حضرت اسماءؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہﷺ کے عہد میں سورج گرہن ہوا۔ میں حضرت عائشہؓ کے پاس گئی اور وہ نماز پڑ ھ رہی تھیں میں نے کہا کیا بات ہے جو لوگ نماز پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے سر سے آسمان کی طرف اشارہ کیامیں نے کہا نشان ! انہوں نے کہا ہاں۔ رسول اللہﷺ نے بہت لمبا قیام کیا یہانتک کہ مجھ پر غشی طاری ہوگئی۔ میں نے مشکیزے سے جو میرے پہلو میں تھا اس سے پانی لیا اور اپنے سر پر یا کہا اپنے چہرہ پرڈالنے لگی۔ وہ کہتی ہیں رسول اللہﷺ فارغ ہوئے اور سورج روشن ہوگیاپھررسول اللہﷺ نے لوگوں سے خطاب فرمایا آپؐ نے اللہ کی حمد اور اس کی ثناء کی پھر فرمایا اما بعد کوئی چیز بھی نہیں ہے جسے میں نے نہیں دیکھا تھا مگر اسے میں نے اپنی اسی جگہ پر دیکھ لیا ہے یہانتک کہ جنت اور آگ بھی اور میری طرف وحی کی گئی ہے کہ تم سیاحت کرنے والے دجال کے فتنہ کی مانند یا اس کی طرح آزمائے جاؤ گے۔ (راویہ کہتی ہیں ) کہ میں نہیں جانتی کہ حضرت اسماءؓ نے کونسا لفظ کہا۔ تم میں سے ایک شخص کو لایا جائیگا اور کہا جائے گا اس شخص (محمدﷺ ) کے بارہ میں تمہاراکیا علم ہے؟پس جو ایمان لانے والا یا یقین کرنے والا ہوگا میں نہیں جانتی کہ حضرت اسماءؓ نے کونسا لفظ کہا۔ وہ کہے گا وہ محمدﷺ ہیں اللہ کے رسول ہیں۔ ہمارے پاس کھلے کھلے نشانات اور ہدایت لے کر آئے۔ پس ہم نے قبول کیا اور اطاعت کی۔ تین بار (کہے گا)پس اسے کہا جائے گا سو جاؤ۔ ہم یقینا جانتے تھے کہ تم ضرور اس پر ایمان رکھتے ہو۔ پس آرام سے سو جاؤ اور جو منافق ہے یا شک کرنے والا ہے میں نہیں جانتی کہ حضرت اسماءؓ نے کون سا لفظ کہا وہ کہے گا میں نہیں جانتا، میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے سنا تو میں نے (بھی) کہہ دیا۔ حضرت اسماءؓ سے روایت ہے کہ میں حضرت عائشہؓ کے پاس آئی لوگ(نماز میں ) کھڑے تھے اور وہ نماز پڑھ رہی تھیں۔ میں نے کہا لوگوں کو کیا ہوا ہے؟ عروہ سے روایت ہے انہوں نے ابن نمیر کی طرح روایت بیان کی وہ کہتے ہیں تم یہ نہ کہو کَسَفَتِ الشَّمْسُ (سورج کو کسوف ہوا) لیکن یہ کہو خَسَفَتِ الشَّمْسُ (کہ سورج کو خسوف ہوا)۔
حضرت اسماء بنت حضرت ابوبکرؓ سے روایت ہے کہ ایک دن نبیﷺ فکر مند ہوئے۔ وہ کہتی ہیں ان کی مراد سورج گرہن کے دن سے تھی۔ آپؐ نے قمیض لی (اور مسجد چلے گئے) یہانتک کہ آپؐ کو چادر پہنچائی گئی۔ پھر آپؐ نے لوگوں کو لمبا قیام کروایا۔ اگر کوئی شخص آتا تواُ سے سمجھ نہ آتی کہ نبیﷺ نے رکوع کیا ہے لمبے قیام کی وجہ سے وہ نہ بتا سکتا کہ آپؐ نے رکوع بھی کیا ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپؐ نے لمبا قیام کیا پھر رکوع کیا۔ اور حضرت (اسماءؓ ) نے کہا پس میں دیکھنے لگی ایک عورت کو جو مجھ سے زیادہ عمر رسیدہ تھی اور دوسری عورت کو جو مجھ سے زیادہ بیمار تھی۔
قَالَتْ كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَفَزِعَ فَأَخْطَأَ بِدِرْعٍ حَتَّى أُدْرِكَ بِرِدَائِهِ بَعْدَ ذَلِكَ قَالَتْ فَقَضَيْتُ حَاجَتِي ثُمَّ جِئْتُ وَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَائِمًا فَقُمْتُ مَعَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى رَأَيْتُنِي أُرِيدُ أَنْ أَجْلِسَ ثُمَّ أَلْتَفِتُ إِلَى الْمَرْأَةِ الضَّعِيفَةِ فَأَقُولُ هَذِهِ أَضْعَفُ مِنِّي . فَأَقُومُ فَرَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى لَوْ أَنَّ رَجُلاً جَاءَ خُيِّلَ إِلَيْهِ أَنَّهُ لَمْ يَرْكَعْ .
حضرت اسماء بنت حضرت ابو بکرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ کے عہد میں سورج گرہن ہوا۔ آپؐ فکر مند ہوئے اور جلدی سے (بغیر اوپر کی چادر اوڑھے) قمیض میں چلے گئے۔ پھرآپؐ کو بڑی چادر بھجوا ئی گئی۔ وہ کہتی ہیں میں نے اپنا کام پورا کیا پھر میں آئی اور مسجد میں داخل ہوئی تو میں نے رسول اللہﷺ کو حالت قیام میں دیکھا میں بھی آپؐ کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔ آپؐ نے لمبا قیام کیا یہانتک کہ میں نے بیٹھنے کا ارادہ کیا پھر میں ایک کمزور عورت کی طرف متوجہ ہوئی تو میں نے کہا کہ یہ مجھ سے زیادہ کمزور ہے پس میں بھی کھڑی رہوں گی پھر آپؐ نے رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا۔ پھر آپؐ نے سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا یہانتک کہ اگر کوئی شخص آتا تو اسے خیال ہوتا کہ آپؐ نے رکوع نہیں کیا۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کے زمانہ میں سورج کو گرہن لگا۔ رسول اللہﷺ نے نماز پڑھی اور لوگ آپؐ کے ساتھ تھے۔ آپؐ نے قریباًسورۃ بقرۃ (کی قراء ت) کے برابر لمبا قیام کیاپھر آپؐ نے لمبا رکوع کیا پھر سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا مگر وہ پہلے قیام سے چھوٹا تھا۔ پھر لمبا رکوع کیا وہ پہلے رکوع سے چھوٹا تھا پھر سر اُٹھایا اور لمبا قیام کیا وہ پہلے قیام سے چھوٹا تھا پھر لمبا رکوع کیا وہ پہلے رکوع سے چھوٹا تھا۔ پھر آپؐ نے سجدہ کیا پھر لمبا قیام کیا جو پہلے قیام سے چھوٹا تھاپھر لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے چھوٹا تھا پھر سر اٹھایاپھر لمبا قیام کیا جو پہلے قیام سے چھوٹا تھا پھر لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے چھوٹا تھا پھر آپؐ نے سجدہ کیا اور نماز سے فارغ ہوئے اور سورج روشن ہوچکا تھا پھر فرمایاسورج اور چاند اللہ کے نشانات میں سے دو نشان ہیں یہ کسی کی موت پر نہ زندگی پر گہناتے ہیں۔ جب تم یہ دیکھو تو اللہ کو یاد کرو۔ انہوں نے عرض کیا یارسولؐ اللہ! ہم نے آپؐ کو اپنی اس جگہ پر کسی چیز کو پکڑتے ہوئے دیکھا ہے پھر ہم نے دیکھا کہ آپ رک گئے ہیں۔ فرمایا کہ میں نے جنت دیکھی تو اس میں سے ایک خوشہ لینے لگا۔ اگر میں وہ لے لیتا تو تم ضرور رہتی دنیا تک اس میں سے کھاتے۔ اور میں نے آگ دیکھی اور آج کے دن کی طرح کا منظر کبھی نہیں دیکھا۔ اور میں نے اس میں بہت عورتیں دیکھیں۔ انہوں نے عرض کیا کیوں یا رسولؐ اللہ !فرمایا ان کے ’’کفر‘‘ کی وجہ سے عرض کیاگیاکیاوہ اللہ کاانکار کرتی ہیں فرمایا خاوند کی ناشکری اور احسان کی ناقدری کی وجہ سے، اگر تم عمر بھر بھی ان میں سے کسی ایک سے بھلائی کرو پھر وہ کوئی ناپسندیدہ بات دیکھے تو کہتی ہے میں نے تجھ سے کبھی خیر نہیں دیکھی۔ ایک اور روایت میں (کَفَفْتَ) کے بجائے تَکَعْکَعْتَکے الفاظ ہیں۔
عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ صَلَّى فِي كُسُوفٍ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ سَجَدَ . قَالَ وَالأُخْرَى مِثْلُهَا .
حضرت ابن عباسؓ نبیﷺ کے بارہ میں روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے کسوف کی نماز پڑھائی۔ آپؐ نے قر اءت کی پھر رکوع کیا پھر قر اءت کی پھر رکوع کیا پھر قر اءت کی پھر رکوع کیا پھر قر اءت کی پھر رکوع کیا پھر آپؐ نے سجدہ کیا اور راوی کہتے ہیں اور دوسری (رکعت بھی) اس جیسی تھی۔
فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَكْعَتَيْنِ فِي سَجْدَةٍ ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي سَجْدَةٍ ثُمَّ جُلِّيَ عَنِ الشَّمْسِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ مَا رَكَعْتُ رُكُوعًا قَطُّ وَلاَ سَجَدْتُ سُجُودًا قَطُّ كَانَ أَطْوَلَ مِنْهُ .
حضرت عبد اللہؓ بن عمرو بن العاص کہتے ہیں کہ جب رسول اللہﷺ کے زمانہ میں سورج گرہن ہواتو اعلان کیا گیا کہ نماز باجماعت ہونے والی ہے آپؐ نے ایک رکعت میں دو رکوع کئے پھر آپؐ کھڑے ہوئے اور دوسری رکعت میں دو رکوع کئے پھر سورج سے اندھیرا دور ہوگیا۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ میں نے کبھی ایسا رکوع نہیں کیا نہ کبھی ایسا سجدہ کیاجو اس سے زیادہ لمبا ہو۔
حضرت ابو مسعود انصاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا یقینا سورج اور چاند اللہ کے نشانوں میں سے دو نشان ہیں جن کے ذریعہ اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے اور یہ کسی شخص کی موت کی وجہ سے نہیں گہناتے۔ پس جب تم اس میں سے کوئی چیز دیکھو تو نماز پڑھو اور اللہ سے دعا کرو یہانتک کہ تم سے وہ حالت دور کردی جائے۔
حضرت ابو مسعودؓ سے روایت ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا یقینا سورج اور چاند انسانوں میں سے کسی کی موت کے لئے نہیں گہناتے بلکہ وہ اللہ کے نشانات میں سے دو نشان ہیں۔ پس جب تم اس کو دیکھو تو اٹھو اور نماز پڑھو۔ سفیان اور وکیع کی روایت میں ہے جب ابراہیمؓ فوت ہوئے تو سورج گرہن ہوا لوگوں نے کہا کہ یہ ابراہیمؓ کی موت کی وجہ سے گہنایا ہے۔
حضرت ابو موسیٰ ؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ کے عہد میں سورج گرہن ہوا توآپؐ فکر مندہوکر کھڑے ہوگئے مبادا کہیں یہ ’’وہ گھڑی‘‘ ہو آپؐ مسجد تشریف لائے اور نماز پڑھانے کے لئے کھڑے ہوئے جس کا قیام، رکوع اور سجدہ بہت زیادہ لمبا تھا کہ میں نے کبھی آپؐ کو نماز میں ایسا کرتے نہیں دیکھا۔ پھر آپؐ نے فرمایا یہ نشانات جنہیں اللہ بھیجتا ہے کسی کی زندگی اور موت کی وجہ سے نہیں ہوتے بلکہ اللہ انہیں بھیجتا ہے (اور)ان کے ذریعہ اپنے بندوں کوڈراتا ہے۔ پس جب تم ان(نشانات) میں سے کچھ دیکھو تو اس کے ذکر دعا اور استغفار میں ڈرتے ڈرتے لگ جاؤ۔