بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 58 hadith
حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا یقینا ابلیس کا تخت سمندر پر ہے۔ وہ اپنے لشکر بھیجے گا اور وہ لوگوں میں فتنہ ڈالیں گے۔ ان میں سے اس کے نزدیک سب سے بڑا وہ ہے جو فتنہ ڈالنے میں ان میں سب سے بڑا ہے۔
حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ابلیس اپنا عرش پانی پر رکھے گا۔ پھر وہ اپنے لشکر بھیجے گا ان میں سے اس کا سب سے زیادہ مقرب وہ ہوتا ہے جو اُن میں سے سب سے زیادہ فتنہ پرداز ہے۔ ان میں سے ایک آکر کہتا ہے میں نے فلاں فلاں کام کیا۔ وہ کہتا ہے تم نے کچھ نہیں کیا راوی کہتے ہیں۔ پھر دوسرا آتا ہے اور کہتا ہے میں نے چھوڑا نہیں یہاں تک کہ میں نے فلاں شخص اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈال دی ہے۔ پھر وہ اسے اپنے قریب کرے گا اور کہے گا تم بہت ہی اچھے ہو۔ اعمش کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ وہ اس کو اپنے ساتھ چمٹا لیتا ہے۔
حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا۔ شیطان اپنے لشکر بھیجے گا اور وہ لوگوں میں فتنہ ڈالیں گے۔ ان میں سے اس کے نزدیک سب سے زیادہ صاحبِ منزلت وہ ہوگا جو سب سے بڑھ کر فتنہ پرداز ہوگا۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی ایسا نہیں مگر اس کے ساتھ اس کا ساتھی جنّوں میں سے مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں (صحابہؓ) نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! کیا آپؐ کے ساتھ بھی؟ آپؐ نے فرمایا میرے ساتھ بھی، لیکن اللہ نے اس کے خلاف میری مدد فرمائی ہے اور وہ مسلمان ہوگیا ہے اور وہ مجھے خیر ہی کی تلقین کرتا ہے۔ ایک روایت میں (قَدْ وُکّلَ بِہِ قرینُہُ مِنَ الجِنِّ کی بجائے) قَدْ وُکّلَ بِہِ قَرینُہُ مِنَ الجِنِّ وَقَرینُہُ مِنَ الْمَلاَئِکَۃِ کے الفاظ ہیں۔
نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک رات رسول اللہﷺ ان کے پاس سے گئے۔ وہ کہتی ہیں مجھے اس پر غیرت آئی۔ آپؐ آئے تو آپؐ نے ملاحظہ فرمایا جو میں کر رہی تھی آپؐ نے فرمایا تمہیں کیا ہوا ہے عائشہ کیا غیرت آگئی ہے؟ میں نے کہا مجھے کیا ہوا ہے کہ مجھ جیسی (عورت) کو آپؐ جیسے (مَرد) کے ہاں غیرت نہ آتی؟ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا کیا تیرے پاس تیرا شیطان آیا ہے۔ انہوں نے کہا یا رسولؐ اللہ! کیا میرے ساتھ شیطان ہے؟ آپؐ نے فرمایا ہاں۔ میں نے کہا اور کیا ہر انسان کے ساتھ؟ آپؐ نے فرمایا ہاں میں نے کہا اور آپ کے ساتھ بھی یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے فرمایا ہاں لیکن میرے رب نے اس کے مقابلہ میں میری مدد فرمائی ہے۔ یہاں تک کہ وہ مسلمان ہوگیا۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو ہرگز اس کا عمل نجات نہیں دے گا۔ ایک شخص نے کہا کیا آپؐ کو بھی نہیں یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے فرمایا مجھے بھی نہیں سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے لیکن تم سیدھا راستہ اختیار کرو۔ ایک روایت میں (اَنْ یَتَغَمَّدَ نِیَ اللّٰہُ مِنْہُ بِرَحْمَۃٍ کی بجائے) اَنْ یَتَغَمَّدَ نِیَ اللّٰہُ بِرَحْمَۃٍ مِنْہُ وَفَضْلٍ کے الفاظ ہیں۔ مگر اس روایت میں وَلَکِنْ سَدِّدُوا کے الفاظ نہیں ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کسی کو بھی اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ کہا گیا یا رسول اللہ! آپؐ کو بھی نہیں؟ آپؐ نے فرمایا مجھے بھی نہیں سوائے اس کے کہ میرا رب مجھے رحمت سے ڈھانپ لے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں نبیﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں ہے جس کا عمل اسے نجات دے۔ انہوں (صحابہؓ) نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! اور آپؐ کو بھی نہیں؟۔ آپؐ نے فرمایا ہاں مجھے بھی نہیں سوائے اس کے کہ اللہ مجھے اپنی جناب سے مغفرت اور رحمت کے ساتھ ڈھانپ لے - (راوی) ابن عون نے اپنا ہاتھ اس طرح کیا اور اپنے سر کے اوپر اشارہ کیا - اور مجھے بھی نہیں سوائے اس کے کہ اللہ مجھے اپنی جناب سے مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے۔
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کوئی شخص بھی ایسا نہیں جس کو اس کا عمل نجات دلا دے۔ انہوں (صحابہؓ ) نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! آپؐ کو بھی نہیں فرمایا اور مجھے بھی نہیں سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت سے آ ملے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی شخص کو اس کے اعمال جنت میں داخل نہیں کریں گے۔ انہوں (صحابہؓ ) نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! آپؐ کو بھی نہیں؟ آپؐ نے فرمایا اور مجھے بھی نہیں سوائے اس کے کہ اللہ اپنی جناب سے فضل اور رحمت کے ساتھ مجھے ڈھانپ لے۔