل حائل نہ ہو کوئی دقّت ہوتی ہے؟انہوں نے عرض کیا: نہیں یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے فرمایا: پس اسی طرح تم اسے دیکھو گے۔ قیامت کے دن اللہ لوگوں کو جمع کرے گااور فرمائے گا جو جس کی عبادت کرتا تھااس کے پیچھے ہو جائے۔ پس جو سورج کی عبادت کرتا تھا وہ سورج کے پیچھے جائے گااور جو کوئی چاند کی عبادت کرتا تھاوہ چاند کے پیچھے جائے گا۔ جو بتوں کی عبادت کرتا تھا وہ بتوں کے پیچھے جائے گا اور یہ اُمت باقی رہ جائے گی جس میں اس کے منافق (بھی) ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کے پاس ایسی صورت میں جلوہ گر ہو گا جو ان کے لئے اجنبی ہو گی اور (اللہ) فرمائے گا: مَیں تمہارا ربّ ہوں۔ اس پر وہ کہیں گے ہم تم سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں۔ یہی ہماری جگہ ہے یہانتک کہ ہمارا رب ہمارے پاس آجائے۔ پھر جب ہمارا رب آجائے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کے پاس ایسی صورت میں جلوہ گر ہو گا جسے وہ پہچانتے ہوں گے۔ وہ فرمائے گا: میں تمہارا رب ہوں۔ اس پر وہ کہیں گے تو ہمارا رب ہے۔ پھر وہ اس کی اتّباع کریں گے۔ دوزخ پر راستہ بنایا جائے گا اور مَیں اور میری امت سب سے پہلے اسے عبور کریں گے۔ اس دن رسولوں کے سوا کوئی کلام نہ کرے گا۔ اس دن رسولوں کی پکار ہو گی اللّٰہم سَلِّم سَلِّم اے اللہ سلامتی نازل فرما، سلامتی نازل فرمااور جہنم میں سعدان کے کانٹوں کی طرح کانٹے اور آنکڑے ہوں گے۔ ٭(آپؐ نے فرمایا) کیاتم نے سعدان کو دیکھا ہے؟انہوں نے کہا: ہاں یا رسول اللہ! آپؐ نے فرمایا: پس وہ سعدان کے کانٹوں کی مانند ہوں گے مگراللہ کے سوا کوئی نہیں جانتاکہ وہ کتنے بڑے ہوں گے۔ وہ لوگوں کو ان کے اعمال کے سبب اچک لیں گے۔ ان میں ایسے مؤمن (بھی) ہوں گے جو اپنے عمل کی وجہ سے باقی رہ جائیں گے اور ان میں سے بعض سے (کچھ) بدلہ لیا جائے گایہاں تک کہ اس کو نجات ملے۔ پھر اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلہ کرکے فارغ ہو جائے گا تو آگ والوں میں سے جن کے بارے میں (آگ سے) نکالنے کا ارادہ فرمائے گا تو وہ فرشتوں کو حکم فرمائے گا کہ جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا اسے آگ سے نکال دیں۔ اُن میں سے جس پر اللہ رحم کا ارادہ فرمائے گا تو فرشتوں کو حکم دے گا کہ جو لا الٰہ الا اللہ کہتا ہے اسے بھی آگ سے نکال دیں۔ پس وہ انہیں آگ میں پہچان لیں گے ان کو سجدے کے نشان سے پہچان لیں گے کیونکہ آگ ابن آدم کو سوائے سجدے کے نشان کے بھسم کردے گی۔ اللہ نے آگ پر حرام کر دیا ہے کہ وہ سجدے کے نشان کو بھسم کرے۔ پس انہیں آگ سے نکال دیا جائے گا تو وہ جلے ہوئے ہوں گے پھر ان پرزندگی کا پانی ڈالا جائے گا۔ پھر وہ اس (پانی) سے یوں نشوونما پائیں گے جیسے سیلاب کی مٹی میں ایک دانہ نشوونما پاتا ہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلہ کر کے فارغ ہو جائے گا تو ایک شخص باقی رہ جائے گا جو آگ کی طرف منہ کئے ہوئے ہوگا۔ سب سے آخر میں جنت میں داخل ہونے والا یہی ہوگا۔ تب وہ کہے گا اے میرے ربّ میرے چہرے کو آگ سے پھیر دے اس کی بدبو مجھے تکلیف دیتی ہے اور اس کی تپش مجھے جلاتی ہے۔ اور وہ اللہ سے دعا مانگے گا جتنی دیر اللہ چاہے کہ اس سے دعا کرے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا کہیں ایسا تو نہیں کہ اگر میں ایسا کردوں تو تو اس کے علاوہ کچھ اور مانگنے لگے۔ اس پر وہ کہے گا نہیں اس کے علاوہ میں تجھ سے کچھ نہیں مانگوں گاپھر جتنا اللہ چاہے گاوہ اپنے رب سے عہد اور پختہ وعدے کرے گا پھر اللہ اس کے چہرے کو آگ سے پھیر دے گا۔ پھر جب وہ جنت کی طرف متوجہ ہوگا اور اسے دیکھے گا تو جب تک اللہ چاہے گا خاموش رہے گا پھر وہ کہے گا اے میرے ربّ ! مجھے جنت کے دروازے تک لے جا۔ تب اللہ اسے فرمائے گا کیا تو نے پختہ عہد وپیمان نہ کئے تھے کہ تو اس کے علاوہ جو میں نے تجھے دے دیا ہے کوئی سوال نہیں کرے گا۔ اے ابنِ آدم تجھ پر افسوس ہے تو کتنا بد عہد ہے! تب وہ کہے گا اے میرے ربّ! وہ اللہ کو پکارتا رہے گا یہانتک کہ وہ اسے کہے گا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ اگر میں تجھے یہ دے دوں تو تو اس کے علاوہ مجھ سے مانگنے لگے۔ تب وہ کہے گا تیری عزّت کی قسم نہیں۔ پھر جتنا اللہ چاہے گا وہ اپنے رب سے پختہ عہدو پیمان کرے گا تو وہ اسے جنت کے دروازے تک لے جائے گا۔ پھر جب وہ جنت کے دروازے پر کھڑاہوگا تو جنت اس کے لئے بہت وسیع ہو جائے گی تو وہ اس میں ہر قسم کی خیر اور خوشی دیکھے گا۔ تو جب تک اللہ چاہے گا کہ خاموش رہے وہ خاموش رہے گا۔ پھر کہے گا اے میرے رب!مجھے جنت میں داخل کردے۔ تب اللہ تبارک و تعالیٰ اسے فرمائے گا: کیا تو نے پختہ عہدو پیمان نہ کئے تھے کہ تو اس کے علاوہ کچھ نہ مانگے گا جو تجھے عطا کرد یا گیا ہے۔ اے ابنِ آدم !تجھ پر افسوس ہے تو کتنا بد عہد ہے! تب وہ کہے گا اے میرے رب! میں تیری مخلوق میں سے سب سے بد بخت نہیں ہونا چاہتا۔ پس وہ اللہ سے دعا کرتا رہے گا یہانتک کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس پرہنسے گا۔ جب اللہ اس پرہنس پڑے گا توفرمائے گا جنت میں داخل ہو جا۔ جب وہ اس میں داخل ہوجائے گا تواللہ اس سے فرمائے گا کہ تمنا کر۔ پس وہ اپنے رب سے مانگے گااور تمنّا کرے گا یہانتک کہ اللہ اسے بتائے گا کہ یہ نعمت بھی ہے یہ بھی ہے۔ یہانتک کہ جب اس کی سب تمنائیں ختم ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ اسے فرمائے گا یہ بھی تیرے لئے ہیں بلکہ اتناہی اور بھی۔ عطاء بن یزید کہتے ہیں کہ حضرت ابو سعید خدریؓ حضرت ابو ہریرہؓ کے ساتھ تھے اور انہوں نے ان کی روایت میں سے ان کی کسی بات کی تردیدنہیں کی مگرحضرت ابوہریرہؓ نے یہ بیان کیا کہ اللہ نے اس شخص سے فرمایا ’’وَمِثْلُہُ مَعَہُ‘‘ اتنا ہی اس کے ساتھ اور، حضرت ابو سعیدؓ نے کہا عَشَرَۃُ اَمْثَالِہِ مَعَہُ یَااَبَا ہُرَیْرَۃَ‘‘اے ابو ہریرہؓ ! اس جیسی دس اس کے ساتھ۔ حضرت ابو ہریرہؓ نے کہاکہ مجھے آپؐ کا صرف اتنا فرمانا یاد ہے’’ذَلِکَ لَکَ وَ مِثْلُہُ مَعَہُ‘‘ یہ تیرے لئے ہے اور اس جیسی اور بھی۔ حضرت ابو سعیدؓ نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ مجھے رسول اللہﷺ کا یہ فرمانا یاد ہے’’ذَلِکَ لَک وَ عَشَرَۃُ اَمْثَالِہِ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں: یہ جنت میں داخل ہونے والا آخری شخص ہوگا۔ زہری سے روایت ہے کہ مجھے سعید بن مسیب اور عطاء بن یزید اللیثی نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہؓ نے ان دونوں کو بتایا کہ لوگوں نے نبیﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسولؐ اللہ! کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟آگے انہوں نے ابراہیم بن سعد کے ہم معنٰی روایت بیان کی۔
ھمام بن منبّہ کہتے ہیں یہ وہ احادیث ہیں جو ہم سے حضرت ابو ہریرہؓ نے رسول اللہﷺ سے بیان کیں اور کچھ احادیث کا ذکر کیاجن میں سے یہ (بھی) ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: تم میں سے جنت میں سب سے کم درجہ کے آدمی سے(اللہ تعالیٰ) کہے گا: تمنّا کرو، وہ تمنّا کرے گا پھر تمنّا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے فرمائے گا کیا تم نے تمنّا کر لی ہے؟ وہ کہے گا جی ہاں۔ تو اللہ تعالیٰ اسے فرمائے گا: جو تونے تمنا کی ہے وہ بھی تجھے دیا جاتا ہے اور ایسا ہی اس کے ساتھ۔