بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 58 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ایک بہت بڑا موٹا آدمی آئے گا وہ اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی وزن نہیں رکھتا ہوگا۔ (یہ آیت) پڑھو فَلَا نُقِیْمُ لَہُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَزْنًا ترجمہ: اور قیامت کے دن ہم انہیں کوئی وزن نہیں دیں گے۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں ایک یہودی عالم نبیﷺ کے پاس آیا اور اُس نے کہا اے محمدؐ ! یا (کہا) اے ابو القاسم! یقینا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آسمانوں کو ایک انگلی پر اٹھائے ہوگا اور زمینوں کو ایک انگلی پر اور پہاڑوں اور درختوں کو ایک انگلی پر اور پانی اور مٹی کو ایک انگلی پر اور باقی تمام مخلوق کو ایک انگلی پر۔ پھر ان کو ہلائے گا اور فرمائے گا میں بادشاہ ہوں، میں بادشاہ ہوں۔ رسول اللہﷺ نے (یہودی) عالم کی بات پر تعجب کرتے ہوئے اور اس کی تصدیق میں ہنسے۔ پھر آپؐ نے یہ آیت تلاوت فرمائی وَمَا قَدَرُواللَّہَ حَقَّ قَدْرِہِ۔۔۔۔ ترجمہ: اور انہوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جیسا کہ اس کی قدر کا حق تھا اور قیامت کے دن زمین تمام تر اسی کے قبضہ میں ہوگی اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے وہ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس سے جو وہ شرک کرتے ہیں۔ ایک روایت میں (جَائَ حَبْرٌ مِنَ الیَھُودِ اِلَی النَّبِیِّﷺ کی بجائے) جَائَ حَبْرٌ مِنَ الیَھُودِ اِلَی رَسوُلِ اللّٰہﷺ کے الفاظ ہیں اور اس روایت میں ثُمَّ یَھُزُّ ھُنَّ کے الفاظ نہیں ہیں۔ مگر اس روایت میں یہ بھی بیان ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا کہ آپؐ کھل کھلا کر ہنسے اس کی بات پر تعجب کرتے ہوئے جو اس نے کہا اس کی تصدیق کرتے ہوئے۔ پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا اور آپؐ نے آیت پڑھی وَمَا قَدَرُواللَّہَ حَقَّ قَدْرِہِ۔۔۔۔ ترجمہ: انہوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جیسا کہ اس کی قدر کا حق تھا۔
حضرت عبداللہؓ بیان کرتے ہیں اہل کتاب میں سے ایک شخص رسول اللہﷺ کے پاس آیا اور کہا اے ابو القاسم! اللہ تعالیٰ آسمانوں کو ایک انگلی پر اٹھائے گا اور زمینوں کو ایک انگلی پر اور درختوں اور مٹی کو ایک انگلی پر اور مخلوق کو ایک انگلی پر۔ پھر وہ کہے گا میں بادشاہ ہوں، میں بادشاہ ہوں۔ راوی کہتے ہیں میں نے دیکھا کہ نبیﷺ کھل کھلا کر ہنسے پھر آپؐ نے یہ آیت پڑھی وَمَا قَدَرُوا للّٰہَ حَقَّ قَدْرِہِ ترجمہ: انہوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جیسا کہ اس کی قدر کا حق تھا۔ ایک روایت میں وَالشَّجَرَ عَلیَ اِصْبَعٍ وَالثَّریَ عَلَی اِصْبَعٍ کے الفاظ ہیں۔ اس روایت میں وَالْخَلَائِقَ عَلیَ اِصْبَعٍ کے الفاظ نہیں ہیں اور اَوِ الْجِبَالُ عَلیَ اِصْبَعٍ کے الفاظ ہیں نیز اس میں تَصْدیقاً لَہُ وَتَعَجُّباً لِمَا قَالَ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کیا کرتے تھے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو اپنی مٹھی میں لے لیگا اور آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ سے لپیٹ لے گا پھر فرمائے گا ’’میں بادشاہ ہوں، کہاں ہیں زمین کے بادشاہ!
حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آسمانوں کو لپیٹ لے گا پھر ان کو اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑے گا پھر فرمائے گا میں بادشاہ ہوں ! کہاں ہیں جابر، کہاں ہیں متکبر؟ پھر زمینوں کو اپنے بائیں ہاتھ سے لپیٹے گا پھر فرمائے گا میں بادشاہ ہوں، جابر کہاں ہیں، تکبر کرنے والے کہاں ہیں !
عبداللہ بن مِقسم سے روایت ہے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی طرف دیکھا۔ وہ کس طرح رسول اللہﷺ سے روایت بیان کر رہے ہیں آپؐ نے فرمایا اللہ عزّ وجل اپنے آسمانوں اور اپنی زمینوں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑے گا اور فرمائے گا میں اللہ ہوں - اور آپؐ اپنی انگلیوں کو بند کرتے اور کھولتے تھے - میں بادشاہ ہوں، یہانتک کہ میں نے منبر کو دیکھا کہ وہ نیچے سے ہل رہا ہے میں سوچنے لگا کیا وہ گر تو نہیں جائے گا اور رسول اللہﷺ اس پر ہیں۔ ایک روایت میں (عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بنِ مِقْسَمٍ اَنَّہُ نَظَرَ اِلیٰ عَبْدِ اللّٰہِ ابنِ عُمَرَ کی بجائے) عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ مِقْسَمٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ابنِ عُمَرَ قَالَ رَ أَیتُ رَسُولَ اللّٰہِﷺ عَلَی الْمِنْبَرِ وَھُوَ یَقُولُ یَأخُذُ الْجَبَّارُ عَزَّوَجَلَّ سَمَاوَاتِہِ وَاَرْضِیْہِ کے الفاظ ہیں یعنی میں نے رسول اللہﷺ کو منبر پر دیکھا۔ آپؐ فرما رہے تھے (خدائے) جبّار بزرگ و برتر آسمانوں اور زمینوں کو اپنے ہاتھوں میں لے گا۔ پھر راوی نے یعقوب کی روایت کی مانند روایت بیان کی۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا اللہ بزرگ و برتر نے زمین کو ہفتہ کے دن پیدا کیا اور اس میں پہاڑ اتوار کے دن بنائے اور درخت پیر کے دن پیدا کئے اور ناپسندیدہ چیزوں کو منگل کے دن پیدا کیا اور نور کو بدھ کے دن پیدا کیا اور جمعرات کو اس میں جانور پھیلائے اور جمعہ کے دن تمام مخلوق کے آخر میں عصر کے بعد جمعہ کی آخری ساعتوں میں سے عصر سے رات ہونے تک حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا۔
حضرت سہل بن سعدؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا قیامت کے دن لوگوں کو مٹیالی سفید زمین پر ’جیسے میدہ کی روٹی ہوتی ہے‘ اکٹھا کیا جائے گا۔ اس میں کسی کے لئے کوئی علامت نہ ہوگی۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے اللہ عزوجل کے اس قول کے متعلق سوال کیا کہ یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضِ غَیْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمَاوَاتِ جس دن زمین ایک مختلف زمین میں تبدیل کر دی جائے اور آسمان بھی‘‘ تو یا رسولؐ اللہ! اس دن لوگ کہاں ہوں گے؟ آپؐ نے فرمایا (پُلِ) صراط پر۔
حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا قیامت کے دن زمین ایک روٹی (کی مانند) ہوگی۔ اسے جبّار (خدا) اپنے ہاتھ سے ایسے الٹے گا جیسا کہ تم میں سے کوئی سفر میں اپنی روٹی کو الٹتا ہے۔ (یہ روٹی) اہل جنت کی مہمان نوازی کے لئے ہوگی۔ راوی کہتے ہیں پھر آپؐ کے پاس ایک یہودی آیا اور اس نے کہا اے ابو القاسم! رحمن آپ پر برکتیں نازل فرمائے۔ کیا میں آپ کو قیامت کے دن جنت والوں کی مہمان نوازی کے بارہ میں بتاؤں؟ آپؐ نے فرمایا کیوں نہیں۔ اس نے کہا زمین ایک روٹی کی طرح ہو گی -جیسا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا- راوی کہتے ہیں اس پر رسول اللہﷺ نے ہماری طرف دیکھا اور ہنسے اور کھل کھلا کر ہنسے۔ پھر اس نے کہا میں آپ کو ان کے سالن کے بارہ میں بتاؤں؟ آپؐ نے فرمایا ہاں! اُس نے کہا اُن کا سالن بالام اور نون ہوگا۔ صحابہؓ نے پوچھا یہ کیا ہے؟ اس نے کہا بیل اور مچھلی۔ جس کے کلیجہ کے ایک ٹکڑے سے ستر ہزار آدمی کھائیں گے۔