بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 112 hadith
حضرت ابو مالکؓ اشعری کہتے ہیں کہ رسو ل اللہﷺ نے فرمایا صفائی(و پاکیزگی) نصف ایمان ہے اور ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ‘‘ ترازو کو بھر دے گا اور ’’سُبْحَانَ اللّٰہِ‘‘اور’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ‘‘ آسمانوں و زمین کے درمیان کو بھر دیں گے۔ نماز نورہے اور صدقہ (صحتِ ایمان کی) دلیل ہے اور صبر روشنی ہے اور قرآن تیرے لئے یا تیرے خلاف حجت ہے۔ ہر آدمی صبح اٹھتا ہے تو اپنے نفس کا سودا کرتا ہے پھر یا تو وہ اسے آزاد کرتا ہے یاہلاک کردیتا ہے۔
مصعب بن سعد بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمرؓ، ابن عامر کے پاس جبکہ وہ مریض تھے عیادت کیلئے گئے۔ انہوں نے کہا اے ابن عمرؓ ! کیا آپ اللہ سے میرے لئے دعا نہیں کریں گے؟ انہوں نے کہا میں نے رسو ل اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے نماز وضوء کے بغیر قبول نہیں ہوتی اور نہ صدقہ خیانت کے مال سے اور تم بصرہ کے حاکم رہے ہو۔
ہمام بن منبہ جووہب بن منبہ کے بھائی ہیں نے کہا یہ وہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہؓ نے حضرت محمدرسول اللہﷺ سے روایت کی ہیں پھر انہوں نے کئی احادیث کا ذکر کیا۔ ان میں سے یہ بھی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کسی کی نماز قبول نہیں ہوتی جب اس کا وضوء نہ رہے یہانتک کہ وہ وضوء کرے۔
ابن شہاب سے روایت ہے کہ عطاء بن یزید ا للیثی نے انہیں بتایاکہ حضرت عثمانؓ کے آزاد کردہ غلام حُمران نے انہیں بتایا کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے وضوء کا پانی منگوایا پھر وضوء کیااور تین بار اپنے دونوں ہاتھ دھوئے پھر کلی کی اور (پانی سے) ناک صاف کی۔ پھر اپنا چہرہ تین بار دھویا پھر دایاں بازو کہنی تک تین بار دھویا پھر بایاں بازو اسی طرح دھویا پھر سر کا مسح کیا پھر دایاں پاؤں ٹخنوں تک تین بار دھویا پھربایاں پاؤں اسی طرح دھویا پھر فرمایا میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا کہ آپؐ نے میرے اس وضوء کی طرح وضوء کیا پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا جس نے میرے اس وضوء کی طرح وضوء کیا پھر کھڑا ہوا اور دو رکعت ادا کیں اور ان میں اپنے آپ سے باتیں نہ کیں تو اس کے پہلے تمام گناہ بخش دئیے گئے۔ ابن شہاب کہتے ہیں کہ ہمارے علماء کہتے تھے کہ یہ وضوء سب سے مکمل ہے جو کوئی شخص نماز کے لئے کرتا ہے۔
حضرت عثمانؓ کے آزاد کردہ غلام حُمران سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عثمانؓ کو دیکھا انہوں نے ایک برتن منگوایا پھر اپنے دونوں ہاتھوں پر تین بار پانی ڈالا اور انہیں دھویا پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں ڈالا اور کلی کی، ناک میں پانی ڈال کر صاف کیا پھر اپنا چہرہ تین بار دھویا او ر اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک تین بار دھوئے پھر اپنے سر کا مسح کیا پھر اپنے دونوں پاؤں تین بار دھوئے پھر انہوں نے کہا کہ رسو ل اللہﷺ نے فرمایا جس نے میرے اس وضوء کی طرح وضوء کیا پھرد و رکعتیں اداکیں اور ان میں اپنے آپ سے کوئی بات نہ کی۔ اس کے پہلے تمام گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔
حضرت عثمانؓ کے آزاد کردہ غلام حُمران سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمانؓ سے سنا جبکہ وہ مسجد کے صحن میں تھے۔ اوران کے پاس عصر کے وقت مؤذِّن آیا تو انہوں نے پانی منگوایا اور وضوء کیا پھر فرمایا اللہ کی قسم! میں تمہیں ایک حدیث سنانے لگا ہوں اگر اللہ کی کتاب میں ایک آیت نہ ہوتی تو میں تمہیں یہ حدیث کبھی نہ سناتا۔ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی مسلمان آدمی وضوء کرے اور عمدگی سے وضوء کرے اور نماز ادا کرے تو اللہ تعالیٰ اس (نماز) اور اس سے پہلی نماز کے درمیان کے تمام (گناہ) معاف کر دیتا ہے۔ اور ابو اسامہ کی روایت میں ہے فَیُحْسِنُ وُضُوْئَہُ ثُمَّ یُصَلِّیْ الْمَکْتُوْبَۃَکہ عمدگی سے اپنا وضوء کرے پھر فرض نماز ادا کرے۔
حُمران سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ جب حضرت عثمانؓ نے وضوء کیا تو فرمایا اللہ کی قسم میں تمہیں ایک حدیث سنانے لگا ہوں بخدا اگر اللہ کی کتاب میں ایک آیت نہ ہوتی تو میں یہ تمہیں کبھی نہ سناتا۔ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو آدمی وضوء کر تا ہے اور اچھی طرح وضوء کرتا ہے پھر نماز پڑھتا ہے تو اس نماز اور اس سے بعد کی نماز کے درمیان والے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔ عروہ نے کہا وہ آیت یہ ہے اِنَّ الَّذ ینَ یَکْتُمُونَ الآیۃ یعنی: یقینا وہ لوگ جو اسے چھپاتے ہیں جو ہم نے واضح نشانات اور کامل ہدایت میں سے نازل کیا اس کے بعد بھی ہم نے کتاب میں اس کو لوگوں کے لئے خوب کھول کر بیان کر دیا تھا یہی ہیں وہ جن پر اللہ لعنت کرتا ہے اور ان پر سب لعنت کرنے والے بھی لعنت کرتے ہیں۔ (البقرہ: 160)
عمرو بن سعید بن العاص بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عثمانؓ کے پاس تھا۔ انہوں نے وضوء کا پانی منگوایا اور کہا میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا جو مسلمان مرد فرض نماز کا وقت پائے اور وہ اس کے لئے اچھی طرح وضوء کرے اور اسے خوب خشوع خضوع سے ادا کرے اور عمدگی سے اس کا رکوع کرے تو یہ نماز اس کے پہلے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گی بشرطیکہ وہ کسی گناہ کبیرہ کا ارتکاب نہ کرے اور ہمیشہ ایسا ہی ہو گا۔
حضرت عثمانؓ کے آزاد کردہ غلام حُمران سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عثمانؓ بن عفّان کے پاس وضوء کے لئے پانی لے کر آیا۔ انہوں نے وضوء کیا پھر فرمایا لوگ رسول اللہﷺ سے ایسی روایات کرتے ہیں میں نہیں جانتا وہ کیا ہیں مگر میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا ہے۔ آپؐ نے میرے اس وضوء کی طرح وضوء کیا تھا پھر (آپؐ ) نے فرمایا جس نے اس طرح وضوء کیا اس کے پہلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور اس کی نماز اور مسجد کی طرف اس کا جانا مزید(ثواب کا باعث) ہے۔ ابن عبدہ کی روایت میں ہے میں حضرت عثمانؓ کے پاس آیا تو انہوں نے وضوء کیا۔
ابو انس سے روایت ہے کہ حضرت عثمانؓ نے مقاعد٭پر وضوء کیا اور پھر فرمایا کیا میں تمہیں رسول اللہﷺ کے وضوء کا طریق نہ دکھاؤں۔ پھر آپؓ نے تین تین بار (و ضوء کے اعضاء) دھوئے۔ قتیبہ نے اپنی روایت میں مزید کہاہے کہ اس وقت آپؓ (حضرت عثمانؓ ) کے پاس رسول اللہﷺ کے صحابہؓ میں سے کچھ موجود تھے۔