حضرت سمرہؓ بن جندب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ چار کلمات اللہ کو سب سے پیارے ہیں۔ سُبْحَانَ اللَّہِ، اَلْحَمْدُ لِلَّہِ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللَّہ ُ اور اَللَّہُ اَکْبَر۔ ان (کلمات) میں سے جس سے بھی شروع کرو تو کوئی حرج نہیں۔ اپنے لڑکے کا نام یسار، رباح، نجیح اور افلح نہ رکھو، کیونکہ جب تم کہو گے کہ کیا وہ یہاں ہے اور وہ نہ ہوگا تو وہ کہے گا نہیں۔ پس یہ چار (نام) ہیں ان پر میری طرف سے ہرگز اضافہ مت کرو۔
يَقُولُ أَرَادَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَنْهَى عَنْ أَنْ يُسَمَّى بِيَعْلَى وَبِبَرَكَةَ وَبِأَفْلَحَ وَبِيَسَارٍ وَبِنَافِعٍ وَبِنَحْوِ ذَلِكَ ثُمَّ رَأَيْتُهُ سَكَتَ بَعْدُ عَنْهَا فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا ثُمَّ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يَنْهَ عَنْ ذَلِكَ ثُمَّ أَرَادَ عُمَرُ أَنْ يَنْهَى عَنْ ذَلِكَ ثُمَّ تَرَكَهُ .
حضرت جابرؓ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے اس سے منع کرنے کا ارادہ فرمایا کہ یعلیٰ، برکہ، افلح، یسار اور نافع اور اس طرح کے نام رکھے جائیں لیکن پھر میں نے دیکھا کہ آپؐ ان سے (منع کرنے سے) خاموش رہے اور آپؐ نے کچھ نہیں فرمایا پھر رسول اللہﷺ کا وصال ہوگیا اور آپؐ نے اس سے منع نہ فرمایا۔ پھر حضرت عمرؓ نے اس سے منع کرنے کا ارادہ فرمایا پھر رہنے دیا۔
قَالَ كَانَتْ جُوَيْرِيَةُ اسْمُهَا بَرَّةَ فَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْمَهَا جُوَيْرِيَةَ وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُقَالَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ بَرَّةَ . وَفِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ عَنْ
كُرَيْبٍ
قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ .
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ حضرت جویریہؓ کا نام برّہ تھا۔ رسول اللہﷺ نے ان کا نام بدل کر جویریہؓ رکھ دیا اور آپؐ ناپسند کرتے تھے کہ یہ کہا جائے کہ آپؐ برّہ کے پاس سے باہر گئے۔
زینب بنت امّ سلمہ کہتی ہیں کہ میرا نام بَرّہ تھا تو رسول اللہ ﷺ نے میرا نام زینب رکھ دیا۔ نیز انہوں نے کہا کہ حضرت زینبؓ بنتِ جحش کا نام بَرّہ تھا۔ آپؐ کے پاس آئیں تو آپؐ نے ان کا نام زینبؓ رکھ دیا۔
محمد بن عمرو بن عطاء سے روایت ہے کہ میں نے اپنی بیٹی کا نام برّہ رکھا۔ تو حضرت زینب بنت ابی سلمہؓ نے مجھے کہا کہ رسول اللہﷺ نے اس نام سے منع فرمایا ہے۔ میرا نام برّہ رکھا گیا تھا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اپنے آپ کو نیک نہ ٹھہراؤ۔ اللہ تم میں سے نیکوں کو خوب جانتا ہے۔ لوگوں نے عرض کیا اس کا کیا نام رکھیں؟ آپﷺ نے فرمایا اس کا نام زینب رکھ دو۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا یقیناً اللہ کے نزدیک سب سے برا نام اس شخص کا ہے جو اپنا نام مَلِکَ الْاَمْلَاک رکھتا ہے۔ ابن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں مزید کہا کہ اللہ عزوجل کے سوا کوئی مالک نہیں ہے۔ سفیان کہتے ہیں جیسے شہنشاہ۔ احمد بن حنبل نے کہا کہ میں نے ابو عمر سے أَخْنَعَ کے (معنی کے) بارہ میں پوچھا تو انہوں نے کہا أَوْضَعَ یعنی بدترین۔