حضرت ام عطیہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی۔ یُبَایِعْنَکَ۔ ۔ ۔ الخ: اے نبی! جب عورتیں تیری بیعت کریں کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہرائیں گی۔ ۔ ۔ ۔ اور نہ ہی معروف (امور) میں تیری نافرمانی کریں گی (الممتحنۃ: 13) انہوں نے کہا اس(معروف) میں نوحہ بھی تھا۔ انہوں نے کہا میں نے عرض کیایا رسولؐ اللہ! سوائے فلاں خاندان کے کیونکہ انہوں نے جاہلیت میں (نوحہ کرنے میں ) میرا ساتھ دیا تھا۔ اب میرے لئے اس کے بغیرکوئی چارہ نہیں کہ میں ان کا ساتھ دوں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا سوائے فلاں خاندان کے۔
حضرت ام عطیہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے جب انہیں حکم دیا کہ وہ آپؐ کی بیٹی کو غسل دیں تو آپؐ نے فرمایا تھا اس کے داہنے پہلوؤں سے اور وضوء کے اعضاء سے شروع کرنا۔
حضرت ام عطیہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں نبیﷺ ہمارے پاس آئے اور ہم آپؐ کی بیٹی کو غسل دے رہے تھے۔ آپؐ نے فرمایا اس کو تین یا پانچ مرتبہ غسل دینا، یا اگر تم (ضرورت) سمجھو تو اس سے زیادہ مرتبہ(غسل دو) پانی اور بیری (کے پتّوں سے) غسل دینا اور آخر میں کافور یا فرمایا کہ کچھ کافور ڈال دینا۔ پھر جب تم فارغ ہو تو مجھے اطلاع کرنا۔ جب ہم فارغ ہو ئے ہم نے آپؐ کو اطلاع دی۔ آپؐ نے ہمیں اپنا ازا ر دیااور فرمایا اس کو ان کا شعار٭ بنا دینا۔ حضرت ام عطیہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ ہم نے ان کی تین مینڈھیاں بنائیں۔ حضرت ام عطیہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ نبیﷺ کی ایک بیٹی فوت ہو گئیں اور ابن عُلیّہ کی روایت میں ہے کہ حضرت ام عطیہؓ نے کہا ہمارے پاس رسول اللہﷺ تشریف لائے اور ہم آپؐ کی صاحبزادی کو غسل دے رہے تھے اور مالک کی روایت میں ہے حضرت ام عطیہؓ نے کہا ہمارے پاس رسول اللہﷺ تشریف لائے۔ جب آپؐ کی صاحبزادی کی وفات ہوئی۔ باقی روایت پہلی روایت کی طرح ہے۔ دوسری روایت میں حضرت ام عطیہؓ سے یہی مروی ہے سوائے اس کے کہ اس میں یہ ذکر ہے کہ تین دفعہ یا پانچ دفعہ یا سات دفعہ یااگر تم دیکھو تو اس سے زیادہ (غسل دو)۔ (راویہ) حفصہ حضرت ام عطیہؓ سے روایت کرتی ہیں کہ ہم نے (حضورؐ کی) اس(صاحبزادی)کی تین مینڈھیاں بنائیں تھیں۔ ٭: شعار اس کپڑے کو کہتے ہیں جو بدن کے ساتھ لگتا ہو۔ حضرت ام عطیہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں (کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا) اس کو طاق تعداد میں غسل دینا، تین یا پانچ یا سات دفعہ۔ راوی کہتے ہیں حضرت ام عطیہؓ نے کہاہم نے ان کی تین مینڈھیاں بنائی تھیں۔
حضرت ام عطیہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں جب رسول اللہﷺ کی بیٹی زینب فوت ہوئیں تو رسول اللہﷺ نے ہمیں فرمایا اس کو طاق تین یا پانچ دفعہ غسل دینااور پانچویں دفعہ کافور ڈالنا یا فرمایاکچھ کافور ڈالنا۔ جب تم ان کو غسل دے چکو تو مجھے اطلاع کرنا۔ وہ کہتی ہیں ہم نے آپؐ کو اطلاع دی۔ آپؐ نے ہمیں اپنا ازار عطا فرمایااور فرمایا اسے ان کا شعار بنا دینا۔ حضرت ام عطیہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہﷺ تشریف لائے اور ہم آپؐ کی ایک صاحبزادی کو غسل دے رہے تھے۔ آپؐ نے فرمایا اسے طاق پانچ یا اس سے زیادہ دفعہ غسل دینا۔ ایک اور روایت میں ہے انہوں نے کہا ہم نے ان کے بالوں کی تین مینڈھیاں بنائیں۔ (سر کے) دونوں طرف اور سامنے۔
حضرت خبابؓ بن الارت سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اللہ کی راہ میں رسول اللہﷺ کے ساتھ ہجرت کی۔ ہم اللہ کی رضا چاہتے تھے۔ ہمارا اجر اللہ پر واجب ہو گیا۔ ہم میں سے جو گزر گئے انہوں نے اپنے اجر میں سے کچھ نہ کھایا۔ ان میں حضرت مُصعب بن عُمَیرؓ بھی تھے وہ احد کے دن شہید ہوئے۔ ان کے لئے سوائے ایک چادر کے کوئی چیز نہ پائی گئی جس میں ان کو کفن دیا جائے۔ وہ چادر جب ہم ان کے سر پر ڈالتے تھے تو ان کے پاؤں باہر نکل آتے اور جب ہم ان کے پاؤں پر ڈالتے تھے توان کا سرباہر رہ جاتاتھا۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا اس سے ان کا سر(اور جسم وغیرہ) ڈھانک دو اور ان کے پاؤں پر اذخر(گھاس) ڈال دواور ہم میں سے وہ بھی ہیں جن کا پھل ان کے لئے پک چکا ہے اور وہ اسے چن رہے ہیں۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہﷺ کو تین سفید رنگ کے سوتی سحولی کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا ان میں قمیص اور عمامہ نہیں تھا۔ باقی رہا چادروں کا جوڑا اس کے بارہ میں لوگوں کو اشتباہ ہوا کیونکہ یہ آپؐ کو اس میں کفن دینے کے لئے خریدا گیا تھا اور تین سفید سحولی کپڑوں ٭میں آپؐ کو کفن دیا گیا۔ وہ استعمال نہیں کیا گیااور حضرت عبداللہ بن ابی بکرؓ نے لے لیا اور کہا میں یہ سنبھال کر رکھوں گاتاکہ مجھے اس میں کفن دیاجائے۔ پھر انہوں نے کہا اگر اللہ تعالیٰ اپنے نبیﷺ کے لئے یہ پسندکرتاتو وہ ضرور ان میں آپؐ کو کفن دلواتا۔ چنانچہ انہوں نے وہ بیچ دیااور اس کی قیمت صدقہ کردی۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں رسول اللہﷺ کودویمنی چادروں میں لپیٹا گیا تھاجو عبداللہ بن ابی بکرؓ کی تھیں۔ پھر وہ اتار لی گئیں اور آپؐ کو تین یمنی سحولی کپڑوں میں کفن دیا گیا۔ ان میں عمامہ اور قمیص نہیں تھے۔ عبداللہؓ نے چادروں کا وہ جوڑا لے لیااور کہامیں اس میں کفن دیا جاؤں گا۔ پھر انہوں نے کہا ان میں رسول اللہﷺ کو کفن نہیں دیا گیا اور مجھے اس میں کفن دیا جائے گا۔ پس انہوں نے اسے صدقہ کر دیا۔