بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 17 hadith
حضرت اسامہؓ بن زید سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا مسلمان کافرکا وارث نہیں ہوگا اور کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوگا۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایاشرعی حصے ان کے حقداروں کے سپرد کرو پھر جو باقی بچ جائے وہ قریب ترین مرد کے لئے ہے۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ
حضرت براءؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ قرآن کی آخری آیت جو اُتاری گئی وہ یہ تھی یَسْتَفْتُونَکَ قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیْکُمْ فِی الْکَلَالۃِ ٭ وہ تجھ سے فتوٰی مانگتے ہیں کہہ دے کہ اللہ تمہیں کلالہ کے بارہ میں فتوٰی دیتا ہے۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا مال شرعی حصے والوں کے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق تقسیم کرو پھر شرعی حصص سے جو بچ جائے وہ قریب ترین مرد کے لئے ہے۔
حضرت جابر بن عبداللہؓ کہتے ہیں میں بیمار ہوا تو رسول اللہﷺ اور حضرت ابو بکرؓ میری عیادت کے لئے پیدل چل کر تشریف لائے مجھ پر بے ہوشی طاری تھی۔ حضورؐ نے وضوء کیا اور وضوء کے پانی میں سے کچھ مجھ پر چھڑکا تو مجھے ہوش آئی۔ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میں اپنے مال کا کیسے فیصلہ کروں؟ آپؐ نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا یہانتک کہ آیت میراث اُتری یَسْتَفْتُونَکَ قُلِ اللّٰہِ یُفْتیکُمْ فِی الْکَلَالَۃِ ٭وہ تجھ سے فتوٰی مانگتے ہیں کہہ دے کہ اللہ تمہیں کلالہ کے بارہ میں فتوٰی دیتا ہے۔
حضرت جابر بن عبد اللہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ اور حضرت ابو بکرؓ بنی سلمہ میں پیدل میری عیادت کے لئے تشریف لائے۔ آپؐ نے مجھے اس حال میں پایا کہ مجھے کوئی ہوش نہ تھا۔ آپؐ نے پانی منگوا کر وضوء کیا پھر اس میں سے مجھ پر پانی چھڑکا تو مجھے افاقہ محسوس ہوا۔ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میں اپنے مال کے بارہ میں کیا کروں؟ تب یہ آیت اُتری یُوصِیْکُمُ اللّٰہُ فی اَوْلَادِکُمْ٭اللہ تمہیں اپنی اولاد کے بارہ میں تاکیدی حکم دیتا ہے۔ مرد کے لئے دو عورتوں کے حصہ کے برابر ہے۔
حضرت جابر بن عبد اللہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے میری عیادت فرمائی میں بیمار تھا آپؐ کے ساتھ حضرت ابو بکرؓ تھے۔ دونوں پیدل چل کر آئے تھے۔ آپؐ نے مجھے اس حال میں پایا کہ مجھ پر بے ہوشی طاری تھی۔ رسول اللہﷺ نے وضوء کیااور اپنے وضوء کے پانی سے مجھ پر اُنڈیلا۔ مجھے ہوش آئی تو کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہﷺ تشریف فرما ہیں۔ میں نے عرض کیا یارسولؐ اللہ! میں اپنے مال کے بارہ میں کیا کروں؟ آپؐ نے مجھے کوئی جواب نہ دیا یہانتک کہ آیتِ میراث اُتری۔
شعبہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے محمد بن منکدر نے بتایا کہ میں نے حضرت جابرؓ بن عبداللہ کو کہتے ہوئے سنا کہ میرے پاس رسول اللہﷺ تشریف لائے۔ میں بیمار تھا مجھے ہوش نہ تھی۔ آپؐ نے وضوء کیا لوگوں نے آپؐ کے وضوء کے پانی سے کچھ مجھ پر چھڑکا تو مجھے ہوش آئی۔ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میرے وارث کلالہ ہوں گے۔ پھر آیت میراث اُتری۔ وہ (شعبہ) کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن منکدر سے آیت یَسْتَفْتُونَکَ قُلِ اللَّہُ یُفْتیکُمْ فِی الْکَلَالَۃَ (وہ تجھ سے فتوٰی مانگتے ہیں کہہ دے کہ اللہ تمہیں کلالہ کے بارہ میں فتوٰی دیتا ہے۔) کے بارہ میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہاں یہ آیت اسی طرح اُتری تھی۔ وھب بن جریر کی روایت میں (آیَۃُ الْمِیْرَاث کی جگہ) آیَۃُ الْفَرَائِضِ کے الفاظ ہیں جبکہ نضر اور عقدی کی روایت میں آیَۃُ الْفَرْضِ کے لفظ ہیں۔
معدان بن ابی طلحہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ نے جمعہ کے روز خطبہ ارشاد فرمایا اور اللہ کے نبیﷺ کا ذکر کیا اور حضرت ابو بکرؓ کا ذکر کیا پھر کہا کہ میں اپنے بعد کوئی چیز نہیں چھوڑوں گا جو میرے نزدیک کلالہ سے زیادہ قابل فکر ہو۔ میں نے رسول اللہﷺ سے کسی چیز کے بارہ میں اس قدر بات نہیں کی جتنی کلالہ کے بارہ میں کی اور آپؐ نے کسی معاملہ میں مجھ سے اتنی سختی نہیں فرمائی جتنی اس بارہ میں فرمائی حتّٰی کہ اپنی اُنگلی میرے سینہ میں چبھوئی اور فرمایا اے عمر! کیا تمہارے لئے موسم گرما (میں اُترنے) والی آیت جو سورۃ نساء کے آخر پر ہے کافی نہیں۔ اور (حضرت عمرؓ نے کہا)میں اگر زندہ رہا تو اس بارہ میں ایسا فیصلہ کروں گا کہ قرآن پڑھنے والا اور نہ پڑھنے والا اس کے مطابق فیصلہ کریں گے۔