بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 9 of 319 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میری امت میں سے ایک گروہ ستر ہزار لوگوں کاجنت میں داخل ہوگا اور وہ چاند کی صورت ہوں گے۔
حضرت عمرانؓ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا میری امت میں سے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! وہ کون لوگ ہیں؟ آپؐ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو داغنے کے ذریعہ علاج نہیں کرتے اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔ اس پرعکاشہؓ کھڑے ہوئے اور کہا اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے ان میں سے بنادے۔ آپؐ نے فرمایاتم ان میں سے ہو۔ راوی نے کہا پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا اے اللہ کے نبی! اللہ سے دعا کریں کہ اللہ مجھے ان میں سے بنا دے۔ آپؐ نے فرمایا عکاشہؓ ا س میں تجھ پر سبقت لے گیا ہے۔
حضرت عمرانؓ بن حصین سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میری امت میں سے ستر ہزار بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ! یہ کون ہیں؟ آپؐ نے فرمایا یہ وہ ہیں جو جھاڑ پھونک نہیں کرتے، بدشگونی نہیں لیتے، داغنے کے ذریعہ علاج نہیں کرتے اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔
حضرت سہل بنؓ سعد سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میری امت میں سے ستر ہزار یا سات لاکھ ابو حازم کو یادنہیں رہا کہ ان میں سے کون سا(عدد) آپؐ نے فرمایا تھاراوی کہتے ہیں وہ ضرور جنت میں داخل ہوں گے ایک دوسرے کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہوں گے۔ ان میں سے پہلا فرداور آخری اکٹھے داخل ہوں گے۔ ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوں گے۔
حُصین بن عبدالرحمان کہتے ہیں کہ میں سعید بن جبیر کے پاس تھا۔ انہوں نے کہا کہ تم میں سے کسی شخص نے گزشتہ رات ٹوٹنے والے ستارے کو دیکھا ہے؟ میں نے کہا مَیں نے۔ پھر مَیں نے کہا کہ میں نماز میں نہیں تھا لیکن مجھے کسی چیز نے ڈس لیا (اس لئے میں جاگ رہا تھا) انہوں نے کہا پھرآپ نے کیا کیا؟ میں نے کہا کہ میں نے دم کروایا۔ انہوں نے کہا اس بات پر تمہیں کس (چیز)نے آمادہ کیا؟ میں نے کہا ایک حدیث نے جو ہمیں شعبی نے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ تمہیں شعبی نے کیا بتایا ہے؟ میں نے کہا انہوں نے ہمیں حضرت بریدہ بنؓ حصیب اسلمی سے روایت کرکے بتایاانہوں نے کہا کہ سوائے نظر یا ڈنگ کے کوئی دم نہیں۔ پھر انہوں نے کہا کہ اس نے بہت اچھا کیا جو وہاں تک رہا جو اس نے سنا ہے لیکن ہمیں حضرت ابن عباسؓ نے نبیﷺ سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ آپؐ نے فرمایا کہ میرے سامنے امتیں پیش کی گئیں۔ پس میں نے کسی نبی کے ساتھ کوئی ایک چھوٹی سے جماعت دیکھی۔ کسی نبی کے ساتھ ایک یا دو آدمیوں کو دیکھا اور کسی نبی کے ساتھ کوئی شخص بھی نہیں تھا۔ پھر میرے سامنے ایک بہت بڑی جماعت لائی گئی تو میں نے سمجھا کہ وہ میری امت ہیں۔ مجھ سے کہا گیا کہ یہ موسیٰﷺ اور ان کی قوم ہے لیکن اُفق کی طرف دیکھو، تو میں نے دیکھا تومیں کیا دیکھتا ہوں ایک بہت بڑی جماعت ہے۔ پھر مجھ سے کہا گیا کہ دوسرے افق کی طرف دیکھو، تو کیادیکھتا ہوں کہ ایک بہت ہی بڑی جماعت ہے۔ پھر مجھ سے کہا گیا کہ یہ تیری امت ہے اور ان کے ساتھ ستر ہزار افراد ایسے ہیں جو جنت میں بغیر حساب وعذاب کے داخل ہوں گے۔ پھر آپؐ اٹھے اور اپنے گھر تشریف لے گئے۔ لوگ ان لوگوں کے بارہ میں قیاس آرائیاں کرنے لگے جو جنت میں بغیر حساب و عذاب داخل ہوں گے۔ ان میں سے بعض (لوگوں )نے کہا شاید یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے رسول اللہﷺ کی صحبت پائی اور ان میں سے بعض نے کہا شاید یہ وہ لوگ ہیں جواسلام میں پیدا ہوئے اور انہوں نے اللہ کے ساتھ شریک نہیں ٹھہرایا۔ انہوں نے کچھ اور باتو ں کا بھی تذکرہ کیا۔ تو رسول اللہﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا تم کن باتوں میں لگے ہوئے ہو؟ انہوں نے آپؐ کو بتایا۔ آپؐ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو نہ جھاڑ پھونک کرتے ہیں نہ کرواتے ہیں نہ براشگون لیتے ہیں اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں اس پر عکاشہؓ بن محصن کھڑے ہوئے اور عرض کیا اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے ان میں سے بنادے۔ اس پر آپؐ نے فرمایا تم ان میں سے ہو۔ پھرایک اور شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا کہ اللہ کے حضور دعا کیجئے کہ وہ مجھے ان میں سے بنادے۔ اس پر آپؐ نے فرمایا اس میں عکاشہؓ تم پر سبقت لے گیا ہے۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میرے سامنے امتیں پیش کی گئیں۔ پھر (ابوبکر) نے ہشیم کی طرح باقی روایت بیان کی۔ اور اس میں ان کی روایت کا ابتدائی حصہ بیان نہیں کیا۔
حضرت عبداللہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ہم سے فرمایا: کیاتم راضی نہیں کہ تم اہلِ جنت کے ایک چوتھائی ہو۔ حضرت عبداللہؓ کہتے ہیں ہم نے اللہ اکبر کہا۔ پھر آپؐ نے فرمایا کیا تم راضی نہیں کہ تم ا ہلِ جنت کاتیسرا حصہ ہوجاؤ۔ وہ کہتے ہیں ہم نے پھر اللہ اکبر کہا۔ پھر آپؐ نے فرمایا مجھے اُمید ہے کہ تم اہلِ جنت کے نصف ہو گے اور میں اس بارہ میں تمہیں بتاتاہوں۔ کفارکے مقابلہ میں سے مسلمانوں کی تعداد سیاہ بیل میں ایک سفید بال کی ہے یا سفید بیل میں ایک سیاہ بال کی طرح ہے۔
حضرت عبداللہؓ کہتے ہیں کہ ہم قریبًا چالیس افراد رسول اللہﷺ کے ساتھ ایک خیمہ میں تھے۔ آپؐ نے فرمایا کیاتم راضی ہو کہ تم اہلِ جنت کا ایک چوتھائی ہو۔ ہم نے کہا جی ہاں۔ پھر آپؐ نے فرمایا کیا تم راضی ہو کہ تم اہلِ جنت کا ایک تہائی ہوجاؤ؟ ہم نے کہا جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مجھے امید ہے کہ تم اہلِ جنت کے نصف ہو گے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جنت میں صرف فرمانبردار نفس ہی داخل ہوگا اور تمہاری اہلِ شرک میں وہی نسبت ہے جو سیاہ بیل کی جلد میں ایک سفید بال کی ہے یا سرخ بیل کی جلد میں ایک کالے بال کی ہے۔
حضرت عبداللہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ہم سے خطاب فرمایا۔ آپؐ نے اپنی پشت چمڑے کے خیمہ کے ساتھ لگائی ہوئی تھی۔ آپؐ نے فرمایا سنو! جنت میں صرف فرمانبردار نفس ہی داخل ہوگا۔ اے اللہ!کیا میں نے پیغام پہنچادیا؟ اے اللہ!گواہ رہ۔ کیا تم پسند کرتے ہو کہ تم اہلِ جنت کے ایک چوتھائی ہو۔ ہم نے کہا ہاں یا رسول اللہ! پھر آپؐ نے فرمایا: کیاتم پسند کرتے ہو کہ تم اہلِ جنت میں ایک تہائی ہو؟ انہوں نے کہا ہاں یا رسول اللہ! آپؐ نے فرمایا: میں امید کرتا ہوں کہ تم اہلِ جنت کا نصف ہوگے۔ دوسری امتوں کے سامنے تمہاری مثال ایسی ہے جیسے سفید بیل میں ایک کالا بال یا کالے بیل میں ایک سفید بال۔
حضرت ابو سعیدؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ عزّوجل فرمائے گا اے آدمؑ ! تو وہ کہیں گے لبیک! یہ میری سعادت ہے اور خیر تیرے ہاتھوں میں ہے۔ فرمایا اللہ فرمائے گا آگ کا گروہ نکال لو۔ پوچھا آگ کے گروہ سے کیا مراد ہے؟ فرمایا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ فرمایا پس اس وقت بچہ بوڑھا ہو جائے گا اور ہر حاملہ اپنے حمل کو گرادے گی اور تو لوگوں کو مدہوش پائے گا حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب شدید ہوگا۔ راوی کا بیان ہے کہ یہ بات ان پر گراں گزری۔ انہوں نے کہایا رسول اللہ! ہم میں سے وہ ایک شخص کون ہے؟ فرمایا خوش ہو جاؤ یاجوج ماجوج میں سے ایک ہزار ہوں گے تو تم میں سے ایک۔ راوی نے کہا کہ پھر فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں خواہش رکھتا ہوں کہ تم ا ہلِ جنت کا ایک چوتھائی ہو گے تو ہم نے اللہ کی حمد کی اور اللہ اکبر کہا۔ پھر آپؐ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں امید رکھتا ہوں کہ تم جنت کا ایک تہائی ہوگے۔ تو ہم نے اللہ کی حمد کی اور اللہ اکبر کہا۔ پھرآپؐ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں امید رکھتا ہوں کہ تم اہلِ جنت کا نصف ہوگے۔ امتوں میں تمہاری مثال ایسی ہے جیسے سیاہ بیل کی جلد میں سفید بال یا گدھے کے پاؤں میں ایک نشان۔ اعمش سے ابو کریب اور ابو معاویہ دونوں نے اسی سند سے روایت کی ہے مگر دونوں کہتے ہیں (کہ حضورﷺ نے فرمایا)کہ لوگوں میں تم سیاہ بیل میں ایک سفید بال کی طرح ہو گے یا سفید بیل میں سیاہ بال کی طرح اور انہوں نے گدھے کے پاؤں میں نشان کا ذکر نہیں کیا۔