بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 209 hadith
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا روزہ ڈھال ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جس نے روزے کی حالت میں بھول کرکچھ کھالیا یا پی لیا تو اسے چاہئے کہ وہ اپنا روزہ پورا کرے۔ اسے تواللہ نے کھلایااور پلایا ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ بزرگ و برتر فرماتا ہے کہ ابن آدم کا ہر عمل اس کے اپنے لئے ہے سوائے روزے کے وہ میرے لئے ہے اور میں خود اس کی جزا دوں گا۔ روزہ ڈھال ہے جس دن تم میں سے کسی کا روزہ ہو تووہ جسمانی خواہشات کی باتیں نہ کرے اور نہ شور شرابا کرے اور اگر کوئی شخص اس سے گالی گلوچ کرے یا اس سے لڑے تو وہ کہے میں روزے دار ہوں۔ اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے روزے دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک قیامت کے دن مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہوگی۔ روزے دار کے لئے دو خوشیاں ہیں جن سے وہ خوش ہوتا ہے۔ جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو اپنا روزہ کھولنے پر خوش ہوتاہے۔ اور جب وہ اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزہ کی وجہ سے خوش ہو گا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایاابن آدم کے ہرعمل کو بڑھایا جاتاہے ایک نیکی کا اجر دس گنا سے سات سو گنا تک ہے۔ اللہ بزرگ و برتر فرماتا ہے سوائے روزے کے کہ وہ میرے لئے ہے اور میں خود اس کی جزا دوں گا۔ وہ اپنی خواہش اور اپنا کھانا میرے لئے چھوڑتا ہے روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں: ایک خوشی اسے اپنے افطار پر اور ایک خوشی اسے اپنے رب سے ملنے پر ہوگی اور اس کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ عمدہ ہے۔
حضرت ابو ہریرہ اور حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہماسے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے روزہ میرے لئے ہے اور میں خود اس کی جزا دوں گا روزے دار کے لئے دو خوشیاں ہیں: جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتاہے اور جب اللہ سے ملے گا توخوش ہوگا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے روزے دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔ ایک اور روایت میں (اِذَا لَقِیَ اللّٰہَ فَرِحَ کی بجائے) اِذَا لَقِیَ اللّٰہَ فَجَزَاہُ فَرِحَ کے الفاظ ہیں۔
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریّان کہتے ہیں جس سے روزے دار قیامت کے دن داخل ہوں گے ان کے ساتھ ان کے سوا کوئی داخل نہ ہو گا۔ کہا جائے گا روزے دار کہاں ہیں؟پس وہ اس میں سے داخل ہوں گے جب ان کا آخری آدمی داخل ہو جائے گا تو وہ بند کر دیا جائے گا۔ پھر اس میں سے کوئی داخل نہ ہو گا۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا کوئی بندہ کسی دن اللہ کی راہ میں روزہ نہیں رکھتا مگر اللہ تعالیٰ اس دن کی وجہ سے اس کے چہرے سے آگ کو ستر سال دور کر دیتا ہے۔
حضرت ابو سعید خدر ی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا جس نے ایک دن اللہ کی راہ میں روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو آگ سے ستر سال کی دوری پر رکھے گا۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں رسول اللہﷺ نے ایک دن مجھے فرمایا اے عائشہؓ کیا تمہارے پاس کچھ (کھانے کو) ہے؟ وہ کہتی ہیں میں نے کہا یا رسولؐ اللہ! ہمارے پاس کچھ نہیں۔ آپؐ نے فرمایا تو پھر میرا روزہ ہے۔ وہ کہتی ہیں رسول اللہﷺ باہر تشریف لے گئے ہمیں کوئی تحفہ بھجوایا گیا_ یا ہمارے ہاں کوئی ملنے والاآیا_ وہ کہتی ہیں پھر رسول اللہﷺ جب و اپس تشریف لائے میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ ! ہمیں تحفہ بھجوایا گیا ہے_یا (کہا)ہمارے ہاں کوئی ملنے والاآیاتھا_ اور میں نے آپؐ کے لئے کچھ الگ رکھ لیا۔ آپؐ نے پوچھا وہ کیا ہے؟میں نے کہا حیس٭ہے۔ فرمایا وہ لے آؤ۔ میں آپؐ کے پاس لے گئی آپؐ نے کھا کر فرمایامیں نے روزہ رکھ لیا تھا۔ طلحہ کہتے ہیں میں نے مجاہد کو یہ روایت سنائی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس شخص کی طرح ہے جو اپنے مال سے صدقہ نکالتاہے پھر اگر وہ چاہے تو آگے اسے جاری کرے اور اگر چاہے تو اسے روک رکھے۔
ام المؤمنین حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ نبیﷺ ایک روز میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟ ہم نے عرض کیا نہیں آپؐ نے فرمایا پھر میں روزے سے ہوں۔ پھر ایک اور دن آپؐ ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا کہ ہمارے پاس حیس کا تحفہ بھیجا گیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا مجھے وہ دکھاؤ تو سہی (اور فرمایا) صبح تو میں روزے سے تھا۔ پھر آپؐ نے اسے تناول فرمایا۔