بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 131 hadith
ابوالمنہال کہتے ہیں میں نے حضرت براء بن عازبؓ سے سونے چاندی کی(باہم) تجارت کے بارہ میں پوچھاتو انہوں نے کہا حضرت زید بن ارقمؓ سے پوچھو، انہیں زیادہ علم ہے اور میں نے حضرت زیدؓ سے پوچھا تو انہوں نے کہا براءؓ سے پوچھو کیونکہ وہ زیادہ علم رکھتے ہیں اور دونوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے چاندی کی سونے سے اُدھار تجارت سے منع فرمایا ہے۔
بُسر بن سعید سے روایت ہے کہ معمر بن عبداللہ نے اپنا غلام ایک صاع گندم دے کر بھجوایا اور کہا اس کو بیچو اور (اس قیمت سے) جَو خرید و۔ وہ غلام گیا اور اس کے عوض ایک صاع جَو اور کچھ زائد جَو لئے اور جب وہ حضرت معمرؓ کے پاس آیا تو ان کو یہ بات بتائی۔ حضرت معمرؓ نے کہا کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟ جاؤ اور اسے واپس لوٹادو اور سوائے ایک جیسے کے کچھ نہ لوکیونکہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے۔ آپؐ فرماتے تھے کہ غلہ کے عوض غلہ برابر ہونا چاہئے اور اس زمانہ میں ہمارا غلہ جو ہی تھا۔ انہیں کہا گیا کہ جو گندم کی مثل تو نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ مشابہ ہو۔
عبدالرحمان بن ابی بکرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے چاندی کے بدلے چاندی اور سونے کے بدلے سونے کی تجارت سے منع فرمایا ہے سوائے اس کے کہ وہ برابر برابر ہو اور ہمیں ارشاد فرمایا کہ ہم چاندی کو سونے کے بدلہ جیسے چاہیں خریدیں اور سونے کو چاندی کے عوض جیسا چاہیں خریدیں۔ راوی کہتے ہیں کہ ان سے ایک شخص نے سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ دست بدست ہو۔ انہوں (ابی بکرہؓ )نے کہا کہ میں نے اسی طرح سنا تھا۔ ایک اور روایت میں (نَھٰی کی بجائے) نَھَانَا کے الفاظ ہیں۔
حضرت فضالہ بن عبید انصاریؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے پاس جبکہ آپؐ خیبر میں تھے ایک ہار لایا گیا جس میں منکے اور سونا تھا اور وہ مالِ غنیمت میں سے تھا جوفروخت ہورہا تھا۔ رسول اللہﷺ نے ہار میں جو سونا تھااس کے بارہ میں ارشاد فرمایا وہ الگ نکال لیا گیا پھررسول اللہﷺ نے فرمایاسونا سونے کے عوض ہموزن ہو۔
حضرت فضالہ بن عبیدؓ کہتے ہیں کہ میں نے غزوہ خیبر کے موقعہ پر بارہ دینار میں ایک ہار خریدا جس میں سونا اور منکے تھے میں نے اسے الگ الگ کیا تو اس میں بارہ دینار سے زیادہ (سونا) پایا۔ میں نے نبیﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپؐ نے فرمایا (ہار) نہ بیچا جائے جب تک کہ الگ الگ نہ کر لیا جائے۔
حضرت فضالہ بن عبیدؓ کہتے ہیں کہ ہم خیبر کے دن رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے ہم یہود کے ساتھ سونے کے ایک اوقیہ کا تبادلہ دو یا تین دیناروں کے ساتھ کر لیتے تھے اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا سونے کے عوض سونا نہ بیچو سوائے اس کے کہ ہم وزن ہو۔
حنَش کہتے ہیں کہ ہم حضرت فضالہ بن عبیدؓ کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے۔ میرے اور میرے ساتھیوں کے حصہ میں ایک ہار آیا۔ جس میں سونا چاندی اور جواہرات تھے۔ میں نے اسے خریدنا چاہا میں نے حضرت فضالہ بن عبیدؓ سے پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کا سونا الگ کر لو اور ایک پلڑے میں رکھو اور اپنا سونا دوسرے پلڑے میں رکھو اور ایک جیسے کے سواہر گز نہ لو کیونکہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان لا تا ہے وہ سوائے ایک جیسے (سونے کے) کچھ نہ لے۔
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہؓ اور حضرت ابو سعیدؓ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہﷺ نے قبیلہ بنی عدی کے ایک شخص کو جو انصاری تھے خیبر کا عامل مقرر کرکے بھیجا۔ وہ اعلیٰ قسم کی کھجور لے کر آئے۔ رسول اللہﷺ نے اس سے پوچھا کہ کیا خیبر کی ساری کھجور ایسی ہی ہے؟ اس نے کہا نہیں خدا کی قسم یا رسولؐ اللہ! ہم دو صاع عام کھجور دے کر اس کا ایک صاع خریدتے ہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا ایسا نہ کرو بلکہ ایک جیسی (برابر) چاہئے یا اس کو فروخت کرو اور اس کی قیمت سے اس میں سے کچھ خریدو اور اسی طرح وزن میں ہونا چاہئے۔
حضرت ابو سعید خدریؓ اور حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک شخص کو خیبر کا عامل مقرر فرمایا وہ ایک اعلیٰ قسم کی کھجور لے کر آیا۔ رسول اللہﷺ نے اسے فر مایا کیا خیبر کی ساری کھجور ایسی ہی ہے؟ اس نے کہا نہیں خدا کی قسم یا رسولؐ اللہ !ہم توا س کا ایک صاع دو صاع کے بدلے اور دوصاع تین صاع کے عوض لیتے ہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا ایسا نہ کرو۔ معمولی کھجور فروخت کرکے دراہم لو پھر دراہمسے اعلیٰ کھجور خریدو۔
حضرت ابو سعیدؓ کہتے ہیں کہ حضرت بلالؓ برنی کھجور لے کر آئے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ یہ کہاں سے لائے ہو؟ بلالؓ نے کہا کہ ہمارے پاس کچھ معمولی کھجور تھی۔ مَیں اس کے دو صاع دے کر نبیﷺ کے کھانے کے لئے ایک صاع خرید لایا ہوں۔ رسول اللہﷺ نے اس پر فرمایا اوہ ! یہ تو عین سود ہے۔ ایسا نہ کرو، ہاں جب کھجور خریدنے کا ارادہ کرو تو اس کو الگ بیچوپھراس(حاصل کردہ رقم)سے (دوسری) خریدو۔