بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 131 hadith
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ سونے کو سونے کے بدلہ اور چاندی کو چاندی کے بدلہ فروخت نہ کرو سوائے اس کے کہ ان کا وزن ایک جیسا ہو اور وہ ایک طرح کے ہوں اور برابر ہوں۔
حضرت عثمان بن عفانؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ایک دینا ر کو دو دینار کے بدلے اور ایک درہم کو دو درہم کے بدلے فروخت نہ کرو۔
مالک بن اوس بن الحدثان روایت کرتے ہیں کہ میں کہتا ہوا آیاکہ کون دراہم کی بیع صرف کرتا ہے؟ طلحہ بن عبید اللہ جو حضرت عمر بن خطابؓ کے پاس تھے کہنے لگے کہ ہمیں اپنا سونا دکھاؤ۔ پھر ہمارے پاس آنا جب ہمارا خادم آجائے تو ہم تمہاری چاندی تمہیں دیں گے۔ حضرت عمر بن خطابؓ نے کہا کہ ہرگز نہیں بخدا یا تم اس کی چاندی (ابھی) دو گے یا اس کا سو نا اسے واپس کرو گے کیونکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ چاندی سونے کے بدلہ سود ہے سوائے اس کے کہ دست بدست ہو اور گندم گندم کے بدلے سود ہے سوائے اس کے کہ دست بدست ہو اور جَو جَوکے بدلے سود ہے سوائے اس کے کہ دست بدست ہو اور کھجورکھجور کے بدلے سود ہے سوائے اس کے کہ دست بدست ہو۔
ابو قلابہ سے روایت ہے کہ میں شام میں ایک مجلس میں تھا جس میں مسلم بن یسار بھی تھے تو ابو الاشعث آگئے۔ وہ کہتے ہیں کہ (لوگ) کہنے لگے ابوالاشعث، ابوالاشعث۔ وہ بیٹھ گئے تومیں نے ان سے کہا اسے ہمارے بھائی حضرت عبادہؓ بن صامت کی روایت سناؤ۔ انہوں نے کہا اچھا ہم ایک غزوہ میں تھے لوگوں پر امیر معاویہؓ حکمران تھے ہمیں بہت سی غنیمتیں حاصل ہوئیں۔ جو غنیمتیں ہم نے پائیں اُن میں چاندی کے برتن بھی تھے۔ امیر معاویہؓ نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ انہیں لوگوں کے عطیوں کے بدلے بیچ دو۔ لوگ اس بارہ میں ایک دوسرے سے جلدی کرنے لگے پس جب یہ بات حضرت عبادہؓ بن صامت تک پہنچی تو وہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو سونے کی سونے سے چاندی کی چاندی سے اور گندم کی گندم سے اور جَو کی جَو سے اور کھجور کی کھجور سے اور اور نمک کی نمک سے تجارت کو منع فرماتے ہوئے سناہے۔ سوائے اس کے کہ بالکل برابر اور بالکل ویسی ہی ہو۔ پس جس نے زیادہ دیا یا زیادہ طلب کیا تو اس نے سود لیا۔ پس لوگوں نے جو لیا تھا واپس کر دیا۔ پس جب یہ بات امیر معاویہؓ کو پہنچی تو وہ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور کہا خبردار لوگوں کو کیا ہوگیا ہے جو رسول اللہﷺ سے احادیث روایت کرنے لگے ہیں حالانکہ ہم آپؐ کو دیکھتے تھے اور آپؐ کی صحبت سے فیض یاب ہوتے تھے۔ لیکن ہم نے آپؐ سے یہ باتیں نہیں سنیں۔ تب حضرت عبادہ بن صامتؓ کھڑے ہوئے اور ساری بات دوبارہ بیان کی پھر کہا کہ ہم وہ باتیں ضرور بیان کریں گے جو ہم نے رسول اللہﷺ سے سنیں خواہ معاویہؓ کو برا ہی کیوں نہ لگے یا کہا کہ خواہ انہیں ناپسند ہی ہو۔ مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ اندھیری رات میں مَیں اُن کے لشکر میں ان کے ساتھ نہ رہوں۔
حضرت عبادہ بن صامتؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ سونا سونے کے عوض اور چاندی چاندی کے عوض، گندم گندم کے عوض، جَوجَوکے عوض، کھجو رکھجور کے عوض، نمک نمک کے عوض ایک جیسا اور برابر برابر دست بدست ہونا چاہئے۔ اگر یہ اجناس مختلف ہوجائیں تو جیسے تم چاہو فروخت کرو جبکہ سودا دست بدست ہو۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ سونا سونے کے عوض اور چاندی چاندی کے عوض، گندم گندم کے عوض، جو جو کے عوض، کھجور کھجور کے عوض، نمک نمک کے عوض ایک جیسا دست بدست ہونا چاہئے۔ جس نے زیادہ دیا یا زیادہ طلب کیا اس نے سود لیا۔ لینے اور دینے والا اس میں برابر ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ کھجور کے بدلے کھجور اور گندم کے بدلے گندم اور جَو کے بدلے جَو اور نمک کے بدلے نمک، برابر اور دست بدست ہو۔ جس نے زیادہ دیا یا زیادہ طلب کیا اس نے سود لیا سوائے اس کے کہ اس کی اجناس مختلف ہوں ایک اور روایت میں یَدً بِیَدٍکے الفاظ نہیں ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ دینار کے عوض دینارہو ان دونوں میں کوئی زیادہ نہیں ہونا چاہئے اور درہم کے بدلہ درہم ہو ان دونوں میں کوئی زیادہ نہیں ہونا چاہئے۔
ابوالمنہال کہتے ہیں کہ میرے ایک ساتھی نے حج کے زمانہ تک چاندی ادھار پر بیچی۔ وہ میرے پاس آئے اور مجھے بتایا میں نے کہا یہ بات ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اسے بازار میں بیچا ہے تو کسی نے مجھے غلط قرار نہیں دیا۔ (ابوالمنہال) کہتے ہیں میں حضرت براء بن عازبؓ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا وہ کہنے لگے نبیﷺ مدینہ تشریف لائے اور ہم یہ تجارت کرتے تھے۔ حضورؐ نے فرمایا ’’جو دست بدست ہو اس میں حرج نہیں اور جو اُدھار ہو وہ سود ہے‘‘ پھرحضرت براءؓ نے کہا کہ آپ حضرت زید بن ارقم ؓ کے پاس جائیں ان کی تجارت مجھ سے بڑی ہے۔ میں ان کے پاس گیا اور ان سے پوچھا انہوں نے بھی اسی طرح کہا۔