بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 98 hadith
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا ہم رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ انصار میں سے ایک شخص آپؐ کے پاس آیا۔ اس نے آپؐ کو سلام کیا۔ پھر وہ انصاریؓ پیچھے مڑا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اے انصاری بھائی! میرے بھائی سعد بن عبادہؓ کاکیا حال ہے؟ اس نے کہا بہترہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا تم میں سے کون اس کی عیادت کرے گا؟پس آپؐ اٹھے اور ہم بھی آپؐ کے ساتھ اُٹھ کھڑے ہوئے اور ہم دس سے اوپر کچھ لوگ تھے۔ ہم نے نہ جوتے پہنے تھے نہ موزے، نہ ٹوپیاں تھیں نہ قمیصیں۔ ہم اس کلّر زمین میں چلے یہاں تک کہ ہم ان کے پاس آئے۔ ان (عبادہؓ ) کے لوگ ان کے اِردگردسے پیچھے ہٹ گئے اور رسول اللہﷺ اور آپؐ کے وہ اصحابؓ جو آپؐ کے ساتھ تھے قریب آئے۔
حضرت انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا حقیقی صبر صدمہ کے آغاز میں ہی ہوتا ہے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں جب حضرت عمرؓ پر حملہ ہوا۔ آپؓ پربے ہوشی طاری ہو گئی تو ان پرچیخ وپکار ہوئی۔ جب آپؓ کو افاقہ ہوا آپؓ نے کہا کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ ایک عورت کے پاس تشریف لائے جو اپنے بیٹے پر رورہی تھی۔ آپؐ نے اسے فرمایا اللہ کا تقویٰ اختیارکرو اور صبر کرو۔ وہ کہنے لگی تمہیں میری مصیبت کا کیاپتہ؟ جب آپؐ تشریف لے گئے اسے بتایا گیا یہ (تو) رسول اللہﷺ تھے۔ اس پر جیسے موت طاری ہوگئی۔ وہ آپؐ کے دروازے پر آئی اور آپؐ کے دروازے پر کوئی دربان نہ پایا۔ وہ کہنے لگی یا رسولؐ اللہ! میں نے آپؐ کو پہچانا نہیں تھا۔ آپؐ نے فرمایا صبر صدمہ کے آغاز میں ہوتا ہے۔ عبدالصمد کی روایت میں ہے کہ نبیﷺ ایک عورت کے قریب سے گزر ے جو ایک قبر کے پاس تھی۔
حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے کہ حضرت حفصہؓ، حضرت عمرؓ پر(قاتلانہ حملہ کے وقت)رونے لگیں تو انہوں نے کہا اے بیٹی! ذرا ٹھہرو، کیا تمہیں پتہ نہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے میت کو اس کے اہل کے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔
حضرت ابن عمرؓ حضرت عمرؓ سے روایت کر تے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا میت کو اس کی قبر میں اس نوحہ کی وجہ سے جو اس پر کیا جائے عذاب دیا جاتا ہے۔ حضرت ابن عمرؓ حضرت عمرؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا میت کو اس کی قبر میں اس نوحہ کی وجہ سے جو اس پر کیا جائے عذاب دیا جاتا ہے۔
ابو بردہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں جب حضرت عمرؓ پر حملہ ہوا تو حضرت صہیبؓ نے ہائے بھائی(ہائے بھائی) کہنا شروع کیا۔ اُن کو حضرت عمرؓ نے کہا اے صہیب! کیا تمہیں پتہ نہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ میت کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔
حضرت ابو موسیٰ ؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں جب حضرت عمرؓ پر حملہ ہوا تو حضرت صہیبؓ اپنے گھر سے آئے اور حضرت عمرؓ کے پاس پہنچے اور آپؓ کے سامنے کھڑے ہوکر رونے لگے۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا کیوں روتے ہو؟ کیا مجھ پر روتے ہو؟ انہوں نے کہا ہاں اللہ کی قسم اے امیر المؤمنین!میں یقیناآپ پر ہی روتا ہوں۔ انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم! تم جانتے ہوکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس پر رویا جائے اسے عذاب دیا جاتا ہے۔ راوی کہتے ہیں میں نے یہ بات موسیٰ بن طلحہ کے پاس بیان کی تو انہوں نے کہا حضرت عائشہؓ کہتی تھیں اس سے تو صرف یہودی لوگ مراد تھے۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ پر جب حملہ کیا گیا تو حضرت حفصہؓ آپؓ پر بآوازبلندرونے لگیں تو آپؓ نے کہا اے حفصہ! کیاتم نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے نہیں سنا کہ جس پر بلند آواز سے رویا جائے وہ عذاب دیا جاتا ہے اور صہیبؓ آپؓ پر بآوازبلند رونے لگے۔ حضرت عمرؓ نے کہا اے صہیبؓ کیاتم جانتے نہیں کہ جس پر بلند آوازسے رویا جائے اسے عذاب دیا جاتا ہے۔
عبداللہ بن ابی ملیکہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں حضرت ابن عمرؓ کے پہلو میں بیٹھا ہواتھا اور ہم امّ ابان بنت عثمانؓ کے جنازہ کا انتظار کر رہے تھے اور ان کے پاس عمرو بن عثمانؓ تھے۔ اتنے میں حضرت ابن عباسؓ آئے۔ ان کو ایک گائیڈ (guide)لے کر آ رہا تھا۔ میرا خیال ہے اس نے ان سے حضرت ابن عمرؓ کی موجودگی کا ذکر کیا۔ وہ آکر میرے پہلو میں بیٹھ گئے اور میں ان دونوں کے درمیان تھا اچانک گھر سے (رونے کی) آواز آئی۔ حضرت ابن عمرؓ نے گویا عمرو کو اشارہ کیاکہ وہ کھڑا ہو کر انہیں منع کردے۔ چنانچہ انہوں نے کہا میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ میت کو اس کے اہل کے رونے کی وجہ سے ضرور عذاب دیا جاتا ہے۔ حضرت عبداللہؓ نے اس بات کو عام رکھا تھا۔ اس پر حضرت ابن عباسؓ نے کہا ہم امیر المؤمنین حضرت عمر بن الخطابؓ کے ساتھ تھے یہانتک کہ ہم بیداء مقام پر پہنچے تو کیا دیکھا کہ ایک شخص درخت کے سائے میں اترا ہواہے۔ انہوں نے کہا جاؤ اور پتہ کر کے مجھے بتاؤ کہ وہ کون شخص ہے؟میں گیا تو دیکھا کہ وہ حضرت صہیبؓ تھے۔ میں ان (حضرت عمرؓ )کی طرف واپس لوٹا اور کہا آپ نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں آپ کے لئے پتہ کروں کہ وہ کون ہیں۔ وہ حضرت صہیبؓ ہیں۔ انہوں نے کہا اسے کہو وہ ہمارے ساتھ آملے۔ میں نے کہا ان کے ساتھ ان کے اہلِ خانہ بھی ہیں۔ انہوں نے کہا خواہ ان کے ساتھ ان کے اہلِ خانہ بھی ہوں۔ } اور بسا اوقات راوی ایوب کہتے تھے{ اسے حکم دو کہ وہ ہم سے آملے۔ جب ہم (مدینہ) آئے تو زیادہ دیرنہ ہوئی کہ امیر المؤمنین پر حملہ ہوا۔ صہیبؓ یہ کہتے ہوئے آئے’’ہائے میرے بھائی ! ہائے میرا دوست‘‘ حضرت عمرؓ نے کہا کیا تم نہیں جانتے کیا تم نے سنا نہیں؟راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے (اَلَم تَعْلَمْ اَو لَم تَسْمَعْ) کی بجائے اَوََلَم تَعْلَمْ اَوْلَمْ تَسْمَعْ کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا کہ میّت کو اپنے گھر والوں کے بعض(انداز کے) رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہؓ نے تو اس کو عام رکھاتھامگر حضرت عمرؓ نے بعض کا لفظ بولاہے تو میں اُٹھا اور حضرت عائشہؓ کے پاس گیا اور ان کو بتایا جو حضرت ابن عمرؓ نے کہا تھا انہوں (حضرت عائشہؓ ) نے فرمایا نہیں ! اللہ کی قسم رسول اللہﷺ نے کبھی ایسا نہیں فرمایا کہ میّت کو کسی کے رونے سے عذاب دیا جاتا ہے بلکہ آپؐ نے فرمایا تھا کہ اللہ کا فر کو آگ کے عذاب میں بڑھا دیتا ہے اور یقینا اللہ ہی ہنساتا اور رلاتا ہے (النجم: 44) اور کوئی بوجھ اُٹھانے والی دوسرے کا بوجھ نہیں اُٹھاتی (الاسراء: 16) قاسم بن محمد کہتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ کو جب حضرت عمرؓ اور حضرت ابن عمرؓ کی روایت پہنچی تو انہوں نے فرمایا تم مجھے ان لوگوں کی روایت بیان کر رہے ہو جو نہ غلط بیا نی کرنے والے ہیں نہ انہیں جھوٹا قرار دیا گیا ہے لیکن سننے میں غلطی ہوجاتی ہے۔