بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 8 of 18 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس کے عمل اس سے منقطع ہو جاتے ہیں سوائے تین چیزوں کے۔ صدقہ جاریہ کے یا ایسے علم کے جس سے فائدہ اٹھایا جائے یا نیک اولاد کے جو اس کے لئے دعا کرے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کو خیبر میں ایک زمین ملی۔ وہ نبیﷺ کے پاس اس کے متعلق مشورہ کرنے آئے اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! مجھے خیبر میں کچھ زمین ملی ہے اور کبھی بھی مجھے کوئی ایسا مال نہیں ملا جو میرے خیال میں اس سے بہتر ہو۔ آپؐ مجھے اس کے متعلق کیا ارشاد فرماتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا اگر چاہو تو اصل زمین اپنے پاس رکھو اور اس (کی آمدنی) سے صدقہ کرو۔ وہ کہتے ہیں چنانچہ حضرت عمرؓ نے اسے صدقہ کیا کہ اصل زمین فروخت نہ کی جائے گی اور نہ خریدی جائے گی نہ ورثہ میں جائے گی نہ ہبہ کی جائے گی۔ وہ (حضرت ابن عمرؓ ) کہتے ہیں حضرت عمرؓ نے اسے فقراء، رشتہ داروں، غلاموں کی آزادی اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں اور مہمانوں کے لئے صدقہ کردیا۔ جو شخص اس کا نگران ہو اس پر گناہ نہیں کہ دستور کے مطابق اس میں سے کھائے یا دوست کو کھلائے جبکہ وہ اس سے مال بنانے والا نہ ہو۔ ایک اور روایت میں (غَیْرَ مُتَمَوِّلٍ کی بجائے) غَیْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًاکے الفاظ ہیں۔ ایک اور روایت حضرت عمرؓ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خیبر کی زمین سے ایک زمین ملی تو میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیامجھے ایسی زمین ملی ہے کہ اس سے زیادہ پسندیدہ اور نفیس مال میرے نزدیک مجھے کبھی نہیں ملا۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے۔
طلحہ بن مصرّف سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن ابیؓ اوفٰی سے پوچھا کہ کیا رسول اللہﷺ نے وصیت کی تھی؟ انہوں نے کہا نہیں، میں نے کہا پھر مسلمانوں پر کیوں وصیت فرض کی گئی یا انہیں کیوں وصیت کرنے کا حکم دیا گیا؟ انہوں نے کہا آپﷺ نے اللہ عزوجل کی کتاب (پر عمل کرنے) کی وصیت فرمائی۔ ایک روایت میں (فَلِمَ کُتِبَ عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ الْوَصِیَّۃُ کی بجائے) فَکَیْفَ اُمِرَ النَّاسُ بِالْوَصِیَّۃِ کے الفاظ ہیں۔ اور ایک اور روایت میں کَیْفَ کُتِبَ عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ الْوَصِیَّۃُ کے الفاظ ہیں۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے آپؓ فرماتی ہیں رسول اللہﷺ نے کوئی دینار یا درہم نہیں چھوڑا اور نہ ہی کوئی بکری اور نہ اونٹ۔ اور نہ ہی کسی چیز کی وصیت فرمائی۔
اسود بن یزید سے روایت ہے کہ حضرت عائشہؓ کے پاس(لوگوں نے) ذکر کیاکہ حضرت علیؓ وصی تھے۔ حضرت عائشہؓ نے کہا آنحضورؐ نے کب ان کے حق میں وصیت کی تھی؟ میں آپؐ کو اپنے سینے کا سہارا دے کر بیٹھی تھی یا کہااپنی گود کا۔ آپؐ نے طشت منگوایااور پھر آپؐ میری گود میں ضعف کی وجہ سے جھک گئے اور مجھے پتہ ہی نہیں لگا کہ آپؐ فوت ہو گئے ہیں۔ پھر کب آپؐ نے ان کے حق میں وصیت کی۔
سعید بن جبیر کہتے ہیں حضرت ابن عباسؓ نے کہاجمعرات کا دن! کیا ہے جمعرات کا دن!پھر وہ رو پڑے یہاں تک کہ آپؓ کے آنسوؤں نے کنکریاں گیلی کردیں۔ میں نے کہا اے ابن عباسؓ ! جمعرات کا دن کیا تھا؟ وہ کہنے لگے (اس روز) رسول اللہﷺ کی تکلیف شدت اختیار کر گئی تو آپؐ نے فرمایا میرے پاس آؤ۔ میں تمہیں ایک تحریر لکھ دوں تاکہ تم میرے بعد گمراہ نہ ہو۔ اس پر (لوگوں ) نے باہم اختلاف کیا حالانکہ نبی کے پاس تنازع مناسب نہیں اور وہ کہنے لگے کیا بات ہے کیا آنحضرتﷺ بیماری کی شدت میں کچھ فرما رہے ہیں؟آپؐ سے اچھی طرح سمجھ لو۔ آپؐ نے فرمایا مجھے میرے حال پر چھوڑ دوکہ میں جس حال میں ہوں بہتر ہوں۔ میں تمہیں تین باتوں کی نصیحت کرتا ہوں مشرکوں کو جزیرۂ عرب سے نکال دینا اور وفود کو وہی انعام و اکرام کرنا جیسے میں انہیں انعام واکرام سے نوازتا تھا۔ راوی کہتے ہیں تیسری بات انہوں (ابن عباسؓ ) نے بیان نہ کی یا انہوں نے بیان تو کی مگر مجھے بھلا دی گئی۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا جمعرات کا دن !اورکیا ہے جمعرات کا دن! ! پھر ان کے آنسو بہنے لگے یہانتک کہ میں نے ان کے رخساروں پر دیکھا گویا وہ موتیوں کی ایک لڑی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میرے پاس کتف٭ اور دوات لاؤ یا تختی اور دوات لاؤ، میں تمہیں ایک تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو۔ اس پر وہ کہنے لگے رسول اللہﷺ شدت بیماری میں بات کر رہے ہیں۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے رسول اللہﷺ کی وفات کا وقت قریب آیا اور گھر میں کچھ مرد تھے جن میں حضرت عمر بن خطابؓ بھی تھے۔ نبیﷺ نے فرمایا آؤ، میں تمہیں ایک تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم گمراہ نہیں ہوگے۔ اس پر حضرت عمرؓ نے کہا رسول اللہﷺ سخت بیمار ہیں اور تمہارے پاس قرآن ہے۔ ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے۔ گھر میں موجود لوگوں نے اختلاف کیا اور تکرار کی۔ ان میں سے بعض کہتے تھے (کاغذ قلم)قریب لے آؤکہ رسول اللہﷺ تمہیں ایسی تحریر لکھ دیں جس کے بعد تم گمراہ نہیں ہوگے اور ان میں سے بعض وہ بات کہہ رہے تھے جو حضرت عمرؓ نے کہی۔ پھر جب انہوں نے رسول اللہﷺ کے پاس بہت باتیں کیں اور اختلاف کیا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا چلے جاؤ۔ عبیداللہ کہتے ہیں حضرت ابن عباس ؓ کہا کرتے تھے یقینا مصیبت، سب سے بڑی مصیبت وہ ہوئی جو رسول اللہﷺ اور آپؐ کے تحریر لکھنے میں ان لوگوں کے اختلاف اور شور کی وجہ سے حائل ہوئی۔