بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 53 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے نبیﷺ نے فرمایا کہ سلیمان بن داؤدؑ اللہ کے نبی نے کہا آج رات میں ستر عورتوں کے پاس جاؤں گا ان میں سے ہر ایک لڑکا جنے گی جو اللہ کی راہ میں لڑے گا ان کے ساتھی یا فرشتے نے کہا انشاء اللہ کہئے مگر انہوں نے نہ کہا اور وہ (سلیمان) بھول گئے چنانچہ اُن کی بیویوں میں سے صرف ایک نے بچہ جنا وہ بھی ناقص لڑکا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اگر وہ انشاء اللہ کہتے تو ان کی بات سچی ہو جاتی اور یہ ان کی ضرورت پوری کرنے میں کام آتا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ سلیمان بن داؤدؑ نے کہا میں آج رات ستر بیویوں کے پاس جاؤں گا۔ ان میں سے ہر عورت لڑکا جنے گی جو اللہ کی راہ میں لڑے گا۔ ان سے کہا گیا آپ انشاء اللہ کہئے۔ انہوں نے ایسا نہیں کہا پھر وہ بیویوں کے پاس گئے۔ مگر ان میں سے سوائے ایک بیوی کے کسی کے اولاد نہ ہوئی۔ (اور وہ بھی) آدھا انسان۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اگر سلیمان انشاء اللہ کہتے تو ان کی بات سچی ہو جاتی اور یہ (قول) ان کی ضرورت پوری کرنے والا ہوتا۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا سلیمان بن داؤدؑ نے کہا آج رات میں نوّے بیویوں کے پاس جاؤں گا۔ ان میں سے ہر ایک شہسوار جنے گی جو اللہ کی راہ میں لڑے گا۔ ان کے ساتھی نے ان سے کہا آپ انشاء اللہ کہئے۔ انہوں نے انشاء اللہ نہیں کہا۔ وہ ان سب بیویوں کے پاس گئے مگر ان میں سے کوئی بھی حاملہ نہیں ہوئی۔ سوائے ایک کے جس نے آدھا مرد جنا اور اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے اگر وہ انشاء اللہ کہتے تو وہ سب شہسوار ہو کر اللہ کی راہ میں جہاد کرتے۔ ایک اور روایت میں (کُلُّہَا تَأْتِیْ بِفَارِسٍ یُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ کی بجائے) کُلُّہَا تَحْمِلُ غُلَامًا یُجَاہِدُُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہ کے الفاظ ہیں۔ یعنی ان بیویوں میں سے ہر ایک کو ایسے لڑکے کا حمل ہوگا جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا۔
ہمام بن منبہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ وہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہؓ نے رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہوئے ہم سے بیان کیں اور انہوں نے کچھ احادیث کا ذکر کیا جن میں سے (ایک یہ) ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی اپنے اہل کے متعلق اپنی قسم پر مصر ہو تو وہ اللہ کے نزدیک گناہ گار ہے بہ نسبت اس کے کہ وہ کفارہ دے دے جو اللہ نے فرض کیا ہے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے کہا یا رسولؐ اللہ! میں نے جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ میں ایک رات مسجد حرام میں اعتکاف کروں گا آپؐ نے فرمایا اپنی نذر پوری کرو۔ ایک اور روایت میں (أَنْ أَعْتَکِفَ لَیْلَۃً کی بجائے) اِعْتِکَافُ لَیْلَۃٍ کے الفاظ ہیں اور ایک روایت میں ہے کہ راوی نے کہا حضرت عمرؓ نے اپنے اوپر ایک دن کا اعتکاف لازم کیا تھا جبکہ ایک اور روایت میں دن یا رات کا ذکر نہیں ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں حضرت عمرؓ بن خطاب نے رسول اللہﷺ سے پوچھا جبکہ آپؐ طائف سے واپس آنے کے بعد جعرانہ میں تھے اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میں نے جاہلیت میں مسجد حرام میں ایک روز اعتکاف کرنے کی نذر مانی تھی آپؐ کا کیا ارشاد ہے؟ آپؐ نے فرمایا جاؤ اور ایک دن اعتکاف کرو، اور راوی کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے انہیں خمس میں سے ایک لڑکی دی۔ جب رسول اللہﷺ نے لوگوں کے قیدی آزاد کیے اور حضرت عمرؓ نے ان کی آوازیں سنیں وہ کہہ رہے تھے۔ ہمیں رسول اللہﷺ نے آزاد کر دیا تو حضرت عمرؓ نے پو چھا کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے لوگوں کے قیدی آزاد کر دیئے۔ تو حضرت عمرؓ نے کہا اے عبد اللہ! تم اس لڑکی کے پاس جاؤ اور اسے آزاد کردو۔ ایک اور روایت حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی (ﷺ) حنین سے واپس تشریف لائے تو حضرت عمرؓ نے رسول اللہﷺ سے ایک نذر کے بارہ میں پوچھا جو انہوں نے جاہلیت میں ایک دن اعتکاف بیٹھنے کی مانی تھی۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے۔ نافع سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمرؓ کے سامنے رسول اللہﷺ کے جعرانہ سے (تشریف لے جاکر) عمرہ کرنے کا ذکر کیا گیا۔ انہوں نے کہا آپؐ نے وہاں سے عمرہ نہیں کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے جاہلیت میں ایک رات اعتکاف بیٹھنے کی نذر مانی تھی۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے۔ ایک روایت میں اِعْتِکَافُ یَوْمٍ کے الفاظ ہیں۔
زاذان ابی عمر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمرؓ کے پاس آیا انہوں نے ایک غلام آزاد کیا تھا۔ راوی کہتے ہیں انہوں نے زمین سے ایک لکڑی اٹھائی یا کوئی چیز اور کہا اس میں اتنا بھی اجر نہیں جو اس کے برابر ہو سوائے اس کے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے جس نے اپنے غلام کو تھپڑ مارا یا اسے سزا دی تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ وہ اسے آزاد کرے۔
زاذان سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمرؓ نے اپنے ایک غلام کو بلایا اور اس کی پیٹھ پر نشان دیکھا اور اسے کہا میں نے تجھے (یہ) تکلیف دی ہے؟ اس نے کہا نہیں انہوں نے فرمایا تم آزاد ہو۔ راوی کہتے ہیں پھر انہوں نے زمین سے کوئی چیز اُٹھائی اور کہنے لگے میرے لئے اس (غلام کی آزادی) میں اس (تنکے) کے برابر بھی اجر نہیں۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے جس نے اپنے غلام کو مارا جو حد کا مرتکب نہیں ہوا یا اسے تھپڑ لگایا تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ وہ اسے آزاد کر دے۔ ایک اور روایت میں مَنْ لَطَمَ عَبْدَہُ کے الفاظ تو ہیں مگر حَدّ کا ذکر نہیں۔
معاویہ بن سوید سے روایت ہے کہ میں نے اپنے ایک آزاد کردہ غلام کو تھپڑ مارا اور بھاگ گیا پھر ظہر سے کچھ پہلے آیا اور اپنے والد کے پیچھے نماز پڑھی۔ انہوں نے اس (غلام) کو بلایا اور مجھے (بھی) بلایا۔ پھر اسے کہا اس سے بدلہ لے لو مگر اس نے معاف کردیا۔ پھر (میرے والد) کہنے لگے ہم بنی مقرّن رسول اللہ ﷺ کے عہد میں تھے تو ہماری صرف ایک خادمہ ہوتی تھی ہم میں سے کسی نے اسے تھپڑ مار دیا۔ رسول اللہ ﷺ کو یہ بات پتہ چلی تو آپؐ نے فرمایا اسے آزاد کردو۔ انہوں نے کہا ہمارے پاس اس کے سوا کوئی خادم نہیں۔ آپؐ نے فرمایا پھر وہ (فی الحال) اس سے خدمت لے لیں جب اس کی ضرورت نہ رہے تو اسے آزاد کردیں۔
ھلال بن یَساف سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک بوڑھے نے جلد بازی کی اور اپنے خادم کو تھپڑ مار دیا۔ اسے سوید بن مقرِّن نے کہا تیرے پاس اس کو آزاد کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ مجھے یاد ہے ہم بنی مقرِّن کے سات لوگوں کا ایک خادم تھا۔ ہم میں سب سے چھوٹے نے اسے تھپڑ مار دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہم اسے آزاد کر دیں۔ ایک اور روایت میں ہلال بن یساف سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نعمان بن مقرن کے بھائی سوید بن مقرّن کے محلہ میں ریشم فروخت کر رہے تھے باندی باہر نکلی اور اس نے ہم میں سے ایک شخص کو کوئی بات کہہ دی۔ اس (شخص) نے اسے تھپڑ مار دیا جس پر سوید کو غصہ آگیا۔ باقی روایت سابقہ روایت کے مطابق ہے۔