بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 12 hadith
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت سعد بنؓ عبادہ نے رسول اللہﷺ سے ایک نذر کے بارہ میں پوچھا جو ان کی ماں کے ذمہ تھی وہ اسے پورا کرنے سے پہلے وفات پاگئی تھیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا یہ(نذر) ان کی طرف سے پوری کرو۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا نذر نہ تو کسی چیز کو پہلے لاتی ہے نہ اسے پیچھے ڈالتی ہے۔ اس کے ذریعہ توصرف بخیل سے کچھ نکلوایا جاتا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا نذر نہ مانا کرو کیونکہ نذر تقدیر کے مقابلہ پر کچھ کام نہیں آسکتی۔ اس کے ذریعہ تو صرف بخیل سے کچھ نکلوایا جاتا ہے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے نذر سے منع کیا اور فرمایا کہ یہ کوئی بھلائی نہیں لاتی۔ اس کے ذریعہ توصرف بخیل سے کچھ نکلوایا جاتا ہے۔
ضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے نذر سے منع کیا اور فرمایا کہ وہ تقدیر سے کچھ بھی نہیں ٹلاتی۔ اس کے ذریعہ تو صرف بخیل سے کچھ نکلوایا جاتا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا نذر ابن آدم سے کسی چیز کو قریب نہیں کرتی جو اللہ نے اس کے لئے مقدّر نہیں کی ہاں نذر تقدیر سے موافق ہوجاتی ہے۔ اس کے ذریعہ تو بخیل سے کچھ نکلوایا جاتا ہے جو بخیل نکالنا نہیں چاہتا تھا۔
حضرت عمران بن حصینؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ (قبیلہ) ثقیف بنو عُقیل کے حلیف تھے(قبیلہ) ثقیف نے اصحاب رسولﷺ میں سے دو آدمی قید کر لئے اور رسول اللہﷺ کے اصحاب نے بنوعُقیل کا ایک آدمی پکڑا اور اس کے ساتھ عضباء (اونٹنی) بھی۔ رسول اللہﷺ اس کے پاس آئے تو وہ شخص بندھا ہوا تھا۔ اس نے پکارا اے محمدؐ ! آپؐ اس کے پاس تشریف لائے اور پوچھا کیا بات ہے؟ اس نے کہا آپؐ نے مجھے کیوں پکڑا ہے؟ اور اس(اونٹنی) کو جو تمام حج کرنے والوں (کی سواریوں )سے سبقت لے جانے والی تھی کیوں پکڑ رکھا ہے؟ آپؐ نے اس بات کو اہمیت دیتے ہوئے فرمایا میں نے تمہیں تمہارے حلیف ثقیف کے جرم کے بدلہ میں گرفتار کیا ہے۔ پھر آپؐ وہاں سے جانے کے لئے پلٹے تو اس نے پھر پکارا اے محمد!اَے محمدؐ! اور رسول اللہﷺ بہت رحم کرنے والے اور نرم دل تھے۔ آپؐ اس کے پاس واپس آئے اور فر مایا کیا بات ہے؟ اس نے کہا میں مسلمان ہوتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا اگر تم نے یہ بات اس وقت کہی ہوتی جب تم اختیار رکھتے تھے توتم پوری طرح بامراد ہو جاتے۔ پھر حضورؐ جانے لگے تو اس نے پکارا اے محمد !ؐ اے محمدؐ ! آپؐ اس کے پاس آئے اور پوچھا کیا بات ہے؟ اس نے کہا میں بھوکا ہوں مجھے کھانا کھلائیں، میں پیاسا ہوں مجھے پانی پلائیں۔ آپؐ نے فرمایا یہ(تو) تمہاری ضرورت ہے٭۔ پھر دو آدمیوں کے عوض اسے آزاد کردیا گیا۔ راوی کہتے ہیں کہ انصار کی ایک عورت قید ہوگئی اور عضباء (اونٹنی) بھی پکڑی گئی۔ وہ عورت بیڑیوں میں تھی اور وہ لوگ اپنے مویشی اپنے گھروں کے سامنے رات کو رکھتے تھے۔ ایک رات وہ عورت بندھنوں سے چھٹ گئی۔ وہ اونٹوں کے پاس آئی جب بھی وہ کسی اونٹ کے قریب آتی تو وہ بلبلاتا اور وہ اسے چھوڑدیتی یہانتک کہ وہ عضباء کے پاس پہنچی وہ نہیں بلبلائی۔ راوی کہتے ہیں اور وہ سدھائی ہوئی اونٹنی تھی وہ عورت اس کی پشت پر سوار ہوگئی اور اسے انگیخت کیا اور وہ چل پڑی۔ ان لوگوں کو(اس کے بھاگنے کا) علم ہو گیا۔ انہوں نے اسے پکڑناچاہا۔ اس نے انہیں عاجز کر دیا۔ راوی کہتے ہیں کہ اس عورت نے اللہ کی خاطر نذر مانی کہ اگر اللہ اسے اس اونٹنی کے ذریعہ نجات دے گا تو وہ ضرور اس کو ذبح کردے گی۔ جب وہ مدینہ آئی اور لوگوں نے اسے دیکھا تو کہا یہ رسول اللہﷺ کی اونٹنی عضباء ہے۔ وہ عورت کہنے لگی اس نے تو نذر مانی ہے کہ اگر اللہ اسے اس اونٹنی کے ذریعہ نجات دے گا تو وہ اس کی قربانی کرے گی۔ وہ رسول اللہﷺ کے پاس آئے اور آپؐ سے یہ ساری بات بیان کی۔ آپؐ نے فرمایاسبحان اللہ !اس عورت نے اس اونٹنی کو کتنا برا بدلہ دیا ہے یہ نذر مان کر کہ اگر اللہ نے اس اونٹنی کے ذریعہ اسے بچایا تو وہ اسے ذبح کر ڈالے گی۔ کوئی نذر خداکی نافرمانی میں پوری نہ کی جائے اور نہ ہی اس میں نذر جائز ہے جس کا بندہ مالک نہیں۔ ایک روایت میں (لَاوَفَائَ لِنَذْرٍ فِیْ مَعْصِیَۃٍ کی بجائے) لَا نَذْرَ فِیْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ کے الفاظ ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ عضباء اونٹنی بنوعُقیل کے ایک شخص کی تھی اور وہ حج کرنے والوں کی سب سے آگے نکل جانے والی سواریوں میں سے تھی۔ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ وہ (عورت) ایک سدھائی ہوئی اونٹنی پر سوار تھی جس کے گلے میں گھنٹی تھی۔ اسی طرح اس روایت میں (نَاقَۃٌ مُنَوَّ قَۃٌ کی بجائے) نَاقَۃٌ مُدَرَّبَۃٌکے الفاظ ہیں کہ وہ اونٹنی تربیت یافتہ تھی۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا جو اپنے دو بیٹوں کے درمیان سہارا دے کر لے جایا جارہا تھا۔ آپؐ نے فرمایا اسے کیا ہوا ہے؟ انہوں نے کہا اس نے نذر مانی ہے کہ چل کر (بیت اللہ) جائے گا۔ آپؐ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص کے اپنے نفس کو عذاب میں ڈالنے سے بے نیاز ہے اور آپؐ نے اسے ارشاد فرمایا کہ وہ سوار ہو جائے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ایک بوڑھے شخص کو پایا جو اپنے دو بیٹوں کے درمیان ان کا سہارا لے کر چل رہا تھا۔ نبیﷺ نے فرمایا اسے کیا ہوا ہے؟ اس کے دونوں بیٹوں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! اس نے نذر مانی تھی۔ نبیﷺ نے فرمایا اے شیخ سوار ہو جاؤ۔ یقینا اللہ تجھ سے اور تیری نذر سے مستغنی ہے۔