بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 98 hadith
حضرت جابرؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ اور آپؐ کے صحابہؓ ایک یہودی کے جنازہ کے لئے کھڑے ہو گئے یہانتک کہ وہ نظروں سے اوجھل ہوگیا۔
ابن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ حضرت قیس بن سعدؓ اور حضرت سہل بن حُنیفؓ قادسیہ میں تھے ان دونوں کے پاس سے ایک جنازہ گزراتووہ دونوں کھڑے ہوگئے۔ ان سے کہا گیا یہ اس علاقہ کے لوگوں میں سے ہے٭ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا۔ آپؐ کھڑے ہوگئے۔ آپؐ سے کہا گیا یہ تو یہودی ہے۔ آپؐ نے فرمایا کیا وہ انسان نہیں۔ قاسم بن زکریا کی روایت جو عمرو بن مرہ سے اسی سند سے مروی ہے اس میں ہے کہ ان دونو ں نے کہا کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے کہ ہمارے پاس سے ایک جنازہ گزرا۔
واقد بن عمرو سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نافع بن جبیر نے مجھے کھڑے ہوئے دیکھا اور ہم ایک جنازہ میں تھے اور وہ جنازہ کے رکھے جانے کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے مجھ سے کہا تم کیوں کھڑے ہو؟ میں نے کہا میں انتظار کر رہا ہوں کہ جنازہ رکھا جائے اس روایت کی وجہ سے جو حضرت ابو سعیدؓ خدری بیان کرتے ہیں۔ اس پر نافع نے کہا کہ مجھ سے حضرت مسعودؓ بن حکم نے حضرت علی بن ابی طالبؓ سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہﷺ کھڑے ہوا کرتے تھے پھر بیٹھنے لگے۔
حضرت مسعود بن الحکمؓ نے حضرت علیؓ بن ابی طالب کو جنازوں کے متعلق یہ کہتے ہوئے سنا کہ بے شک رسول اللہﷺ کھڑے ہوتے تھے پھر بیٹھنے لگے اور انہوں نے یہ حدیث اس لئے بیان کی کہ نافع بن جبیر نے واقد بن عمرو کو جنازہ کے رکھے جانے تک کھڑے ہوئے دیکھا۔
حضرت مسعود بن حکمؓ حضرت علیؓ سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں ہم نے رسول اللہﷺ کو کھڑے دیکھا تو ہم بھی کھڑے ہو گئے اور آپؐ بیٹھے تو ہم بھی بیٹھ گئے۔ یعنی جنازہ میں۔
حضرت عوف بن مالکؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہﷺ نے ایک جنازہ پڑھایا تو میں نے آپؐ کی دعا یاد کرلی۔ آپؐ کہہ رہے تھے اے اللہ! اس کو بخش دے۔ اس پر رحم کر، اس کو عافیت سے رکھ اور اس سے درگزر کر اور اس کی باعزت مہمانی فرما۔ اور اس کے داخل ہونے کی جگہ کو وسیع کر دے اور اسے پانی اور برف اور اولو ں سے دھو دے اور اسے بدیوں سے صاف کردے جیسے ایک سفید کپڑے کو تو آلودگی سے صاف کرتا ہے۔ اور اسے بدلے میں اس کے گھر سے بہتر گھر دے اور اس کے گھر والوں سے بہتر گھر والے عطا کر اور اس کے ساتھی سے بہتر ساتھی دے۔ اور اس کو جنت میں داخل کر اور اس کو قبر کے عذاب سے پناہ دے یا (کہا) آگ کے عذاب سے۔ راوی کہتے ہیں یہانتک کہ مجھے خواہش ہوئی کہ کاش وہ مرنے والا میں ہوتا۔
حضرت عوف بن مالکؓ الاشجعی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے نبیﷺ کو سنا جبکہ آپؐ نمازِجنازہ پڑھارہے تھے۔ اے اللہ اس کو بخش دے۔ اور اس پر رحم کر اور اس سے درگزر کر اور اسے عافیت سے رکھ اور اس کی باعزت مہمانی فرما اور اس کے داخل ہونے کی جگہ وسیع کردے اور اسے پانی اور برف اور اولوں سے دھو ڈال اور اسے گناہوں سے ایساپاک کر دے جیسے سفید کپڑا میل سے صاف کیا جاتا ہے اور اسے بدلہ میں اس کے گھر سے بہتر گھر دے۔ اور اس کے اہل سے بہتر اہل عطاء کر۔ اور اس کے ساتھی سے بہتر ساتھی عطا کر۔ اور اسے قبر کی آزمائش سے اور آگ کے عذاب سے بچا۔ حضرت عوفؓ کہتے ہیں میں نے رسول اللہﷺ کی اس میّت پر دعا کی وجہ سے خواہش کی کہ کاش وہ مرنے والا میں ہی ہوتا۔
حضرت سمرہؓ بن جُندب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے نبیﷺ کے پیچھے نمازِجنازہ پڑھی اور آپؐ نے ام کعب کی نماز(جنازہ) پڑھائی وہ زچگی کی حالت میں فوت ہوئی تھیں۔ رسول اللہﷺ ان کی نماز جنازہ کے لئے(جنازہ کے) درمیان کھڑے ہوئے۔ دوسرے راویوں نے حسین سے اسی سند سے روایت کی ہے اور انہوں نے ام کعبؓ کا ذکر نہیں کیا۔
حضرت سمرہ بن جندبؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کے زمانہ میں (کمسن) لڑکا تھا اور میں آپؐ سے باتیں یاد کر لیتاتھا انہیں بیان کرنے سے سوائے اس کے مجھے کوئی بات نہیں روکتی کہ یہاں مجھ سے زیادہ عمر رسیدہ لوگ موجود ہیں۔ اور میں نے رسول اللہﷺ کے پیچھے ایک عورت کی نماز جنازہ پڑھی جو اپنی زچگی کی حالت میں فوت ہو گئی تھی۔ آپؐ نماز جنازہ میں اس کے درمیان کھڑے ہوئے۔ اور ابن مثنی کی روایت میں ہے وہ کہتے ہیں عبداللہ بن بریدہ نے مجھے بتایا۔ وہ کہتے تھے آپؐ نماز جنازہ کے لئے اس کے درمیان کھڑے ہوئے۔
حضرت جابر بن سمرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ کے پاس ایک گھوڑا لایا گیا جس پر(زین وغیرہ) کچھ نہ تھا۔ آپؐ جب ابن دحداحؓ کے جنازے سے واپس لوٹے تو اس پر سوار ہوئے اور ہم آپؐ کے اردگرد چل رہے تھے۔ ٭ یعنی جنازہ پڑھاتے ہوئے چارپائی کے وسط میں آپؐ نے قیام فرمایا۔ حضرت جابر بن سمرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ابن دحداحؓ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ پھر ایک گھوڑا لایا گیا جس پر(زین وغیرہ) کچھ نہ تھا۔ ایک شخص نے اسے روک رکھا آپؐ اس پر سوار ہوئے۔ وہ آپؐ کو لے کر تیز چلنے لگا۔ ہم آپؐ کے پیچھے دوڑتے ہوئے جارہے تھے۔ راوی کہتے ہیں لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا کہ نبیﷺ نے فرمایا ہے کتنے ہی لٹکے ہوئے یا جھکے ہوئے خوشے جنت میں ابن دحداحؓ کے لئے ہیں۔ راوی کہتے ہیں یا شعبہ نے ابو دحداح کہا تھا۔