بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 22 hadith
حضرت ام عطیہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں ہمیں عیدین کے لئے نکلنے کا حکم دیا جاتاتھا اور پردہ نشین اور کنواری عورتوں کو(بھی)۔ وہ کہتی تھیں حیض والی عورتیں (بھی)نکلیں گی اور وہ لوگوں سے پیچھے رہیں گی اور لوگوں کے ساتھ تکبیرات کہیں گی۔
حضرت ام عطیہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں ارشاد فرمایا کہ ہم عید الفطر اور عید الاضحی میں کنواریوں، حیض والی اور پردہ نشین عورتوں کو لایا کریں۔ حیض والی عورتیں نماز سے الگ رہیں۔ اور بھلائی اور مسلمانوں کی دعا میں حاضر ہوں۔ میں نے کہایا رسولؐ اللہ! ہم میں سے کسی کے پاس چادر نہیں ہوتی۔ آپؐ نے فرمایا اس کی بہن اس کو اپنی چادر اوڑھنے کودے۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ عید الاضحیہ یا عید الفطر کے دن نکلے۔ آپؐ نے دو رکعت نماز پڑھی۔ آپؐ نے اس سے پہلے یا بعد کوئی نماز نہیں پڑھی۔ پھر آپؐ عورتوں کی طرف تشریف لے گئے۔ آپؐ کے ساتھ حضرت بلالؓ تھے۔ آپؐ نے انہیں صدقہ کا حکم دیا۔ عورتیں اپنی بالیاں اور اپنے ہارڈالنے لگیں۔
حضرت عمر بن خطابؓ نے ابو واقد لیثی سے پوچھا کہ رسول اللہﷺ عید الاضحی اور عید الفطر میں قرآن کا کون سا حصہ پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا آپؐ دونوں میں ق وَالقُرآنِ المَجید اور اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ القَمَرُ پڑھا کرتے تھے۔
حضرت ابو واقدؓ لیثی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں مجھ سے حضرت عمر بن خطابؓ نے اس کے بارہ میں پوچھاجو رسول اللہﷺ عید کے دن پڑھا کرتے تھے۔ میں نے کہا اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ اور ق وَالقُرآنِ المَجید۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ میرے پاس حضرت ابو بکرؓ تشریف لائے اور میرے ہاں انصارکی لڑکیوں میں سے دو لڑکیاں نغمے گا رہی تھیں جو انصارؓ نے بعاث کے موقعہ پر کہے تھے۔ وہ (حضرت عائشہؓ ) فرماتی ہیں وہ دونوں پیشہ ور گانے والی عورتیں نہیں تھیں۔ اس پر حضرت ابو بکرؓ نے کہا کیا رسول اللہﷺ کے گھر شیطان کا ساز؟ اور یہ عید کے دن ہوا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایااے ابوبکرؓ ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے اور یہ ہماری عید ہے۔ اور دوسری روایت میں ہے کہ دو لڑکیاں دف بجا رہی تھیں۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکرؓ ان کے پاس تشریف لائے اور ان کے پاس دو لڑکیاں مِنٰی کے ایام میں گانے گا رہی تھیں اور (دف)بجا رہی تھیں اور رسول اللہﷺ کپڑا اوڑھے ہوئے تھے۔ حضرت ابو بکرؓ نے ان دونوں کو ڈانٹا۔ رسول اللہﷺ نے اپنے اوپر سے کپڑا ہٹایا اور فرمایا۔ اے ابو بکرؓ ان کو چھوڑ دو کہ یہ عید کے دن ہیں۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا ہے۔ آپؐ اپنی چادر کے ساتھ مجھ پر پردہ کر رہے تھے اور میں اہلِ حبشہ کو دیکھ رہی تھی اور وہ کھیل رہے تھے اور میں لڑکی سی تھی۔ پس اندازہ کرو ایک ہنس مکھ، خوش مزاج، کمسن لڑکی کے بارہ میں (کہ وہ کتنی دیر دیکھتی رہی ہو گی)۔
حضرت عائشہؓ کہتی ہیں خدا کی قسم! میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا ہے۔ آپؐ میرے حجرہ کے دروازے پر کھڑے تھے اور حبشہ کے لوگ رسول اللہﷺ کی مسجد میں اپنے ہتھیاروں سے کھیل رہے تھے۔ آپؐ مجھے اپنی چادر سے پردہ کئے ہوئے تھے تاکہ میں ان کا کھیل دیکھوں۔ آپؐ میری وجہ سے کھڑے رہے یہانتک کہ میں وہاں سے ہٹ گئی۔ پھر میں واپس ہوئی۔ پس تم اندازہ کرو کم عمر لڑکی کا جو کھیل کی شائق تھی۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں رسول اللہﷺ اندر تشریف لائے اور میرے پاس دو لڑکیاں بعاث کے گیت گا رہی تھیں۔ آپؐ بستر پر لیٹ گئے اور اپنا چہرہ دوسری طرف کر لیا۔ حضرت ابوبکرؓ اندر آئے اور مجھے جھڑکا اور کہا شیطان کا سازرسول اللہﷺ کے پاس! رسول اللہﷺ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا ان کو چھوڑ دو۔ جب حضورکی توجہ نہ رہی تو میں نے انہیں آنکھ سے اشارہ کیا تو وہ دونوں باہر چلی گئیں۔ اور عید کے دن حبشہ والے اپنی ڈھال اور برچھیوں کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔ میں نے رسول اللہﷺ سے پوچھا یا آپؐ نے فرمایا کیاتم دیکھنا چاہتی ہو؟ میں نے کہا جی ہاں۔ پس آپؐ نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کرلیا۔ میرا رخسار آپؐ کے رخسار پر تھااور آپؐ فرماتے تھے۔ اے بنی ارفدہ! جاری رکھو یہانتک کہ جب میں تھک گئی۔ آپؐ نے فرمایا بس! میں نے کہاہاں۔ آپؐ نے فرمایا تو پھرجاؤ۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ حبشہ کے لوگ عید کے دن اُچھلتے کودتے ہوئے مسجد میں آئے۔ نبیﷺ نے مجھے بلایا۔ میں نے اپنا سر آپؐ کے کندھے پر رکھ دیا اور میں ان کا کھیل دیکھنے لگی۔ یہانتک کہ میں خود ہی واپس چلی گئی۔