بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 53 hadith
سوید بن مقرِّن سے روایت ہے کہ ان کی ایک باندی کو کسی شخص نے تھپڑ مارا۔ اسے سوید نے کہا کیا تمہیں پتہ نہیں کہ چہرہ قابلِ احترام ہے۔ پھر انہوں نے بیان کیا مجھے یاد ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں مَیں اپنے بھائیوں میں ساتواں تھا اور ہمارا ایک ہی خادم تھا ہم میں سے ایک نے اسے تھپڑ مار دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں یہ ارشاد فرمایا کہ ہم اس (غلام) کو آزاد کر دیں۔
حضرت ابو مسعود ؓ بدری کہتے ہیں کہ میں اپنے ایک غلام کو دُرہ سے مار رہا تھا میں نے پیچھے سے آواز سُنی۔ ابو مسعود جان لو۔ میں غصہ کی وجہ سے آواز پہچان نہ سکا۔ وہ کہتے ہیں جب آپؐ میرے قریب آئے تو کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ ہیں۔ آپؐ فرما رہے تھے جان لو اے ابو مسعود! جان لو اے ابو مسعود! میں نے ہاتھ سے دُرّہ پھینک دیا۔ آپؐ نے فرمایا جان لو ابو مسعود! اللہ تجھ پر اس سے زیادہ قدرت رکھتا ہے جتنی تم اس غلام پر (رکھتے ہو)۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہا کہ اس کے بعد کبھی کسی غلام کو نہیں ماروں گا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ درّہ میرے ہاتھ سے آپ ﷺ کے رُعب کی وجہ سے گر گیا۔
حضرت ابو مسعود ؓ انصاری سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے ایک غلام کو مار رہا تھا میں نے اپنے پیچھے سے آواز سنی ابو مسعود! جان لو یقینا اللہ تم پر اس سے زیادہ قدرت رکھتا ہے جتنی تم اس پر (رکھتے ہو) میں مُڑا تو رسول اللہﷺ تھے۔ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! یہ خدا کی خاطر آزاد ہے۔ آپؐ نے فرمایا اگر تم ایسا نہ کرتے تو آگ تمہیں جھلس دیتی یا فرمایا آگ تمہیں چھوتی۔
حضرت ابو مسعودؓ سے روایت ہے کہ وہ اپنے غلام کو مار رہے تھے وہ کہنے لگا میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں وہ پھر اسے مارنے لگے۔ اس نے پھر کہا میں اللہ کے رسولؐ کی پناہ میں آتا ہوں تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا خدا کی قسم! اللہ تم پر اس سے زیادہ قدرت رکھتا ہے جتنی تم اس پر رکھتے ہو۔ راوی کہتے ہیں پھر حضرت ابو مسعودؓ نے اسے آزاد کر دیا۔ ایک اور روایت میں اَعُوْذُ بِاللّٰہِ اَعُوْذُ بِرَسُوْلِ اللّٰہِﷺ کے الفاظ نہیں ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو القاسم ﷺ نے فرمایا جس نے اپنے غلام پر زنا کی تہمت لگائی قیامت کے دن اس پر حد قائم کی جائے گی سوائے اس کے کہ وہ (غلام) ایسا ہی ہو جیسا کہ اس نے کہا۔ ایک اور روایت میں سَمِعْتُ اَبَا الْقَاسِمِ ﷺ نَبِیَّ التَّوْبَہِ کے الفاظ ہیں۔
معرور بن سُوید کہتے ہیں ہم ربذہ میں حضرت ابو ذرؓ کے پاس سے گذرے۔ ان پر ایک چادر تھی اور ان کے غلام پر بھی ویسی ہی چادر تھی۔ ہم نے کہا اے ابو ذر! اگر آپ دونوں چادروں کو جمع کرتے تو ایک جوڑا بن جاتا۔ انہوں نے کہا میرے اور میرے بھائیوں میں سے ایک شخص کے درمیان اختلاف ہو گیا اس کی ماں عجمی تھی میں نے اسے اس کی ماں کا طعنہ دیا۔ اس نے میری شکایت نبی ﷺ کے پاس کردی میں نبی ﷺ سے ملا تو آپؐ نے فرمایا اے ابو ذر تم ایسے شخص ہو جس میں جاہلیت پائی جاتی ہے۔ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! جو لوگوں کو گالی دیتا ہے، لوگ اس کے باپ اور ماں کو گالی دیتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا اے ابو ذر! تم ایسے شخص ہو جس میں جاہلیت ہے۔ یہ (غلام) تمہارے بھائی ہیں۔ اللہ نے انہیں تمہارے ماتحت کر دیا ہے۔ پس جو تم کھاتے ہو اس میں سے انہیں (بھی) کھلاؤ اور جو خود پہنتے ہو اس میں سے انہیں (بھی) پہناؤ اور انہیں اس کام کا بوجھ نہ ڈالو جو انہیں مغلوب کردے اور اگر تم ان پر بوجھ ڈالو تو خود ان کی مدد کرو۔ ایک اور روایت میں اِنَّکَ امْرُؤٌ فِیْکَ جَاھِلِیَّۃٌ کے بعد یہ اضافہ ہے کہ مَیں نے عرض کیا میری بڑھاپے کی اس گھڑی کے باوجود! آپؐ نے فرمایا ہاں۔ ایک اور روایت میں ہے آپﷺ نے فرمایا ہاں بڑھاپے کی تمہاری اِس گھڑی کے باوجود۔ ایک اور روایت میں (فَاِنْ کَلَّفْتُمُوْھُمْ فَاَعِیْنُوْھُمْ کی بجائے) فَاِنْ کَلَّفَہُ مَایَغْلِبُہُ فَلْیُعِنْہ کے الفاظ ہیں۔ ایک اور روایت میں فَلْیَبِعْہُ (اسے فروخت کرو) کی بجائے فَلْیُعِنْہُ عَلَیْہِ (اس کی اس کام میں مدد کرے) کے الفاظ ہیں۔ اور ایک اور روایت میں نہ تو فَلْیَبِعْہ کے الفاظ ہیں اور نہ ہی فَلْیُعِنْہُ کے الفاظ ہیں بلکہ روایت کے آخر میں الفاظ یہ ہیں وَلَا یُکَلِّفْہُ مَا یَغْلِبُہُ۔
معرور بن سُوید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ذرؓ کو دیکھا۔ انہوں نے ایک جوڑا پہن رکھا تھا اور ان کے غلام نے بھی ویسا ہی پہنا ہوا تھا۔ میں نے اس بارہ میں ان سے سوال کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں انہوں نے ایک شخص کو گالی دی اور اس کی ماں کا اسے طعنہ دیا۔ وہ کہتے ہیں وہ شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپؐ سے اس بات کا ذکر کیا۔ نبی ﷺ نے (مجھے) فرمایا تم ایسے شخص ہو جس میں جاہلیت ہے۔ (یہ تمہارے خادم) تمہارے بھائی ہیں اور تمہارے کاموں کا خیال رکھنے والے ہیں اور انہیں اللہ نے تمہارے ماتحت کیا ہے۔ پس جس کا بھائی اس کے ماتحت ہو تو چاہئے کہ وہ جو خود کھائے اس میں سے اسے کھلائے اور جو خود پہنے اسے پہنائے ان کی طاقت سے بڑھ کر ان پر ذمہ داری نہ ڈالو اور اگر ان پر کوئی ایسا بوجھ ڈال دو تو اس پر ان کی مدد کرو۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا غلام کا حق اس کا کھانا اس کا لباس ہے۔ اس پر کام کا بوجھ نہ ڈالا جائے مگر جس کی وہ طاقت رکھتا ہو۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کے لئے اس کا خادم کھانا تیار کرے۔ اور وہ اسے اس کے پاس لے کر آئے اور اس نے اس کی گرمی اور دھوئیں سے تکلیف اٹھائی ہے تو چاہئے کہ وہ اسے اپنے پاس بٹھائے اور وہ بھی کھانا کھائے۔ اگر کھانے والے زیادہ ہوں اور کھانا تھوڑا ہو تو چاہئے کہ اس میں سے ایک یا دو لقمے اس کو دے دے۔ راوی داؤد کہتے ہیں یعنی ایک یا دو نوالے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا غلام جب اپنے آقا کی خیر خواہی کرے اور اللہ کی عبادت عمدگی سے کرے تو اس کے لئے اس کا اجر دو دفعہ ہے۔